آلو پیاز کی قیمت پرکنٹرول کیلیے برآمد محدود کرنے پر غور

پیاز کی برآمد پیداوار کا 10تا 15فیصد، 20اکتوبر سے 30تا 35ہزار ٹن برآمدکی گئی


Business Reporter November 08, 2013
ایکسپورٹرز نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ پیاز اور آلو کی قیمت میں اضافے کے اصل ذمہ دار زمیندار اور آڑہتی ہیں جبکہ خوردہ سطح پر بھی من مانا منافع کمایا جارہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

وفاقی وزارت تجارت نے آلو اور پیاز کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لیے برآمدات کو محدود کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔

وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق ملک میں پیاز اور آلو کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد آلو اور پیاز کی ایکسپورٹ کو محدود کرنے یا برآمدی سودوں کی رجسٹریشن کی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ایکسپورٹرز سے رائے طلب کرلی ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ایکسپورٹرز سے پیاز اور آلو کی برآمد کی صورتحال اور اب تک ایکسپورٹ کی جانے والی مقدار کی تفصیل سمیت مقامی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں رائے مانگی ہے جس کی روشنی میں حتمی سفارشات وفاقی وزارت تجارت کو ارسال کی جائیں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ ایکسپورٹرز کی جانب سے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بتایا گیا ہے کہ پیاز کی برآمد مجموعی پیداوار کا 10سے 15فیصد ہے اور 20اکتوبر سے اب تک 30سے 35ہزار ٹن پیاز ہی ایکسپورٹ کی گئی ہے جبکہ آلو کی زیادہ مقدار کے پی کے ذریعے سینٹرل ایشیائی ریاستوں کو ایکسپورٹ کی جارہی ہے۔



ایکسپورٹرز نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ پیاز اور آلو کی قیمت میں اضافے کے اصل ذمہ دار زمیندار اور آڑہتی ہیں جبکہ خوردہ سطح پر بھی من مانا منافع کمایا جارہا ہے ، زمینداروں نے پیاز کا اسٹاک روک لیا ہے جس کی وجہ سے پیاز کی قیمت 1900روپے فی من کی بلند ترین سطح پر جانے کے بعد اب 1700روپے من تک آچکی ہے اور سپلائی بڑھنے سے قیمت میں مزید کمی واقع ہوگی۔ ایکسپورٹرز کی جانب سے پیاز کی برآمد پر کسی بھی قدغن کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے آگاہ کیا گیا ہے کہ بھارت کی پیاز کی فصل رواں ماہ کے اختتام تک مارکیٹ میں آجائیگی فی الوقت پاکستانی پیاز بھارتی پیاز کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایکسپورٹ کی جارہی ہے اور بھارتی فصل مارکیٹ میں آتے ہی پاکستانی ایکسپورٹ میں بھی نمایاں کمی آجائیگی۔ مقامی سطح پر پیاز کی کھپت میں عارضی طور پر اضافہ ہوا ہے عیدالاضحیٰ کے بعد محرم الحرام کے دوران عاشورہ تک پیاز کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے جس کے بعد مقامی کھپت بھی کم ہوجائیگی ۔ ایکسپورٹ پر کسی بھی قسم کی پابندی سے پاکستان قیمتی زرمبادلہ سے محروم رہے گا۔