افغانستان ڈرون حملوں کیخلاف ریلی کے بعد نیٹو کا آپریشن 4 افراد ہلاک طالبان کا ایک امریکی فوجی مارنے کا

قندھار میں اتحادی افواج کے نائٹ آپریشن کے دوران ہلاکتیں ہوئیں،آپریشن افغان شہریوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا گیا


News Agencies November 04, 2013
افغان پارلیمنٹ کے ارکان کے ایک گروپ نے افغان امریکا سلامتی معاہدے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ۔ فوٹو؛ فائل

ISLAMABAD: افغانستان میں اتحادی فورسز کے آپریشن میں4افراد ہلاک ہوگئے۔

نیٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونیوالے تمام افراد طالبان جنگجو ہیں۔ طالبان نے ایک امریکی فوجی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبے قندھار میں اتحادی افواج نے نائٹ آپریشن کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس میں 4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ آپریشن افغان شہریوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا گیا ہے، افغان شہریوں نے رات کے وقت فضائی حملوں، آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف اتوار کو احتجاجی ریلی نکالی جس میں امریکی اور اتحادی فورسز کی مذمت کی گئی، دوسری جانب طالبان نے جھڑپوںمیں ایک امریکی فوجی اہلکار کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔



دریں اثنا افغان پارلیمنٹ کے ارکان کے ایک گروپ نے افغان امریکا سلامتی معاہدے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے مستقبل قریب میں منعقد ہونیوالے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ ڈپٹی سیکریٹری افغان پارلیمنٹ عرفان اللہ عرفان نے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت اور پارلیمنٹ اسٹاف امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کی مخالف ہے۔ ہم آئندہ ہونیوالے ایسے اجلاس میں شرکت نہیں کرینگے جو معاہدے کے حوالے سے منعقد ہوگا۔ دوسری جانب افغان حکام کا کہنا ہے کہ صدر حامد کرزئی کو اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں امریکا کے ساتھ معاہدے کے بارے میںاجلاس طلب کر سکتے ہیں۔ افغان پارلیمنٹ نے 2014 میں افواج کے انخلا کے بعد امریکی فوج کی محدود تعداد افغانستان میں رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔