جنرل کا شکریہ اور نئے طالبان لیڈر

ان دنوں کئی دوسری بڑی خبریں بھی ملی ہیں جن میں جنرل پرویز مشرف کی عدالتی رہائی بھی شامل ہے۔


Abdul Qadir Hassan November 08, 2013
[email protected]

سیاستدانوں نے ملک کی جو درگت بنا دی ہے، اس کا ذکر تو ہوتا ہی رہتا ہے اور ہوتا رہے گا لیکن کوئی ایک سیاستدان ایسا بھی ہے جس کے ذکر اور شخصیت میں راحت ہے، شگفتگی ہے، سکون اور سرور ہے اور بھی بہت کچھ ہے، ان کا اسم گرامی چوہدری انور عزیز ہے، ان کی مہربانی کہ انھوں نے اپنی خوشگوار شخصیت کو پوری قوم اور ملک کے حوالے کر دیا ہے، صرف اپنی برادری تک محدود نہیں رکھا جس کے وہ زبردست دعا گو ہیں۔ ہمارے دوست اسلم خان نے یہ خوشخبری ایک خوبصورت کالم کے ذریعے عنایت کی ہے جس میں چوہدری صاحب کی سالگرہ کے حوالے سے تقریب کا ذکر ہے۔ میں اب کچھ رواں ہو گیا ہوں لیکن ادھر کچھ عرصہ سے کسی باغ کے سرو کی طرح میں پا بہ گل رہا اور مجھے علم نہ ہو سکا کہ ہمارا مہربان اب عمر کی کس منزل سے گزر رہا ہے لیکن ایسے زندہ دل انسان کے لیے زندگی کی ہر منزل جوانی کی کوئی منزل ہوتی ہے، یہ بوڑھے نہیں ہوتے البتہ بوڑھوں کو جوان ضرور رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے چوہدری کو خوش و خرم ہنستا کھیلتا اور ہمیں اپنی زندگی بخش جوان گفتگو سے نوازتا رہے۔

ان دنوں کئی دوسری بڑی خبریں بھی ملی ہیں جن میں جنرل پرویز مشرف کی عدالتی رہائی بھی شامل ہے۔ جنرل صاحب ملک کے فیصلہ کن وقت میں اس کے اقتدار پر مسلط رہے اور ہمارے راستوں میں اتنے کانٹے بچھا گئے کہ ہم انھیں اب تک اپنی پلکوں سے چن رہے ہیں اور لگتا ہے کہ مدتوں تک اپنی آنکھیں اندھی کرتے رہیں گے۔ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ جو شخص پاکستانی فوج کی سربراہی جیسے مقام اور اعزاز تک پہنچا کیا وہ حالات اور مستقبل سے اتنا ہی بے خبر تھا یا پھر اس کی نیت میں کوئی بہت بڑا فتور تھا۔ ایک نارمل سوچ والا سپہ سالار ایسی حرکتیں اور ایسے فیصلے نہیں کر سکتا کہ امریکا کے کسی دوسرے درجے کے سرکاری اہلکار کے صرف ایک ٹیلی فون پر پاکستان جیسے ملک کا مستقبل دائو پر لگا دے۔ اس کی مدد سے عدالتوں سے تو رہائی مل گئی مگر قوم کی جیل سے اس کو رہائی کبھی نہیں مل سکے گی۔ اپنے اقتدار میں انھوں نے پریس کو جو غیر معمولی آزادی دی اس کا میں کئی بار شکریہ ادا کر چکا ہوں اور ایک ذاتی گستاخی کی اب معافی مانگ رہا ہوں۔

اسلام آباد میں کسی موقع پر ملک بھر کے صحافی جمع تھے، ان کے سامنے اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل صاحب نے ڈاکٹر عبدالقدیر سے اپنی پرانی عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ میرے ہیرو نہیں ہیں، اس پر میں نے اپنی نشست سے اٹھ کر کہا آپ کے نہ ہوں لیکن میرے وہ اب بھی ہیرو ہیں۔ میری اس جسارت اور گستاخی پر پورے ملک کے صحافی حیران رہ گئے اور اس انتظار میں کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے لیکن وہ میری یہ گستاخی ہضم کر گئے جب کہ وہ کچھ بھی کر سکتے تھے، اب میں اس کی معافی اس لیے مانگ رہا ہوں کہ وہ اپنی کسی وجہ یا وجوہات کی بنا پر سچے تھے اور میری جو وجہ تھی افسوس صد افسوس کہ وہ غلط نکلی۔ ڈاکٹر صاحب کا ایٹم بم کا کارنامہ بلاشبہ ناقابل فراموش ہے لیکن افسوس کہ وہ خود اس کارنامے کو وہ عزت نہ دے سکے جو پوری قوم نے بے ساختہ دی تھی اور ہماری طرح اب تک اس پر قائم ہے۔

بات جنرل صاحب کی ہو رہی تھی کہ ایک تو انھوں نے صحافت کو مکمل آزادی دی جس سے میں بھی ایک صحافی کے طور پر مستفید ہوا اور میں اس پر ان کا شکر گزار ہوں، دوسرے میری مذکورہ ذاتی گستاخی پر صرف نظر کر کے انھوں نے مجھے احسان مند کیا۔ ان کی ذات سے وابستہ یہ دونوں باتیں مجھے یاد رہیں گی اور میں ان کا مسلسل شکر گزار رہوں گا ویسے انھوں نے اور جو کچھ بھی کیا وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔ تعجب ہے کہ ان کے وزیروں کو بھی میں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے سنا اور مجھے یہ سب سن کر متلی ہوتی رہی۔ بہر کیف ہر ایک کا کلچر اور تربیت اس کی ذاتی خوبی یا خرابی ہے۔

ان دنوں ایک بڑی خبر طالبان کی دنیا سے متعلق ہے جس کا سابقہ لیڈر امریکا کے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا اور اس کی جگہ ایک نیا لیڈر آیا جو پاکستان کے لیے ظاہر ہے کہ اجنبی نہیں ہے بلکہ ہم نے تو اس کی گرفتاری وغیرہ پر پانچ کروڑ روپے کا انعام رکھا ہوا تھا۔ طالبان کا نیا لیڈر فضل حیات عرف ملا فضل اللہ جو ملا ریڈیو کے عرف سے مشہور تھا، ریڈیو کے ذریعے اس نے طالبان کے مشن کی بڑی خدمت کی تھی۔ یہ سوات کے حالات میں خاص طور پر ملوث تھا۔ یہ سوات کی تحصیل کبل کے علاقے امام ڈھیری کا رہنے والا ہے اور اس وقت تک یہ پاکستان کے مخالفین میں شمار ہوتا تھا۔ ہماری عجیب بدقسمتی ہے کہ بھارت کی مستقل دشمنی کے ساتھ ساتھ اب ایک اور دشمن بھی پیدا ہو گیا ہے۔ طالبان کا گروہ یقیناً بھارت کی سرپرستی میں پاکستان سے دشمنی کر رہا ہے۔ ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے لیڈر اور سیاستدان جو ایک دشمن کے مقابلے میں بھی ہار کر اس کی خوشامدیں کر رہے ہیں، اب اس دوسرے سر پھرے دشمن کا کیا مقابلہ کریں گے۔

بھارت کے برعکس یہ لوگ ایک بالکل مختلف کلچر سے ہیں اور سودا بازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انھیں راضی رکھنا بہت مشکل ہے جب کہ ان کے مقابلے میں ہمارے سیاستدان اور لیڈر ایسی سیاست کے عادی نہیں ہیں۔ ہمارے لیے ایک اور مشکل محاذ جو مدتوں سے کھلا ہوا ہے، اب مزید دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں معلومات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ طالبان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے لیکن سخت موقف شاید ایک مجبوری ہو گی۔ ہمارے حکمران جن کے پاس معلومات زیادہ ہیں، وہ ظاہر ہے کہ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن خدا کرے وہ کسی کے ایک ٹیلی فون پر ہی ملک سے دستبردار نہ ہوں، ملک کی جو حالت بن چکی ہے اس میں کوئی حکمران بھی نجات کے راستے تلاش کرتا ہو گا۔

مقبول خبریں