مالی سال کے اختتام پر سرکلر ڈیٹ 900ارب ہوجائے گا حکومت کی 100 روزہ اقتصادی کارکردگی کے بارے میں وائٹ پیپر

اسٹیٹ بینک سے حکومت ریکارڈ 650 ارب روپے کا قرضہ لیا


INP November 04, 2013
مرکزی بینک سے حکومت 7.5 ارب روپے یومیہ کی بنیاد پر قرضہ لے رہی ہے جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ کی شدید خلاف ورزی ہے،سابق وفاقی وزیر خزانہ سلیم ایچ مانڈوی والا۔ فوٹو: فائل

سابق وفاقی وزیر خزانہ سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر مہنگائی 16 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

سر کلر ڈیٹ900 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، حکومت اسٹیٹ بینک سے یومیہ 7.5 ارب ڈالر قرضہ لے رہی ہے، پہلے 100 روز کے دوران حکومت نے مرکزی بینک سے 650 ارب روپے قرضہ لیا، بجلی کی ماہوار غیر ادا شدہ واجبات 411 ارب روپے سے بڑھ کر 440 ارب روپے ہو گئے ہیں۔ اتوار کو سابق وزیر خزانہ کی طرف سے موجودہ حکومت کے پہلے 100 روزہ اقتصادی کارکردگی کے حوالے سے جاری وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور حکومت نے پہلے روز کے دوران مہنگائی میں 4 فیصد اضافہ جبکہ مسلم لیگ (ن) لیگ کی حکومت آئی تو ملک میں افراط زر کی شرح 8فیصد تھی جس کا وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی تذکرہ کیا، اس کے برعکس 100 روز پورے ہونے پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی جبکہ اگر یہی صورتحال رہی تو رواں مالی سال کے آخر میں افراط زر کی شرح 16 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔



نیز موجودہ حکومت پہلے روز میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 6.5 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ اسٹیٹ بینک سے حکومت ریکارڈ 650 ارب روپے کا قرضہ لیا، اس لحاظ سے مرکزی بینک سے حکومت 7.5 ارب روپے یومیہ کی بنیاد پر قرضہ لے رہی ہے جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ کی شدید خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے 28 جون 2013 کو 480 ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کے باوجود 31 اگست کو سر کلر ڈیٹ دوبارہ 165 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ اگر یہی رفتار رہی تو رواں مالی سال کے آخر تک سرکلر ڈیٹ 900 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ سابق وزیر خزانہ سلیم ایچ مانڈوی والا نے اپنے وائٹ پیپر میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے 100 روز میں بجلی کی چوری میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بجلی کے بلوں کی نا دہندگی جو کہ جون میں 411 ارب روپے تھی جولائی 2013 میں بڑھ کر 440 ارب روپے ہو گئی۔