محصول چنگی بحال کرنیکی تجویز کراچی چیمبر کی مخالفت

بحالی سے کرپشن کے دروازے کھلیں گے، حکومت پھر سے پتھر کے دور میں لے جانا چاہتی ہے


Business Reporter November 08, 2013
تاجر برادری پہلے ہی زائد کاروباری لاگت پر آوازبلند کر رہی ہے اور اگر محصول چنگی بحال کی گئی توملک بھر کے تاجر بری طرح متاثر ہوں گے۔ فوٹو: فائل

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ ذکی نے حکومت کی جانب سے محصول چنگی بحال کرنے کی تجویز زیر غور ہونے کی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کیاہے اور محصول چنگی کے بحالی کو مسترد کرتے ہوئے شدید مخالفت کی ہے۔

انہوں متنبہ کیا ہے کہ اگر محصول چنگی بحال کی گئی تو حکومت کو تاجرو صنعتکار برادری کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محصول چنگی بحال ہونے سے کرپشن کے دروازے کھل جائیں گے اور ملک بھر میں سامان کی ترسیل کی لاگت میں اضافے کے ساتھ ساتھ معیشت کی تباہی کا بھی باعث بنے گا، انہوں نے کہا کہ اخباری اطلاعات کے مطابق مقامی حکومتیں مالی بحران کا شکار ہیں لہٰذا مقامی حکومتوں کو سپورٹ کرنے کے لیے حکومت محصول چنگی کی بحالی پر غور کررہی ہے۔اس ضمن میں وزارت خزانہ نے تجاویز بھی مرتب کی ہیں۔

تاجر برادری پہلے ہی زائد کاروباری لاگت پر آوازبلند کر رہی ہے اور اگر محصول چنگی بحال کی گئی توملک بھر کے تاجر بری طرح متاثر ہوں گے۔ عبداللہ ذکی نے محصول چنگی کو سرکاری بھتہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے ملک میں رشوت کا بازار گرم ہو جائے گا اور حکومت کو بمشکل صرف10 فیصد ریونیو حاصل ہو سکے گا جبکہ بقایا 90 فیصد کرپٹ افسران کی جیبوں میں چلا جائیگا۔عبداللہ ذکی نے محصول چنگی کے نفاذ سے حاصل ہونیوالے فنڈز کے لوکل گورنمنٹ میں استعمال کے حوالے سے حکومتی عذر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجربرادری پہلے ہی اضافی ٹیکسوں کے بوجھ تلے بھاری ٹیکس ادا کر رہی ہے۔



اس کے علاوہ قومی خزانے میں سب سے زیادہ 68 فیصد حصہ کراچی کا ہے۔ اگر حکومت مقامی حکومتوں کوفنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کرسکتی تو کیا ان فنڈز کی فراہمی کا بوجھ بھی کاروباری برادری پر ڈال دیا جائے گا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت پھر پتھر کے دور کے ٹیکس نظام میں واپس جانا چاہتی ہے۔کے سی سی آئی کے صدر نے کراچی چیمبرآف کامرس کے تمام ممبران سمیت تجارتی ایسوسی ایشنزپر زور دیا ہے کہ وہ محصول چنگی کی بحالی کیخلاف بھرپور ساتھ دیں جو ہر کاروباری طبقے کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

عبداللہ ذکی نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ محصول چنگی بحال کرنے کا عمل موخر کردے ورنہ اسے برداشت نہیں کریں گے اور اگر ایسا کیا گیاتو تاجر وصنعتکار برادری کیلیے سوائے احتجاج کے کوئی اورچارہ نہ رہے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ محصول چنگی مالیت، وزن اور مسافت کی بنیاد پر لاگو کی جاتی ہے۔ن لیگ کی حکومت نے 1990 میں اسے ختم کردیا تھا جبکہ مقامی حکومتوں کو وفاق سے گرانٹ موصول ہوتی رہی ہے۔