خود کو تماشہ نہ بنائیں

امریکا کے تازہ ترین ڈورن حملوں کے بعد پاکستان میں ایک کہرام بپا ہے۔ چیخ پکار اور شوروشین کا وہ عالم ہے کہ کان...


Zahida Hina November 05, 2013
[email protected]

امریکا کے تازہ ترین ڈورن حملوں کے بعد پاکستان میں ایک کہرام بپا ہے۔ چیخ پکار اور شوروشین کا وہ عالم ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اخباروں کو پڑھیںاور ٹی وی چینلوں کو دیکھیں، سب ہی ایک دوسرے سے لڑتے اور الزامات لگاتے نظر آئیں گے۔ کچھ اندازہ نہیں ہوگا کہ جو واقعہ ہوا ہے اس پر کوئی مجموعی ،قومی یا عوامی رائے ہے بھی یا نہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جو ہم بار بار دیکھ چکے ہیں۔کم از کم کئی درجن واقعات ایسے ہوچکے ہیں جن پر اسی نوعیت کی بے ہنگم چیخ پکار ہوئی تھی اور پھر چند دن یا ہفتے گزر جانے کے بعد جوش ٹھنڈاہوگیا اور ہم سب معمول کی کیفیت میں دوبارہ واپس آگئے۔

سب سے بڑا واقعہ 1971ء میں پیش آیا جب مشرقی پاکستان نے ہم سے علیحدگی اختیار کی۔ شدیدجذباتی ردعمل کے بعد اس واقعے کو چند ہفتوں میں بھلا دیا گیا۔ دنیا کے ملکوں بالخصوص اسلامی ملکوں نے جب یہ دیکھا کہ جن کا ملک ٹوٹا ہے وہی افسردہ نہیں تو انھوں نے بھی بنگلہ دیش کو بطور ایک آزاد اور خود مختار ملک کے تسلیم کرنا شروع کردیا۔ اس کے بعد دوسرا بڑا واقعہ منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل تھا، اسے بھی چند دنوں بعد فراموش کردیا گیا۔ ملک کے آئین کو ایک بارنہیں تین مرتبہ پامال کیا گیا لیکن تھوڑ ابہت شور مچا کر ہم خاموش ہوگئے۔ نواز شریف گرفتار، جلاوطن اور دربدر ہوئے سب نے اس حادثے کو بھلا دیا۔ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا، پیپلزپارٹی نے انتخابات جیتے ، پانچ سال اقتدار میں رہی لیکن اتنے بڑے قومی سانحے کو اس نے بھی نظر انداز کیا اور بی بی کے قاتل آج تک گرفت میں نہ آسکے۔ پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو دھکیلا، سب چپ رہے۔

امریکا سے جو اربوں ڈالر ملے سب نے اس کے خوب مزے اڑائے لیکن جب یہ جنگ ملک کے اندر آگئی تو پریشانی شروع ہوئی، اس کے باوجود جنرل پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا۔ وہ ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک گئے تھے اور یہ جنگ امریکا پر کم پاکستان پر زیادہ مسلط ہوگئی۔ 40 ہزاربے گناہ پاکستانی شہری اور ہزاروں فوجی جان سے جاچکے ہیں۔ اربوں کامالی نقصان اس کے سوا ہے۔ آخری انتہا یہ ہوئی کہ فوج کے ایک میجر جنرل دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ گفتگو کا مقصدیہ ہے کہ کیا کچھ نہیں ہوا، ہر بار ہم نے شور مچایا، چینلوں نے ریٹنگ بڑھائی جب کہ سیاستدانوں نے ہر واقعے اور سانحے پر سیاست چمکائی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھایا۔ اہل دانش نے پرُجوش شاہ کار لکھے، لوگوں کو ہیجانی کیفیت میں مبتلا کیا اور پھر اگلے ''واقعے یا سانحے '' کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ تجزیہ کرنے اور سبق سیکھنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔

کیاہم نے کبھی سوچا کہ اس طرح کی مریضانہ نفسیاتی کیفیت میں ہم کیوں مبتلا ہیں؟ ملکوں اور قوموں کو جب کسی غیر معمولی واقعہ کا سامناہوتا ہے تو بعض لوگوں اور طبقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک فطری ردعمل ہوتا ہے لیکن کہیں بھی یوں نہیں ہوتا کہ کسی واقعے پر عوام اور خواص، ظالم اور مظلوم، کارکن اور قائدین، اشرافیہ اور محنت کش، متوسط طبقہ، صحافی، دانش ور، ادیب، شاعر، غرض یہ کہ سب ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوجائیں، یہ بھی معلوم نہ ہوسکے کہ وہ آپس میں نبرد آزما کیوں ہیں اور اپنے لیے سنگین مسائل کیوں پیدا کررہے ہیں۔ آج جیسی ایک صورتحال 2011ء میںبھی پیدا ہوئی تھی جب کسی غلط فہمی یا حکمت عملی کے باعث سلالہ چیک پوسٹ پر امریکا نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ہمارے درجنوں فوجی شہید ہوئے۔

اس واقعے کے نتیجے میں طے ہوا کہ نیٹو سپلائی کو روک دیا جائے۔ یہ سپلائی غالباً آٹھ ماہ رکی رہی۔ اس دوران ڈرون حملے بھی جاری رہے اور امریکا کی حکمت عملی یا پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ا س نے متبادل راستہ اختیار کرکے صرف چند ارب ڈالر کا اضافی خرچ برداشت کیا جو اس کے لیے مونگ پھلی کے چند دانوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا تھا ۔ اس تجربے نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان میں سپلائی کے متبادل ذرایع کو زیادہ ترجیحی بنیادوں پر فعال کرنے کے لیے مجبور کردیا۔ اب یہ صورت ہے کہ نیٹو سپلائی کا ایک بڑا حصہ دیگر ملکوں سے افغانستان پہنچتا ہے۔ کچھ دنوں بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ اس ''تاریخ ساز'' فیصلے سے نہ امریکا کا کوئی نقصان ہوا اور نہ افغان حکومت کے لیے مسائل پیدا ہوئے، بلکہ اس کے نتیجے میں خود ہمیں مالی، سیاسی اور سفارتی نقصانات اٹھانے پڑے۔ غرض خرابیٔ بسیار کے بعد ہم نے نیٹو سپلائی بحال کی اور پرانی تنخواہ پر دوبارہ خدمات سرانجام دینے لگے۔

غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم ایک تماشا بن گئے ہیں۔ انفرادی سطح پر جب اس نوع کا رویہ ناپسندیدہ اور مریضانہ قرار پاتا ہے تو اجتماعی اور قومی پیمانے پر یہ طرز عمل کتنا مہلک ہوسکتا ہے اس بارے میں غورو فکر ضرور کرناچاہیے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ پرسکون ذہنی حالت کے ساتھ یہ سوچا جائے کہ اس طرح کی صورتحال کیوں پیدا ہوتی ہے اور ہمیں اس کے ردعمل میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس نوعیت کی ہیجانی صورتحال بار بار اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ ہم میں صبر، ضبط، تحمل، بردباری، رواداری اور تنقید کو برداشت کرنے کے رجحانات بہت کم ہیں۔ ملک میں جمہوریت کا مستحکم نہ ہونا اس کا بنیادی سبب ہے۔ جمہوریت لوگوں کی تہذیب نفس کرتی ہے اور ان میں بدترین دبائو میں بھی پرُسکون رہنے کا وصف پیدا کرتی ہے۔ سخت محنت اور جدوجہد کرنے کے بعد بھی جب عوام آپ کی جماعت اور نظریات کو مسترد کردیتے ہیں تو آپ کے پاس اس صدمے کو برداشت کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ مخالفین ہمارے محبوب رہنمائوں پر تنقید کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں اور بعض اوقات تضحیک کا نشانہ بھی بناتے ہیں لیکن ہمیں یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ معاملات ہم کو متحمل اوربردبار بناتے ہیں۔ پاکستان میں ہم اس مشق سے نہیں گزرے لہٰذا گزشتہ چند دہائیوں میں جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا جو ہمارے لیے ناپسندیدہ تھا تو ہم نے اس صدمے کو برداشت کرنے اور اپنی ناکامی کاتجزیہ کرنے کے بجائے غیر معمولی جذباتی ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مثبت نتیجہ تو خیر کیا نکلتا، ہمیں الٹا نقصان اٹھانا پڑا۔

امریکا کے تازہ ترین اقدام کے بعد ہم ایک بار پھر جذباتی اور ہیجانی عالم میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ڈرون حملے اصولی طور پر ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ اس مسئلے کا ایک اصولی پہلو ہے۔ عملی پہلو کیا ہے، اس پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ وہ مسلم امہ اور اسلامی بلاک جس کا ہم ہر دم ورد کرتے ہیں کیا اس نے ڈرون حملوں کے موقف پر کبھی ہماری حمایت کی ہے؟کسی ایک اسلامی ملک کا نام لیں جس نے سرکاری طور پر یہ اعلان کیا ہو کہ اس نوعیت کی کارروائیاں پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور اس بارے میں ہم پاکستان کے ساتھ ہیں۔ مسلم بلاک کے بعد آپ، یورپ، افریقا، ایشیا کے کسی ملک کا نام بتائیں جس نے ہمارے موقف کی حمایت کی ہو؟ ہم نے کبھی سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ ایسا کیوں ہے؟ بات اتنی سی ہے کہ اس وقت پوری دنیا جس میں اسلامی ممالک اور ہمارا دیرینہ دوست چین بھی شامل ہے ، ان سب میں یہ اتفا ق رائے موجود ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی پوری دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے۔ بہت سے ملکوں کو پاکستان سے ہم دردی ضرور ہوسکتی ہے لیکن یوں محسوس ہوتاہے کہ ان کی نظر میں شاید ہمارا موقف درست ہو لیکن دہشت گردی ایک ایسا حقیقی خطرہ ہے جس کا مقابلہ کرنا وہ زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔

جذبات کا ہیجان جب کم ہو جائے تو ہمیں اس حقیقت کا سامنا بھی کرنا چاہیے کہ عالمی برادری میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ہماری ساکھ بہت خراب ہوئی ہے۔ جو ملک ہمارے دوست نہیں ان کا ذکر جانے دیں کوئی ایک دوست ملک بھی ایسا نہیںجس کو ہم سے شکایات نہ ہوں۔ ساکھ کی خرابی کے سبب ہمارے درست موقف کو بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل نہیں ہوتی۔

ان تلخ حقائق کے تناظر میں قومی مفادات کا اولین کا تقاضہ یہ سمجھنا ہے کہ نیٹو سپلائی بند کرنے سمیت کسی بھی طرح کے انتہائی اقدام سے پاکستان کو بدترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نقصان کسی اورکا نہیں ہمارا ہوگا۔ افغانستان میں فوجی مداخلت اقوام متحدہ کی اجازت سے ہوئی ہے۔ اجازت دینے والوں میں ماشاء اللہ ہم بھی شامل تھے۔ جو لوگ نیٹو سپلائی کے معاملے پر سیاست کررہے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ سپلائی امریکا کی نہیں بلکہ نیٹو ممالک کی روکی جائے گی۔ ایسا کرکے کیا ہم صرف امریکا اور یورپ سے نہیں بلکہ اسلامی ممالک اور عالمی برادری سے بھی کٹ کر دنیا میں یک و تنہا رہ جائیں گے۔ وزیر اعظم نے چین، امریکا اور برطانیہ سمیت اہم ملکوں کے دورے کیے ہیں اور 2011ء میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے اور نیٹو سپلائی کی بندش کے بعد پاکستان کے لیے پیدا ہونے والی بدترین صورتحال کو بہتر بنانے کے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کامیابیوں کو ضایع نہیں ہونا چاہیے، جوش نہیں بلکہ ہوش سے کام لیا جائے۔

سیاست اور مخالفت ضرور کریں لیکن پاکستان کی قیمت پر نہیں!

مقبول خبریں