بھارت کے خطرناک عزائم

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کیا اب پورے بھارت پرکرفیو لگایا جا سکتا ہے


Editorial December 31, 2019
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کیا اب پورے بھارت پرکرفیو لگایا جا سکتا ہے

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بھارت دو سوچوں میں تقسیم دکھائی دے رہا ہے، وہاں ایک طرف سیکولرازم اور دوسری طرف ہندوتوا سوچ ہے، بھارت کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں احتجاجی ریلی نہ نکلی ہو، پورے بھارت میں احتجاج کی کیفیت ہے تاہم عین ممکن ہے، اس سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت فالس فلیگ آپریشن کرے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کیا اب پورے بھارت پرکرفیو لگایا جا سکتا ہے، اس کا عالمی طور پرتشخص متاثر ہوا ہے، جو ماضی میں بھارت سے تعاون کیا کرتے تھے، آج کنارہ کش ہیں، عالمی میڈیا بھی بھارت پر تنقیدکر رہا ہے۔

انھوں نے کہاکہ سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور کہا کہ اوآئی سی میں کشمیر اور مسلمانوں پرظلم کے حوالے سے بات کرنی چاہیے۔ اوآئی سی نے یقین دلایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر موثر آواز اٹھائے گی۔انھوں نے کہاکہ بھارت نے جو اقدامات اٹھائے پاکستان ذہنی طور پر ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہماری اطلاع کی مطابق ایل او سی پر پانچ جگہ باڑ کو کاٹا گیا ہے۔ سرحد پر براہموس اور دیگرمیزائل نصب کرنے کا مقصدکیا ہے؟ بھارت کی سرگرمیوں پراقوام متحدہ کو خط لکھا ہے۔ توقع ہے ملٹری آبزرورز سلامتی کونسل کو بریفنگ دیں گے۔

ہم اپنی ذمے داریوں سے غافل نہیں، سفارتی اورسیاسی محاذ پر جو کیا جا سکتا ہے وہ کیا جا رہا ہے۔ انھوںنے کہاکہ اوآئی سی میں وزرا ء خارجہ کی سطح کا اجلاس ہونا چاہیے۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ اجلاس پاکستان اسلام آباد میں ہو۔ بھارت کے عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔ ادھر کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس سے ایک شہری زخمی ہوگیا۔

بھارت میں جب سے شہریت قانون بل پیش ہوا ہے وہاں ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور مسلمانوںکی بڑی تعداد بھارتی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر آگئی ہے، بھارتی حکومت اس احتجاج کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج' گرفتاریوں سمیت تمام منفی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے لیکن ان مظاہروں میں کسی صورت بھی کمی نہیں آ رہی بلکہ روز بروز ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مودی حکومت کے خلاف نفرت اس قدر زیادہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ سکھ اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی مظاہروں میں شریک ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے دہلی سرکار پر اچھا خاصا دباؤ بڑھا ہے لیکن مودی حکومت تمام تر صورت حال کو اپنے خلاف جاتا ہوا دیکھ کر بھی اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے اور کسی بھی صورت شہریت قانون بل واپس لینے کے لیے آمادہ نہیں۔ اب مودی حکومت نے اپنے تئیں لوگوں کی توجہ مظاہروں سے ہٹانے کے لیے پاکستان کے ساتھ جنگی ماحول پیدا کرنے کی گھناؤنی چال چلی ہے۔

گزشتہ کئی روز سے ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ بھارت نے پاکستانی سرحد کے ساتھ میزائل نصب کر دیے ہیں اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کے سلسلے میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ چند روز پیشتر وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے اس جارحانہ رویے پر اسے خبردار کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ پاکستان ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے' پوری قوم اور پاک افواج دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر وطن کے چپے چپے کا دفاع کرے گی۔

چند روز پیشتر بھی دیوا سیکٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی شہید ہو گئے تھے جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے تین بھارتی فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا۔ کنٹرول لائن کو پرامن رکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی بار فلیگ میٹنگز ہو چکی ہیں جس میں یہ یقین دہانی کرائی جاتی رہی کہ بھارت اب سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ نہیں کرے گا اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

لیکن اس نے کبھی اس پر عملدرآمد نہیں کیا اور سرحد پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا۔ بھارت میں جس شدت سے مظاہرے ہو رہے ہیں مودی حکومت کا کوئی بھی حربہ اسے دبانے میں کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اگر اس نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستانی کی سرحد پر دباؤ بڑھایا ہے تو اس کا یہ ہتھکنڈہ بھی کامیاب نہیں ہو گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ انھوں نے بھارت کی ان منفی سرگرمیوں پر اقوام متحدہ کو ساتواں خط لکھا ہے۔ انھوں نے کہا کشمیر کا مسئلہ ایک وادی کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

مسئلہ کشمیر پر دنیا کا کوئی دارالحکومت خاموش نہیںاور نہ ہی کوئی جریدہ ایسا ہے جہاں کشمیر پر بات نہ ہوئی ہو۔مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندی کے باعث بھارت کا اصلی چہرہ سامنے نہیں آ سکا۔مقبوضہ کشمیر کا کوئی لیڈر ایسا نہیں جو بھارت کی تائید کر رہا ہو۔

بھارت نے 5 اگست کو کشمیر کی آواز دبانے کی کوشش کی۔ کشمیر کے مسئلے پر جو کیا جا سکتا ہے حکومت کر رہی ہے۔اب اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مودی حکومت کے داخلی اور خارجی ہر دو محاذ پر جارحانہ رویوں کا نوٹس لیں اور اسے مجبور کریں کہ وہ خطے کی صورت حال کو کسی بھی صورت بگاڑنے سے باز رہے۔

مقبول خبریں