شام کے مسئلے پر خلیجی ممالک سے اختلافات ہیں جان کیری

شام میں امن اور عبوری حکومت کا قیام چاہتے ہیں، کسی کو بھی عرب ممالک پر حملے کی اجازت نہیں دیں گے


AFP/News Agencies November 05, 2013
شامی لوگوں کے خلاف جنگ کو روک نہ پانا عالمی برادری کی ناکامی ہے،سعودی وزیرخارجہ کے ساتھ مشترکہ بریفنگ۔ فوٹو:فائل

MUZAFFARABAD: امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ سعود الفیصل کیساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا کہ سعودی عرب اور امریکا اسٹرٹیجک اتحادی ہیں۔

ہمارے تعلقات مستحکم ہیں جبکہ شام میں مقاصد کے حصول پر بھی دونوں ممالک کا مکمل اتفاق ہے، شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے اپنے لوگوں کیخلاف ہتھیاروں کے استعمال پر امریکا لاپرواہی نہیں برت سکتا۔ تاہم جان کیری نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن اس مسئلہ کو حل کرنے کیلیے فوجی کارروائی کا مخالف ہے، ہمارے نزدیک مذاکرات کے علاوہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے دیگر ذرائع بہت زیادہ نہیں ہیں۔ تاہم سعود الفیصل نے اس موقع پر عالمی برادری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شامی لوگوں کیخلاف جنگ کو روک نہ پانا انکی ناکامی ہے، مسئلہ کے حل کیلیے مذاکرات کو لامتناہی نہیں ہونا چاہئے، بعض اہم ایشوز پر فوری ایکشن ضروری ہوتا ہے تاکہ انسانی المیہ سے بچا جا سکے۔ قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے سعودی شاہ عبداللہ سے دو گھنٹے تک ملاقات کی۔



قبل ازیں مصر کے بعد سعودی عرب پہنچنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایران کا نام لیے بغیر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی کو باہر سے اپنے عرب دوستوں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔ انھوں نے قاہرہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بیرونی حملے کی صورت میں ہم عرب ملکوں کے ساتھ کھڑے ہونگے، خلیجی ریاستوں کیساتھ شام کے معاملے میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں تاہم ان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں شک نہیں کہ طریقہ کار پر دونوں طرف اختلاف ہے لیکن سب کا اہداف کے حصول، خصوصا شام میں امن اور ایک عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق ہے۔

جان کیری نے کہا امریکا ایران کو جوہری اسلحہ رکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دیگا، ایران جوہری اسلحہ نہیں حاصل کر سکے گا یہ امریکی صدر اوباما کا وعدہ ہے۔ دوسری جانب قاہرہ میں ہنگامی اجلاس کے دوران عرب لیگ نے شام کے پرامن سیاسی حل کی حمایت کر دی جبکہ شام کے مخالف قومی اتحاد کا کہنا ہے کہ ایران کی موجودگی، کامیاب انتقال اقتدار کے بغیر وہ مذاکرات میں شرکت نہیں کرینگے، حزب اللہ کو بلیک لسٹ کیا جائے۔