دو سیاسی ریلیاں دو پیغام

دنیا کی تاریخ کا سب سے طویل ترین محاصرہ کشمیریوں کا جاری ہے


Editorial December 24, 2019
دنیا کی تاریخ کا سب سے طویل ترین محاصرہ کشمیریوں کا جاری ہے۔ فوٹو: فائل

ADDIS ABABA/BEIJING: گزشتہ روز ملک میں دو بڑے جلسہ عام منعقد ہوئے، جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، پہلا جلسہ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کا تھا، جس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ قوم کشمیر پرکوئی خفیہ معاہدہ یا سازش قبول نہیں کرے گی، عمران خان جمعہ کے احتجاج کا وعدہ بھی بھول گئے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے۔

درحقیقت امیر جماعت اسلامی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں وہ انتہائی صائب ہیں۔ موجودہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں پر جو مظالم کا سلسلہ رواں رکھا ہے، اس کے نتیجے میں بحیثیت پاکستانی باہمی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ہمیں دنیا کے ہر فورم پر ان کی حمایت اور تائید کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

موجودہ محاصرہ کشمیرکے دوران احتجاج کرنیوالے ہزاروں کشمیری نوجوان بینائی سے محروم کر دیے گئے ہیں، اٹھارہ ہزار کشمیری نوجوان گرفتار ہیں جب کہ دنیا کی تاریخ کا سب سے طویل ترین محاصرہ کشمیریوں کا جاری ہے۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور آل پارٹیزکانفرنس منعقد کرکے حکومت کو قوم کو ایک پلان آف ایکشن دینا چاہیے جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دوسری جانب کراچی میں کنوینر ایم کیو ایم (پاکستان) ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کے انصاف کو سراہا ہے لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ عدالتو ں سے اور نظام انصاف سے اعتماد نہ ختم ہو، اس لیے ہم پرویزمشرف کی سزا کو متنازع کہہ رہے ہیں۔

سابق صدر اور فوج کے سربراہ پرویز مشرف کے حوالے جو فیصلہ آیا ہے، اس کے بارے میں عوامی سطح پر احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔ ایم کیوایم کا جلسہ بھی اسی احتجاجی سلسلے کی ایک کڑی کہا جاسکتا ہے ، جس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ڈپٹی کنوینر عامرخان نے کہا کہ جو لو گ بھارتی شہر یت مانگ رہے تھے انھیں مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہیں، ہمیں ججوں پر اعتماد ہے وہ ہی اس گتھی کو سلجھائیں گے۔

عدالتی بنچ کے سربراہ کا ایک پیرا بہت زیادہ تنازع اورمباحثے کا سبب بنا ہے یقینا اعلیٰ عدالتوں میں جب یہ معاملہ جائے گا تو اس پر غورکیا جائے گا اور اس کی شدت کا تدبر اور فہم وفراست سے حل کر کے انصاف اور آئین کا بول بالا کیا جائے گا۔

مقبول خبریں