سری نگر حریت رہنما یاسین ملک گرفتار پولیس تشدد سے متعدد زخمی

بارہ سالہ طالبعلم فیضان صوفی کی گرفتاری کیخلاف دھرنا،انتظامیہ بھارتی سپریم کورٹ کےاحکام پرعمل نہیں کررہی، گونزالیز۔


APP September 03, 2012
بارہ سالہ طالبعلم فیضان صوفی کی گرفتاری کیخلاف دھرنا، انتظامیہ بھارتی سپریم کورٹ کے احکام پر عمل نہیں کر رہی، گونزالیز. فوٹو: اے ایف پی

RAWALPINDI: مقبوضہ کشمیرمیں پولیس نے جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو اْن کی پارٹی کے رہنمائوں سمیت کولگام سے گرفتار کرلیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کو یاری پورہ میں ایک ریلی کی قیادت کے دوران گرفتار کیا۔ پولیس نے فرنٹ کارکنوں جنہوں نے ان کی گرفتاری پر مزاحمت کی ،کو منتشر کرنے کیلیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے لبریشن فرنٹ کے سینئر نائب صدر بشیر احمد بٹ کی قیادت میں 24سے زائد کارکنوں کو کولگام کے علاقے کڈوانی سے گرفتار کر لیا جو یاسین ملک کے ساتھ ریلی میں شرکت کیلیے جارہے تھے۔ یاسین ملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس کی کارروائی سے نام نہاد حکمرانوں اور بھارت نواز سیاست دانوں کی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے12 سالہ طالب علم فیضان صوفی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔ وہ کم عمر لڑکوں کی نظربندی کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دھرنے میں بڑی تعداد میں سول سوسائٹی کے کارکنوں اور وکلا کی ایک بڑی تعدا د نے شرکت کی۔ بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل اور ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک کے بانی ڈائریکٹر کولن گونزالیزنے کہا کہ قابض انتظامیہ بچوں کے حقوق سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے احکام پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔ بعض کے خلاف تو ایف آئی آر بھی نہیں کاٹی جاتی۔

مقبول خبریں