نیا سال معاشی بریک تھرو کا متقاضی

مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو توقع تھی کہ نئے سال کا آغاز حکومت کی طرف سے ریلیف اور شاندار تحفہ کی پیش رفت سے ہوگا۔


Editorial January 02, 2020
مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو توقع تھی کہ نئے سال کا آغاز حکومت کی طرف سے ریلیف اور شاندار تحفہ کی پیش رفت سے ہوگا۔ فوٹو : فائل

KARACHI: سال 2019 معیشت کے لیے چیلنجز سے بھر پور سال ثابت ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ2020 ملک کے لیے ترقی وخوشحالی کا سال ہوگا ، ثمرات عام آدمی تک پہنچائیں گے، حکومت نے دعویٰ کیا کہ معیشت کو استحکام ملا ،کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جس کا اعتراف بین الاقوامی اداروں نے کیا ۔

حکمرانوں کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 6 ارب کا ریلیف پیکیج دینے کی منظوری دیدی، 7 جنوری سے عملدرآمد ہوگا، گھی ، چینی ، دالوں، چاول پرسبسڈی دی جائے گی، بتایا گیا کہ گزشتہ سال اسٹاک مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کو 10فیصد منافع دیا ، لیکن تجارتی حلقوں کے مطابق سال کے اختتام پر اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے باعث سرمایہ کاروں کو 24 ارب کا نقصان ہوا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کا دور زرداری اور نواز دور سے بدتر ثابت ہوا، پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے مطابق سال رفتہ ملکی تاریخ کا مشکل ترین سال تھا، پارلیمنٹیرینز نے اپنے ٹی وی ٹاکس میں مہنگائی کو عام آدمی کے لیے بہت مشکل قرار دیا۔

مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو توقع تھی کہ نئے سال کا آغاز حکومت کی طرف سے ریلیف اور شاندار تحفہ کی پیش رفت سے ہوگا مگر حکومت نے عوام پر پٹرول ، بجلی اورگیس بم گرا دیا ،حکومت نے اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظورکر لی جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2روپے 25پیسے، مٹی کا تیل 3 روپے 10پیسے اور لائٹ ڈیزل 2.08 روپے فی لیٹرمہنگاکر دیا گیا، اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 113.99سے بڑھا کر116.6روپے ہوگئی ، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 125.01 سے بڑھ کر 127.26روپے جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت 96.35 روپے سے بڑھ کر 99.45روپے کر دی گئی۔

لائٹ ڈیزل کی قیمت 82.43روپے سے بڑھ کر 84.51روپے فی لیٹر ہوگئی، نئے قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے سے ہو گیا ہے جو 31جنوری 2020تک نافذ رہیں گی۔ دریں اثناء نیپرا نے کراچی الیکٹرک صارفین کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں مزید 4.88 روپے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ، کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی اوسط قیمت 12.81روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 17.69روپے فی یونٹ کردی گئی ، کراچی کے صارفین پر اضافی 106ارب روپے بوجھ بڑھے گا۔

وفاقی حکومت پورے ملک میں بجلی صارفین کے نرخ یکساں رکھتی ہے اور اس سلسلے میں کراچی الیکٹرک کے بجلی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اگرکوئی اضافہ ہوا تو وفاقی حکومت کی سطح پر اس معاملہ کو طے کرے گی۔ اوگرا نے جنوری کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 25 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے سے گھریلو سلنڈر 277 روپے مہنگا، ایل پی جی کی پیداواری قیمت 69971 اضافے سے 90093 ہو گئی ہے۔حکومت مخالف سیاسی اور اقتصادی مبصرین نے نئے سال کا آغاز مہنگائی میں اضافہ کی سمت پیش قدمی کو نامناسب اور بے وقت قراردیتے ہوئے کہا کہ گزرے سال کے تجربات اور حوادث سے شاید حکومت نے کوئی سبق نہیں لیا۔

اس کا اور اس کے مشیروں اور معاشی مسیحاؤںکو مائنڈ سیٹ نہیں بدلا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا کہ کسی ڈیموکریٹ حکومت کے ارباب بست کشاد اس امر سے غافل نہیں رہ سکتے کہ جو عوام مہنگائی، بیروزگاری، ماحولیاتی آلودگی ، جرائم ، ٹرانسپورٹ، تعلیم وصحت اور مقامی حکومت کی بے اختیاری اور فنڈز کی کمی کے درجنوں مسائل کا سامنا کر رہے ہوں۔

وہاں حکومت نئے سال کی خوشیوں کو برباد کر دے اور توانائی بحران کو مہمیز دے۔ ایک اور حقیقت بھی زیر بحث آئی ہے کہ حکمراں عوامی ریلیف اور ملک کو درپیش اقتصادی اور معاشی کور ایشوز میں دلچسپی نہیں رکھتے، ان کا گزشتہ سیاسی اورمعاشی طرز عمل اس رویے کی غمازی کرتا ہے کہ حکمران گڈ گورننس اور عوامی اعتماد کی شدید بحران میں مبتلا ہیں ، حکومتی مائنڈ سیٹ کا محور اس انداز فکرکے گرد گھومتا ہے کہ ساری کوششیں حکمرانی کی کرپشن پاک ، سکینڈل فری سسٹم آف گورنمنٹ پر مرکوز ہیں۔

نام نہاد اورمضحکہ خیز جوابدہی کے نظام ، سوالیہ شفافیت اور دیومالائی پاک دامنی کے چرچے اور مناظرے کو تمام ترقیاتی کاموں پر فوقیت اور سبقت دینے کی دوڑ جاری رہی، تاکہ سابقہ حکومتوں کے تقابل میں موجودہ حکومت کی کارکردگی کو معیاری اور پاک وصاف گورننس کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ ادھر اپوزیشن اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس محتاط طرز عمل اور منزا و بے خطا نظر آنے کی کوشش میںحکمرانی کا سارا ترقیاتی روڈ میپ دریا برد ہوگیا ہے ۔

حقیقت میں ملکی ترقی کا پہیہ رک گیا ہے، صنعتی یونٹس بند ہیں، کامرس رپورٹرکے مطابق سال گزشتہ کے دوران امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپیہ تنزلی کا شکار رہا ، سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے،اگست میں 90 ہزار فی تولہ ہوگیا تھا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے دعا کی ہے کہ نیا سال معاشی بد حالی کے خلاف ٹونٹی ٹونٹی ثابت ہو، مسلم لیگ ن کے صدر و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ اب آنے والا دور اس کے بعد کا ہر سال وطن عزیز اور قوم کے لیے خوشی، امن اور ترقی کا پیغام لائے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قوم کو نئے سال کی مبارک باد دیتے ہوئے اس امید کا اظہارکیا کہ نئے سال کے دوران ملک میں عوامی راج قائم ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ غریب طبقاتی جنگ میں کچلے جا رہے ہیں، عوام کو پسماندگی میں دھکیلنے والی پالیسیاں سرا سر جرم ہیں۔

ادھربچت بازاروں کی سروے رپورٹ کے مطابق اشیائے ضروری کی قیمتیں عام مارکیٹ ریٹ کے برابر ہیں، ان کی کوالٹی کی چھان بین کا میکنزم بھی ناقص ہے، ملک بھر میں عوام مہنگائی سے سخت نالاں نظر آتے ہیں، گھریلو بجٹ اور چیزوں کی گرانی کی رفتارکے درمیان کوئی حد اعتدال نہیں۔ دوائیاں دو سو سے چارسو کی اضافی قیمت پر فروخت ہورہی ہیں، دکاندار اپنی من مانی قیمتوں کی چٹیں دوائی، کاسمیٹکس اور ٹیکنالوجیکل برانڈ پر چسپاں کرتے ہیں۔

غریب صارفین کی کوئی نہیں سنتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئے سال کے لیے حکومت کا روڈ میپ سال ختم ہونے سے پہلے کیوں جاری نہیں کیا گیا، یوں وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی اور اصلاحات کا کہنا ہے کہ رواں سال سی پیک کے ثمرات نظر آنا شروع ہوجائیں گے جب کہ انھیں معاشی اصلاحات اور ترقی و منصوبہ بندی کے حوالہ سے حکومتی اقدامات کا اعلامیہ جاری کرنا چاہیے تھا، مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ معیشت کے حوالے سے نئے سال پرعالمی سطح روبہ عمل لائے جانے والے نیشنل اسمارٹ سٹی پلانزکا اعلان کرتے۔ حکمران سوچ لیں کہ عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا، ملک کا سب سے بڑا شہرکراچی بادی النظر میں اصلاحات چاہتا ہے۔

پنجاب ، بلوچستان اور کے پی کے میں سیاسی ارتعاش دیدنی ہے، اور احتسابی عمل کے یقینی ہونے پر سیاسی تقسیم کو مزید گہرا نہیں ہونا چاہیے۔ مجموعی طور پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے نئے سال کا سورج سوالیہ نشان بن کر طلوع ہوا ہے، بات اب وعدوں، کاغذی اعلانات ، کابینہ کے روایتی اورکثیر نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد سے زیادہ اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک میں انصاف ، مساوات، ارزانی، تعلیم وصحت کے نظام کی بہتری ایک زمینی حقیقت بن کر سامنے آئے۔

مہنگائی پر بند باندھنا حکومت کا اولین چیلنج ہے، فاقہ کشی ، غربت ، پسماندگی اور بے روزگاری کا جن بوتل سے باہر آنے کے لیے بے چین ہے، اسے بوتل ہی میں بند کرنے کی تدابیر اختیار کرنے پر پوراسال گزر گیا ہاتھ کسی کے کچھ نہیں آیا۔ لہذا اب کوئی حقیقی معاشی جادوگری ہوگی تو ہی عوام کو سکون ملے گا۔

مقبول خبریں