ایرانی جنرل کی ہلاکت اور خطے کی صورتحال

ایرانی جنرل کی المناک ہلاکت بلاشبہ خطے کو ایک متوقع الاؤ کی نذر کرنے کے مترادف ہے۔


Editorial January 05, 2020
ایرانی جنرل کی المناک ہلاکت بلاشبہ خطے کو ایک متوقع الاؤ کی نذر کرنے کے مترادف ہے۔ فوٹو: فائل

DUBAI: بغداد میں امریکی حملے میں ایران کے میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی تشویش ناک ہو گئی ہے، جنگ کی بادل منڈلانے لگے ہیں، پینٹاگون کے مطابق کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ہوئی۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا بدترین انتقام لیں گے۔

اقوام متحدہ نے قریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ امریکی اور ایرانی میڈیا نے سانحہ کے حوالے سے ایک ہولناک کنفیوژن کا عندیہ دیا ہے۔ ایران نے تہران میں سوئس ناظم الامور کو طلب کر کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ اب سنگین نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکی فضائی حملے میںایرانی کمانڈو فورس القدس کے سربراہ ایران کی دوسری طاقتور شخصیت میجر جنرل قاسم سلیمانی اور7 فوجی جاں بحق ہو گئے، عراق کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولر موبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس بھی اس میں جاں بحق ہو گئے۔

عراقی حکام کے مطابق بغداد ایئرپورٹ پر داغے گئے 3 راکٹ کارگو ہال کے قریب گرے، راکٹ حملے سے 2 کاروں کو آگ بھی لگی۔ عرب ٹی وی کے مطابق راکٹوں سے اہم مہمانوں کو ایئرپورٹ لانے والی گاڑیاں تباہ ہوئیں، راکٹ حملے سے قبل سائرن بجے، فضا میں ہیلی کاپٹر اڑتے دیکھے گئے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق جنرل سلیمانی کا ایرانی حکومت میں ایک کلیدی کردار تھا۔ ان کی قدس فورس صرف رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو جوابدہ ہے اور انھیں ملک میں ایک ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کا سخت انتقام لے گا، پاکستان سمیت عالمی برادری نے خطے میں تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی راہ پر چل کر ان کے مقاصد کو حاصل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اتنے بڑے جرم کے بعد امریکا اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو گا۔

پینٹاگان نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کی کارروائی صدر ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی، پینٹا گون نے کہا کہ سلیمانی عراق اور مغربی ایشیا میں امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے،ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر ملک میں 3 روزہ سوگ کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے پیچھے چھپے مجرموں سے سخت انتقام لیں گے جب کہ مزاحمتی تحریک مزید طاقت کے ساتھ آگے بڑھے گی، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جنرل اسماعیل قانی کو پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کا نیا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔

وہ جنرل قاسم سلیمانی کے نائب تھے، ایرانی عسکری قیادت نے کہا ہے کہ امریکا کی خوشی جلد سوگ میں بدل جائے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹرز نے امریکی حملہ میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے جاں بحق ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان کے دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق خود مختاری کا احترام کیاجانا چاہیے، کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی چینل استعمال کیا جائے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں عراق کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں عوام کو عراقی پرچم تھامے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ مائیک پومپیو نے کہا کہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر عراقی عوام سڑکوں پر رقص کر رہے ہیں، ادھر بغداد میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی ایوانِ نمایندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے واقعے سے خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا ہے کہ حملے کی امریکی کانگریس کی منظوری نہیں لی گئی، ''لاس اینجلس ٹائمز کے ایک اظہاریے میں کہا گیا ہے کہ پیر کو فلوریڈا پام بیچ پر صدر ٹرمپ، وزیر خارجہ مائیک پومپیو، وزیر دفاع مارک ایسپر اور جنرل مارک ملی کے علاوہ دیگر حکام کی طرف سے اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ جنرل سلیمانی کو ٹارگٹ کیا جائے، تاہم اخبار نے لکھا کہ صدر ٹرمپ کو جو بریفنگ دی گئی ، انھیںسلائیڈز دکھائی گئے وہاں متعدد فالو اپس میں ایک یہ بھی تھا کہ ایرانی جنرل کو ہدف پر لیا جائے۔

عراقی پاپولر موبائلائزیشن فورس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل بھی اس حملے میں ملوث ہے ، عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کے قاتلوں کو سزا دینا ہر جنگجو کی ذمے داری ہے۔ حملے کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر اسرائیل نے اپنی فوج کو الرٹ کر دیا اور ہرمون پہاڑ کو بھی زائرین کے لیے بندکر دیا گیا ، چین نے امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے فریقین بالخصوص امریکا سے تحمل کامظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم متعلقہ فریقین خصوصا امریکا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جوکشیدگی کو ہوا دیں۔ روس کے دفترِ خارجہ نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہاکہ وہ امریکی حملے کے باعث سلیمانی کی ہلاکت کو ایک غیر محتاط قدم کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے پورے خطے میں تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب نے عراق میںپیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی ۔

عالمی میڈیا میں رائے عامہ ، سیاسی رہنماؤں اور دارالحکومتوں میں ہونے والے بحث و مباحثے میں بتایا گیا کہ جنرل سلیمانی کا قتل ایران کو مشتعل کرنے کی سامراجی کوشش ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے حملے کو خطرناک مضمرات کا حامل بتاتے ہوئے احمقانہ قرار دیا۔

یاد رہے جواد ظریف اور علی لاریجانی کو مغربی دارالحکومتیں ڈائیلاگ کا جادو گر سمجھتی ہیں، لہذا ٹرمپ نے بھی گزشتہ روز اس بات کا حوالہ دیا کہ ایران نے کبھی کوئی جنگ تو نہیں جیتی مگر کبھی ڈائیلاگ میں شکست نہیں کھائی۔

ادھر امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ پر اس بہیمانہ قتل کا حکم دینے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، مشرق وسطیٰ میں دانشورں کی بڑی اکثریت کا کہنا ہے کہ خطے کا امن کسی بھی وقت تہہ و بالا ہو سکتا ہے ،کیونکہ ایرانی عوام سخت غیظ و غضب کی حالت میں ہیں، تہران اور دیگر شہروں میں ہزاروں ایرانی سڑکوں پر نکل آئے، اور امریکا کے خلاف نعرے لگائے۔

امریکا ، ایران مخاصمت سے گہری واقفیت رکھنے والوں کا کہا ہے کہ ہلاکت کا واقعہ عراق و شام میں کشیدگی اور عراق میں امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ کرنے، جلاؤ اور توڑپوڑ کی وارادت کے بعد صورتحال کافی سنگین ہو گئی تھی ، سفارت خانے کے مطابق حملے میں عراقی و شامی ملیشیا کے جنگجو ملوث تھے جب کہ ایرانی ذرایع کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں نجف، کربلا اور بصرہ میں ایرانی قونصل خانوں پر حملے میں امریکا کے اکسانے پر حکومت مخالف عناصر شامل تھے۔

ایرانی جنرل کی المناک ہلاکت بلاشبہ خطے کو ایک متوقع الاؤ کی نذر کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے خطے میں تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی صائب اپیل کی ہے ۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں ایران ، امریکا تنازع پر غور کیا گیا اور زور دیا گیا پاکستان کو عالمی رد عمل کا قریبی جائزہ لیتے ہوئے خطے میں امن و سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

 

مقبول خبریں