پاکستان ڈرون کیخلاف عالمی برادری سے بات کرے ملائیشیا

ڈرون حملے غیرقانونی ہیں، ہمارا مؤقف بھی وہی ہے، ملائیشی سفیرکی لاہور میں گفتگو


Numainda Express November 06, 2013
ملائیشیا نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے،ملائشی سفیر۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں ملائیشیا کے سفیر ڈاکٹر حسرالثانی بن مجتبارنے کہا ہے کہ ڈرون حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کیخلاف اور غیرقانونی ہیں جس سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان میں ہماری سرمایہ کاری موجود ہے اور اس میں بہتری کیلیے حکومتی اور عوامی سطح پر رابطوں کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ملائیشین این جی او ریحیل کے زیرانتظام خصوصی بچوں کی بحالی کیلیے چلنے والے رین بو سکول سسٹم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔



ڈاکٹر حسرالثانی نے مزید کہا کہ ملائیشیا نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، پاکستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ہمارے اس کیساتھ صرف سیاسی تعلقات ہی نہیں ہیں بلکہ یہاں کے عوام کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات ہیں اور میرا دفتر 24 گھنٹے پاکستانی عوام کیلئے کھلا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈرون حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں جن میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں ہمارا مؤقف بھی وہی ہے جو اقوام متحدہ کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کو رکوانا آسان نہیں کیونکہ یہ ایک سپر پاور کی طرف سے کیے جا رہے ہیں جس کے اپنے مفادات ہیں، پاکستان امریکا کا اتحادی بھی ہے، حکومت پاکستان کو ڈرون حملے رکوانے کیلیے عالمی برادری سے بات کرنی چاہیے۔