پاکستان زہر کی چار اقسام کے تریاق بنانے میں کامیاب

پاکستان میں ہرسال سانپ کے ڈسنے اور پاگل کتوں کے کاٹنے سے کئی اموات ہوتی ہیں


Editorial January 05, 2020
پاکستان میں ہرسال سانپ کے ڈسنے اور پاگل کتوں کے کاٹنے سے کئی اموات ہوتی ہیں۔ فوٹو: فائل

اخباری خبر کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے بالآخر مختلف قسم کے زہروں کا توڑ یعنی تریاق بنانے کا نظام قائم کر لیا ہے جس سے سانپوں کے زہر کے علاج کے علاوہ پاگل کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز کے علاج میں ہمارا ملک خود کفیل ہو جائے گا۔ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ نظام آیندہ مہینے تک قائم ہو جائے گا۔

فی الوقت پاکستان مختلف اقسام کا ایک تہائی تریاق بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ایک دفعہ یہ مدافعتی نظام قائم ہو گیا تو پاکستان چار اقسام کے تریاق بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ این آئی ایچ کا پروگرام یہ ہے کہ تریاق کی ان اقسام کو پاکستان دیگر ممالک کے لیے برآمد بھی کر سکے گا کیونکہ اسے بین الاقوامی معیار کا آئی ایس او سرٹیفکیٹ بھی حاصل ہو چکا ہے۔ پاکستان میں اس پلانٹ کے قیام پر 751 ملین یعنی 75 کروڑ کے لگ بھگ روپے کا خرچہ آئے گا۔

بتایا گیا کہ مختلف قسم کے تریاق کی پیداوار امسال جون میں شروع ہو جائے گی جس کے بعد ان کی درآمد کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ منصوبہ سن 2000 کے اوائل میں منظور کر لیا گیا تھا اور اس زمانے میں اس کے اخراجات کا تخمینہ 147 ملین (یعنی چودہ کروڑ ستر لاکھ) روپے لگایا گیا تھا۔ اس منصوبے پر فِن لینڈ کی ایک ٹیم کام کر رہی تھی جو سیکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر پاکستان سے چھوڑ کر واپس چلی گئی۔یوں اس شعبے کی کارکردگی صفر پر پہنچ گئی۔

اب این آئی ایچ نے فنڈز طلب کیے تھے اور کہا تھا کہ مذکورہ پلانٹ ایک سال کے اندر اندر قائم کر دیا جائے گا۔ منصوبہ بندی ڈویژن نے نظرثانی شدہ پلان کی منظوری دیدی ۔ اب یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور امید ہے کہ فروری کے وسط تک پیداوار شروع ہوجائے گی۔ پاکستان میں مختلف قسم کے تریاق کی سالانہ طلب 8,000 سے 90,000 Vials تک ہے۔

یہ دراصل ٹیکے کی چھوٹی بوتل کے یونٹس کی تعداد ہے تاہم این آئی ایچ مختلف اقسام کے تریاق کی ایک تہائی مقدار تیار کر لیتی ہے جب کہ باقی کا بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اب جب یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا تو درآمد کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

بلکہ تریاق کی مطلوبہ مقدار سے بہت زیادہ مقدار پیدا ہو جائے گی، جسے بیرون ملک برآمد بھی کیا جا سکے گا۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔پاکستان میں ہرسال سانپ کے ڈسنے اور پاگل کتوں کے کاٹنے سے کئی اموات ہوتی ہیں کیونکہ اسپتالوں میں اینٹی ریبیزاور سانپ کے زہر کو زائل کرنے والی ادویات یا انجکشن نہیں ہوتے۔

مقبول خبریں