مشرف کے بارے میں عدلیہ نے تعصب نہیں برتا جسٹس طارق محمود

پرویزمشرف کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں سسٹم کو چلنا چاہیے،خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز


Monitoring Desk November 08, 2013
فیصلہ درست ہے،قصوری، ملک مشرف کو معاف نہیں کریگا، زین بگٹی،’’کل تک‘‘ میں گفتگو. فوٹو: فائل

سینئر قانون دان جسٹس ریٹائر طارق محمود نے کہا ہے کہ پرویزمشرف کے بارے میں عدلیہ نے کسی قسم کا تعصب نہیں دکھا یا اور اس بات کا عدلیہ کو کریڈٹ جانا چاہیے۔

ججز بحالی کی تحریک بالکل ٹھیک تھی لیکن ہم نے جو خواب دیکھا تھا وہ پورا نہیں ہوسکا۔ ایکسپریس نیو زکے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ پرویزمشرف کی صرف ضمانت ہوئی ہے رہائی نہیں ہوئی ہمارے سسٹم میں تفتیش اوراستغاثہ پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے،جس بھی شخص نے کوئی جرم کیا ہے اس کو آئین اور قانون کے مطابق سزاملنی چاہیے۔لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہاکہ میں نے پرویزمشرف کو معاف کیا میں اس کو گلے بھی لگائوں گا، لال مسجد کے سانحہ سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے کہ ملک میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں پر بچیاں فروخت ہورہی ہیں خدا کے لیے اس ملک کو بچانے کے لیے یہاں قرآن وسنت کا نفاذ کیا جائے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔



پرویزمشرف کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اگر مسئلہ ہے تو سسٹم کا ہے سسٹم کو چلنا چاہیے جب سسٹم نہیں چلتا توری ایکشن پیدا ہوتا ہے اور طالبان بھی ری ایکشن ہی ہے۔ سابق صدر پرویزمشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ میں سمجھتاہوں کہ فیصلہ قانون کے مطابق ٹھیک ہوا ہے پولیس نے تحقیقات کے بعد کہا کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے قانون اور عدالت ثبوت اورشہادت مانگتا ہے، ججز تحریک کے بارے میں میرا موقف پہلے والا ہی ہے ججز بحالی کی تحریک درست نہیں تھی، میڈیا میں کہانیاں بنانے والے اسمارٹ لوگ بہت زیادہ ہیں۔ صدر جمہوری وطن پارٹی شاہ زین بگٹی نے کہاکہ پرویزمشرف نے اس ملک کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے پوراملک مشرف کو معاف نہیں کریگا۔ عدلیہ نے ضمانت کیسے لی یہ ہمیں نہیں پتہ لیکن پرویزمشرف نے کئی مرتبہ خود اقرار کیا کہ ہم ان کو وہاں سے ماریں گے کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔