قومی ادارہ امراض قلب میں انجیو گرافی مشینیں خراب لیب بند

انجیوگرافی و انجیو پلاسٹی بند ہونے سے غریب مریض پریشان، امیر مریضوں کو تمام سہولتوں کی فراہمی جاری


Staff Reporter November 08, 2013
18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد بھی اسپتال کی حیثیت کا تعین نہ ہوسکا، اسپتال کے انتظامی معاملات درہم برہم ہیں فوٹو: فائل

قومی ادارہ امراض قلب میں مریض علاج کی سہولتوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔

جمعرات کواسپتال کی انجیوگرافی لیب بند کردی گئی، اسپتال میں 3انجیوگرافی مشینیں غیر فعال ہونے سے انجیوگرافی وانجیوپلاسٹی بندکردی گئی، تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ برائے امراض قلب کی حیثیت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال میں غریب مریضوںکوحصول علاج بھی مشکل ہوتا جارہا ہے، اسپتال کی کارکردگی کو مانیٹرنگ کرنے والاکوئی ادارہ نہ ہونے سے اسپتال کے تمام انتظامی امور مفلوج ہوگئے ، اسپتال کے انتظامی افسر کے مطابق اسپتال میں دل کے مریضوں کی تشخیص کرنے والی 3 انجیوگرافی مشینیں گزشتہ کئی دنوں سے خراب ہیں ، اسپتال میں دل کے مریضوں کی تشخیص کے لیے تھیلیم ٹیسٹ کی سہولت بند کردی گئی ہے۔

جبکہ اسپتال میں غریب اور امیر مریضوں کے علاج کیلیے علیحدہ علیحدہ پیکیج جاری کردیے ہیں، غریب مریضوں کو جنرل وارڈ میں انجیوگرافی کی مد میں 10سے15ہزار ،پرائیویٹ وارڈ میں انجیوگرافی کی مد میں 25سے30ہزار روپے، تھیلیم ٹیسٹ کی مد میں12ہزار روپے، جنرل وارڈ میں بائی پاس آپریشن کی مد میں50 ہزار جبکہ پرائیویٹ وارڈ میں بائی پاس کی مد میں ایک لاکھ80ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں، انتظامی افسرکے مطابق سرکاری اسپتال میں پرائیویٹ وارڈ میں بائی پاس کرنے والے ڈاکٹر کوفی آپریشن40ہزار روپے اضافی دیے جاتے ہیں ، ڈاکٹر کوحکومت ماہانہ تنخواہ بھی ادا کرتی ہے۔



ذرائع نے بتایا کہ انجیوپلاسٹی کرنے پر ڈاکٹر کو فی انجیوپلاسٹی کی مد میں 35ہزار روپے اضافی بھی دیے جاتے ہیں اسی طرح پرائیویٹ وارڈ میں علاج کرانے والے مریضوں سے سرکاری اسپتال میں ہر ٹیسٹ اورعلاج کی مد میں اضافی رقم لی جارہی ہے ، ذرائع نے بتایا کہ اسپتال کے انتظامی سربراہ علالت کی وجہ سے بیرون ملک علاج کیلیے گئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اسپتال کے انتظامی امور درہم برہم ہوگئے۔

اسپتال کے سابق ایڈمنسٹریٹر مختار جو مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد بھی عہدے پر براجمان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مدت ملازمت میں توسیعی کیلیے درخواست دے رکھی ہے، اسپتال میں انتظامی سربراہ نہ ہونے اور سابق ایڈمنسٹریٹر کے جاری کیے جانے والے احکام کو دیگر انتظامی افسران نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، واضح رہے کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعدبھی قومی ادارہ امراض قلب اسپتال کی حیثیت کا تعین نہیں کیاجاسکا۔

مقبول خبریں