کراچی بلدیہ کے ملازمین اور پنشنرز کی حالت زار

زندگی کے ماہ وسال بلدیہ عظمیٰ میں گزارنے والے جفاکش اور محنت کشوں جن کی وجہ سے شہر کا انتظام چلتا ہے۔


Editorial January 07, 2020
زندگی کے ماہ وسال بلدیہ عظمیٰ میں گزارنے والے جفاکش اور محنت کشوں جن کی وجہ سے شہر کا انتظام چلتا ہے۔ فوٹو؛ فائل

گزشتہ دو روز میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تین ملازمین کا محکمانہ واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ذہنی دباؤ سے انتقال کرنا انتہائی افسوسناک خبر ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی بلدیہ عظمیٰ شدید مالی بحران کا شکار ہے، جس کا لامحالہ اثر حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین پر براہ راست پڑ رہا ہے۔

یہ امر تحقیق طلب ہے کہ آیا بلدیہ عظمیٰ کے اس مالی بحران کی ذمے دار انتظامی ومالیاتی افسران ہیں یا پھر کسی اور وجہ سے فنڈزکی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ یونین رہنماؤں نے جو دردانگیز تفصیلات ایکسپریس کے نمائندے سے بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق فائر ڈرائیور، سب فائرآفیسر مالی پریشانی سے ذہنی دباؤکے باعث دل کا جان لیوا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے جب کہ کے ایم سی کے حال میں میں ریٹائر ہونے والے ملیریا سپروائزر میئرکراچی سے واجبات کی ادائیگی کی درخواست کرچکے تھے۔

ذہنی دباؤکا شکار ہونے سے دماغی شریان پھٹ گئی۔ اس سے قبل صرف فائربریگیڈ کے سات فائر فائٹرز ذہنی دباؤ اور واجبات سولہ ماہ کے اوور ٹائم کی عدم ادائیگی کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔ یہ اعداد وشمار اورحالات دونوں درد انگیز ہیں کہ قانونی واجبات گریجویٹی کے انتظار میں چالیس سے زائد ایسے پنشنر انتقال کرچکے ہیں۔

بلدیہ عظمی میں فرائض کو تندہی سے شب وروز انجام دینے والے ملازمین کا یہ بنیادی حق ہے کہ ان کو واجبات کی ادائیگی بروقت کی جائے تاکہ ان کے مالی مسائل فوری حل ہوسکیں، لیکن اس وقت چار ہزار آٹھ سو زائد ریٹائرڈ اور فیملی پنشنرز کے تین ارب سے زائد کے واجبات بھی تاحال ادا نہیں ہوئے ہیں۔ گریجویٹی اورکمیوٹیشن تو ملازمین کو فوری طور پر ادا کی جانی چاہئیں۔

زندگی کے ماہ وسال بلدیہ عظمیٰ میں گزارنے والے جفاکش اور محنت کشوں جن کی وجہ سے شہر کا انتظام چلتا ہے، ان کے ساتھ ایسا ناروا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ بلدیہ عظمی کی انتہائی سنگین صورتحال اور ملازمین کے درد انگیز نوحہ کو ہم نے ان سطور میں بیان کردیا ہے۔ ارباب اختیار پر فرض ہے کہ وہ ملازمین کے دکھ کا مداوا کریں۔

مقبول خبریں