اچکزئی کی اپیل مسترد اپوزیشن کا دوسرے روز بھی سینیٹ کے باہر متوازی اجلاس مشرف کی رہائی پر احتجاج

لگتا ہے شہباز شریف بلوچستان کے بھی وزیراعلیٰ ہیں، اسمبلی ختم کرکے نئے الیکشن کرائیں،نسیمہ احسان


Numainda Express November 08, 2013
اسلام آباد: پارلیمنٹ ہائوس کے سبزہ زار پر سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس دوسرے روز بھی جاری ہے۔ فوٹو: آئی این پی

سینیٹ میں اپوزیشن کو منانے کی حکومتی کوششیں تاحال کامیاب نہ ہوسکیں،جمعرات کو دوسرے روز بھی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ ہائوس کے سبزہ زار میں متوازی اجلاس منعقد کیا۔

سخت سردی اور بارش کے باوجودکثیرتعداد میں ارکان نے شرکت کی اور پرویز مشرف کی رہائی پرشدید تنقید کرتے ہوئے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے ایوان بالا کا بائیکاٹ کرنیوالے اپوزیشن ارکان کومنانے کی کوشش کی تاہم انھوں نے محمود اچکزئی کی درخواست مسترد کرکے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے ہیں وہ ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے۔ پارلیمنٹ کے سبزہ زار میں ہونے والا احتجاجی اجلاس مقررہ وقت سے سواگھنٹے کی تاخیر سے سینیٹراحمد حسن کی صدارت میں شروع ہوا توپیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ حکومت نے امریکی دبائو پر پرویز مشرف کورہا کیا، وہ بینظیر، اکبر بگٹی کے قتل، لال مسجد آپریشن اور عدلیہ کا مجرم ہے، ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔

حکومت فنڈزکا بہانہ کرکے امریکی دبائو میں آ کر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ جاری نہیں رکھنا چاہتی، دبائو ہماری حکومت پر بھی تھا ہم نے حکومت کی قربانی دے دی لیکن دبائو قبول نہیں کیا، حکومت کی جانب سے سینیٹ میں ڈرون حملوں کے جواعداد وشمار پیش کیے گئے ہیں، ان میں امریکی پوزیشن کومستحکم کیا گیا ہے،غیرملکی میڈیا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان اعداد وشمارکوغلط قراردیا ہے، حکومت نے حالیہ ڈرون حملے پر امریکا کوکوئی تحریری احتجاج نہیں کیا، اس کی تصدیق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کی ہے، وزیر داخلہ کی جانب سے امریکا مخالف بیان ایک ڈرامہ ہے، طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی موقف واضح نہیں، طالبان مذاکرات کے لیے تیار نہیں،اگر کوئی رابطے میں ہے تو بتایا جائے طالبان کے قیدیوں کی رہائی اور شریعت کے نفاذ کے مطالبات پرحکومت کی کیا پوزیشن ہوگی، بات چیت شروع ہوجائے تودہشت گردی ختم کرنے کی ذمے داری کس کی ہوگی، آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط کے تحت عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا گیا ہے،قومی اداروں کی نجکاری قبول نہیں کریں گے ۔



سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ 40 ہزار افراد کے قاتل کو سیاسی ومذہبی جماعتیں شہید قرار دے رہی ہیں ، یہ وہی جماعتیں ہیں جو اے این پی اور پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم پر دہشت گردوں کے حملوں کے موقع پر خاموش تھیں، انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر فخرو بھائی نہیں بلکہ حکیم اللہ محسود تھا۔ نوابزادہ سیف اللہ مگسی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ زلزلہ متاثرین پاکستانی امداد لینے سے انکار کررہے ہیں۔ سینیٹرسعید غنی نے کہا کہ سارے حکومتی وزرا کہتے ہیں کہ وزیرداخلہ کا جواب غلط ہے لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ یہاں سے 5 کلومیٹردور ایک سیانا ڈکٹیٹر بیٹھا ہے، اس نے میاں صاحب کی طرح کسی معاہدے پر دستخط نہیں کئے بلکہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ سے رہا ہو کر جائوں گا ، ان کیخلاف سارے مقدمے ختم ہو گئے اور کوئی آرٹیکل 6 نہیں لگا۔ سینیٹرنسیمہ احسان نے کہا کہ بلوچستان کو اسلام آباد سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، وہاں کے فیصلے رائے ونڈ اور مری میں ہوتے ہیں، چیف سیکرٹری کو پنجاب کا وائسرائے قرار دیا جاتا ہے، لگتا ہے کہ شہباز شریف صرف پنجاب کے ہی نہیں بلوچستان کے بھی وزیراعلیٰ ہیں، بلوچستان اسمبلی کو ختم کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں۔

سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افرادکے لواحقین کوئٹہ سے کراچی تک مارچ کررہے ہیں، 12دن ہوگئے ہیں لیکن کسی حکومت اہلکار نے ان سے رابطہ نہیں کیا ، اس پراحمد حسن نے پوچھا کہ کیا وزیر داخلہ اجلاس میں موجود ہیں ، انھیں بتایا گیا کہ وزیر داخلہ موجود نہیں ہیں ، اس پر اجلاس کے شرکا نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ آن لائن کے مطابق شاہی سید نے کہا کہ اس وقت 3 قسم کے ڈرون حملے ہورہے ہیں، ایک امریکی ڈرون حملے ، دوسرا فاٹا میں غیرملکی دہشت گردوں کے زمینی ڈرون حملے اور تیسرا حکمرانوں کے غیر پارلیمانی ڈرون حملے ہیں جس کی وجہ سے 1999ء میں فوج کو بغاوت کرنے پر اکسایا تھا اور ملک 10سال تک آمریت کے زیر تسلط رہا تھا، میں ان تینوں ڈرون حملوں کیخلاف قرارداد پیش کرتاہوں ، سینیٹر سیف اللہ مگسی نے قرارداد پیش کی کہ بلوچستان کے زلزلہ زدگان کو نظرانداز کرنے اور لاپتہ افراد بازیاب نہ ہونے کی مذمت کرتے ہیں۔ ارکان نے دونوں قراردادوں کی متفقہ منظوری دیدی۔ اجلاس آج جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے پھر ہوگا۔ این این آئی کے مطابق اجلاس کے دوران بارش کی وجہ سے ٹینٹ ٹپکنے لگا اور زمین گیلی ہوگئی تاہم کچھ کرسیاں لگا کر اور کارپٹ بچھا کر اجلاس منعقد کیاگیا۔