ہفتہ رفتہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان

مقامی سطح پر بھاؤ 6500 روپے،اسپاٹ ریٹ 6550روپے فی من تک گرگئے،روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان


Ehtisham Mufti November 04, 2013
زرعی مداخل کی قیمتیں دنیا بھرکے مقابلے میں زیادہ اورحکومتی توجہ کم ہونے کے باعث پیداوار مسلسل گھٹ رہی ہے، احسان الحق۔ فوٹو: فائل

بھارت میں کپاس کی پیداوار میں غیر متوقع طور پر غیر معمولی اضافے اور اس کی کھپت میں کمی بارے کاٹن ایڈوائزری بورڈ (کیب ) بھارت کی جانب سے رپورٹس جاری ہونے اور چین کی جانب سے 2013-14کے دوران اپنی کاٹن درآمدات میں کمی بارے فیصلے کے اعلان کے بعد گزشتہ ہفتے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان غالب رہا اور اگرسوئی گیس کمپنی نے دسمبرتافروری پنجاب میں ٹیکسٹائل سیکٹر کوممکنہ طور پر گیس کی سپلائی معطل کر دی تو اس اقدام کے نتیجے میں مقامی سطح پرروئی اور پھٹی کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہونے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس ''کو بتایا کہ کیب بھارت کی جانب سے جاری ہونے والی 2013-14کی اولین کاٹن رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2013-14کے دوران بھارتی تاریخ کی سب سے زیادہ روئی کی 37ملین بیلز پیدا ہونے کی توقع ہے جبکہ قبل ازیں 2013-14 کے دوران بھارت میں 34ملین روئی کی بیلز کی پیداوار متوقع تھی کیب کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں رواں سال کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی اضافے کی بڑی وجہ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں 6.40فیصد اضافہ ہے جو سستے زرعی مداخل اور بہترین بیج کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک پچھلے چند سالوں کے دوران اپنی زراعت پر غیر معمولی توجہ دے رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں ابھی تک تصدیق شدہ بی ٹی کاٹن بیج کی منظوری تک نہیں دی گئی جبکہ محکمہ خوراک پنجاب پچھلے چند سالوں کے دوران متعدد بار اپنا گندم خریداری ہدف پورا کرنے کیلیے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے سیڈ کمپنیوں کے گوداموں سے گندم کے تصدیق شدہ بیج کیلیے خریدی گئی گندم زبردستی اٹھا کر اپنا خریداری ہدف پورا کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان میں زرعی مداخل کی قیمتیں بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں جس کے باعث پاکستان میں تقریباً تمام فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں ہر سال کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ 2014-15 کیلیے ابھی تک گندم کی سپورٹ پرائس کا اعلان نہیں کیا گیا حتیٰ کہ 50فیصد سے زائد گندم کی بوائی مکمل ہونے کو ہے، اس سے ہم حکمرانوں کا زراعت میں دلچسپی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔



احسان الحق نے بتایا کہ اگر سوئی نادرن گیس کمپنی نے دسمبر سے فروری تک پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی فراہمی معطل کر دی تو اس سے روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں کمی سے براہ راست پاکستانی کسان متاثر ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈیلوری روئی کے سودے 1.05سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 84.90سینٹ،دسمبر ڈیلوری روئی کے سودے 2.50 سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 76.58سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 1ہزار 31روپے فی کینڈی کمی کے بعد 40ہزار 821روپے فی کینڈی ،چین میں دسمبر ڈیلوری روئی کے سودے 290یو آن فی ٹن کمی کے بعد 20 ہزار 5یو آن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 250روپے فی من مندی کے بعد 6ہزار 550روپے فی من تک گر گئے۔

جبکہ پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے قیمتیں 100سے 200روپے فی من مندی کے بعد 6ہزار 500سے 6ہزار 600روپے فی من تک گر گئیں۔انہوں نے بتایا کہ روئی کی قیمتوں میں مندی کے رجحان کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان نے روئی کی خریداری سست کرنے کے ساتھ ساتھ خریداری شرائط بھی کافی سخت کر دی ہیں جن میں خاص طور پر خریدی گئی روئی کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر کے ساتھ ساتھ خریدی گئی روئی کے معیار میں یکطرفہ کمی کے فیصلے کے بعد اس کی قیمتوں میں بھی کمی جیسے مسائل کے باعث ملک بھر کے کاٹن جنرز نے سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں