ڈی ایٹ ممالک رکاوٹیں ختم ایک دوسرے کو مارکیٹ رسائی دیں پاکستان

ممبر ممالک مشترکہ ایجنڈے پر کام کریں تو خطے کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آ سکتی ہے۔


APP November 05, 2013
زبیر احمد ملک نے کہا کہ ممبر ممالک کے نجی شعبے پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے اور انھیں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ فوٹو: فائل

وفاق ہائے ایوان صنعت و تجارت پاکستان کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا ہے کہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ڈی ایٹ دنیا کا موثر ترین تجارتی بلاک بن کر ممبر ممالک کوترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے جس کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

1 ارب کی آبادی اور 1کھرب ڈالر کی مارکیٹ پر مشتمل اس بلاک کے ممبران کو محصولاتی اور غیرمحصولاتی رکاوٹیں ختم کرنا ہونگی، اپنی منڈیوں تک رسائی دینا ہو گی اور خدمات، سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون جبکہ تکنیکی مسائل پر قابو پانا ہو گا جس سے 2018 تک باہمی تجارتی حجم 500 ارب ڈالر تک بڑھانے کے منصوبے کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ زبیر احمد ملک جو ڈی ایٹ فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس کے صدر بھی ہیں نے یہ بات تہران میں ڈی ایٹ چیمبرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ ہم دنیا کے 20فیصد افراد کی نمائندگی کر رہے ہیں جو 40 فیصدسے زائد قدرتی وسائل کے مالک ہیں جن کے لیے غربت کا خاتمہ اور اقتصادی ترقی مشکل نہیں، اگر ممبر ممالک مشترکہ ایجنڈے پر کام کریں تو خطے کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آ سکتی ہے جس کے لیے تعاون اولین شرط ہے۔



زبیر احمد ملک نے کہا کہ ممبر ممالک کے نجی شعبے پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے اور انھیں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی، ایف پی سی سی آئی اس سلسلہ میں رکن ممالک میں زراعت، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے اعلیٰ اختیاراتی وفود بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی ایک جامع منصوبہ کا اعلان کیا جائے گا، اس کے علاوہ ایک ویب سائٹ، ڈیٹا بینک اور چھوٹے و درمیانے کاروبار کو ترقی دینے کی حکمت عملی بھی بنائی جا رہی ہے، اس ضمن میں بزنس فورم ، نمائشیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہم ڈی ایٹ فورم کے حقیقی مقاصد کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ قبل ازیں پاکستان، ایران، ترکی، مصر اور نائیجیریا کے مرکزی چیمبروں کے صدور کی موجودگی میں ڈی ایٹ چیمبر کے بعض قوانین کو حتمی شکل دینے کے لیے اجلاس ہوا جس میں مجوزہ نکات پر بھی غور ہوا اور ترکی کو 2 ہفتے کے اندر اسے حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی۔