متحدہ اور پی پی میں چپقلش کیوں
پچھلے دنوں متحدہ کے ایک وفد نے پی پی پی کے سرپرست اعلیٰ آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔
اختلافات یا اختلاف رائے کو جمہوریت پسند ''جمہوریت کا حسن'' کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ اصطلاح درست ہو لیکن اختلاف رائے جب سیاسی مفادات کا نتیجہ ہو تو یہ جمہوریت کو بدصورت بنا دیتا ہے۔ اختلاف رائے خواہ وہ جمہوری ہو یا غیر جمہوری اگر ان کے پیچھے عوامی مفادات کار فرما ہوں تو بلاشبہ ہم اسے جمہوریت کا حسن کہہ سکتے ہیں لیکن ہماری جمہوریت میں جس قسم کے اختلاف رائے نظر آتے ہیں وہ نہ صرف سیاسی مفادات اور تعصبات پر مبنی ہوتے ہیں بلکہ جمہوریت کی نفی بھی کرتے ہیں۔ جمہوریت دراصل عوامی مفادات کے تحفظ کا نام ہے۔ اس حوالے سے ہم اگر اپنی کمسن جمہوریت پر نظر ڈالیں تو اس کی مختصر سی تاریخ ذاتی اور جماعتی مفادات کی تاریخ نظر آتی ہے اور اس میںموجود اختلافات اپنی بنیاد میں عوام دشمنی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ویسے تو ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بھی اختلاف رائے عموماً جماعتی یا ذاتی مفادات پر ہی مبنی ہوتے ہیں لیکن پاکستان اس حوالے سے اس قدر نیک نام ہے کہ اس کا جمہوری حسن ایک ایسی بدصورتی بن گیا ہے جسے عوام دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔
آج اختلاف رائے پر اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ صوبہ سندھ اور پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر جس قسم کے ہولناک مسائل سے دوچار ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس صوبے میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ان ہولناک مسائل کا مقابلہ کرتیں، لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں سیاسی مفادات کی جنگ میں اس بری طرح الجھی ہوئی ہیں کہ انھیں اس افسوسناک حقیقت کا ذرہ برابر احساس نہیں رہا کہ کسی زمانے کا عروس البلاد کراچی ایسے خوفناک جنگل میں بدل گیا ہے، جہاں وحشی درندے دن کے اجالے میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ عوام کی جان محفوظ ہے نہ مال نہ عزت و آبرو۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بہ جانب ہیں کہ کیا انھوں نے سیاسی جماعتوں کو اس لیے ووٹ دیے تھے کہ وہ عوام کو ان خونی بھیڑیوں کے سامنے پھینک کر جمہوریت کے حسن کے نام پر اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کی جنگ میں مصروف رہیں؟
سندھ میں دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں، ایک پیپلز پارٹی دوسری متحدہ قومی موومنٹ۔ پی پی پی سندھ کے دیہی علاقوں کی نمایندگی کرتی ہے اور متحدہ سندھ کے شہری علاقوں کی۔ اگرچہ 2008ء سے 2013ء تک 5 سال یہ دونوں جماعتیں کولیشن کا حصہ رہیں لیکن المیہ یہ رہا کہ پانچ سال کا یہ طویل عرصہ باہمی اختلافات اور سخت محاذ آرائی میں گزر گیا، سندھ کی ان دو بڑی جماعتوں کی جنگ کا نقصان یہ ہوا کہ کراچی ایک ایسے خوفناک جنگل میں بدل گیا جہاں عوام نہ گھر کے اندر محفوظ رہے نہ گھر کے باہر۔ جن لوگوں کو عوام نے اس جنگل کو مہذب انسانوں کی بستی بنانے کے لیے منتخب کیا تھا، وہ جماعتیں بد قسمتی سے اس ہولناک جنگل کو مزید ہولناک بنانے کا ذریعہ بن گئیں۔ 2013ء کے الیکشن کے بعد روایات کے برخلاف متحدہ نے سندھ حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہر منتخب سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ حکومت میں شامل ہو یا اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیپلز پارٹی صوبے کے عوام کے وسیع تر مفاد میں سندھ کی اس اتحادی جماعت کی جائز شکایات اور تحفظات کو دور کر کے اسے حکومت کا حصہ بناتی اور اس اتحاد کی بنیاد وزارتیں، سفارتیں وغیرہ نہ ہوتیں بلکہ ایک ایسا مشترکہ ایجنڈا ہوتی جس کا مقصد کراچی کو جنگلی درندوں سے نجات دلا کر اس شہر کے دو کروڑ اور صوبے بھر کے عوام کو ایک مطمئن پرامن اور آسودہ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا لیکن اس بدقسمتی کو کیا کہیں، کیا نام دیں کہ ان دو بڑی پارٹیوں کے درمیان سخت محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔
پچھلے دنوں متحدہ کے ایک وفد نے پی پی پی کے سرپرست اعلیٰ آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ ہو سکتا ہے اس ملاقات کا مقصد اپنے تحفظات سے زرداری صاحب کو آگاہ کر کے انھیں دور کرنے کی کوشش کرنا اور حکومت میں شامل ہو کر صوبے خاص طور پر کراچی کے ناگفتہ بہ حالات کو بہتر بنانا ہو لیکن ممکن ہے ان کے تحفظات دور نہ ہو سکے ہوں۔ اور اس پس منظر میں ان کی طرف سے یہ بیان آیا ہو کہ ''متحدہ حکومت کا حصہ نہیں بن رہی ہے''۔ کسی بھی وجہ سے اگر متحدہ حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے اور حکومت کو اس کا یہ حق تسلیم کرنا چاہیے اور کوشش کرنا چاہیے تھی کہ کسی طرح یہ دونوں بڑی جماعتیں متحد ہو کر کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتیں لیکن ہمارے محترم وزیر اطلاعات سندھ نے متحدہ کے اس بیان کے جواب میں یہ بیان داغ دیا کہ ''ہم نے متحدہ کو حکومت میں شامل ہونے کی کوئی دعوت نہیں دی اور زرداری سے متحدہ کے وفد کی ملاقات اس کی خواہش پر کرائی گئی۔''
اس قسم کے بیانات اگرچہ جلد بازی کا نتیجہ نظر آتے ہیں لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ حکومت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے والے عوام مزید مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وزیر اطلاعات سندھ کے فوری بعد کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا پہلا بیان حکومتی پالیسی سے متصادم اور جلد بازی پر مبنی تھا۔ وزیر اطلاعات اور رحمان ملک کے بعد کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ کی حکومت متحدہ کو ساتھ لے کر سندھ خاص طور پر کراچی کے خطرناک حد تک بگڑے ہوئے حالات کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ یہ ایک اچھی علامت ہے، اگر متحدہ کسی وجہ سے سندھ حکومت کا حصہ بننا نہیں چاہتی تو بھی ایک عوامی مفادات اور کراچی کے حالات درست کرنے کے ایجنڈے پر دونوں بڑی جماعتیں ساتھ چلیں تو یقیناً کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کی امید ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تنازعات عموماً جماعتی مفادات کے زیر اثر رہے ہیں لیکن ملک تباہی کے جس خطرناک دہانے پر کھڑا ہے اس کا تقاضا ہے کہ سخت ترین سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر کراچی اور ملک کو بچانے کے لیے ایک نکاتی ایجنڈے پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوں۔ اس حوالے سے اگر متحدہ اور پیپلز پارٹی پیش رفت کرتی ہیں تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ کراچی کو اس آگ سے بچایا جا سکے، جس میں دو کروڑ غریب عوام برسوں سے جل رہے ہیں۔ کراچی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام بے پناہ مہنگائی، گیس، بجلی کی پریشان کن لوڈ شیڈنگ، ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، کروڑوں کی بینک ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائم کے جن عذابوں سے گزر رہے ہیں ان کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ان کی ترجیحات طے کرنے اور ایک جامع منصوبہ بندی اور موثر حکمت عملی کے ساتھ انھیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی چونکہ ملک کی اقتصادی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا لہٰذا اس صوبے کی حکومت اور اپوزیشن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ متحد ہو کر آگے بڑھیں۔
اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ 66 سال گزرنے کے باوجود یہاں ابھی تک ایک قوم ہونے کا تصور ناپید ہے۔ اہل سیاست نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر جن میں سرفہرست جاگیردار طبقہ رہا ہے عوام کو مختلف حوالوں سے تقسیم کر رکھا ہے، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ عوام کی اجتماعی طاقت کو پارہ پارہ کر کے رکھا جائے تا کہ عوام کبھی اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔ اسی مفاداتی سیاست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منفی اور عوام دشمن طاقتوں نے اپنے آپ کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کر لیا ہے کہ آج پختونخوا سے کراچی تک کہیں حکومت کی رٹ نظر نہیں آتی، منفی اور عوام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں پورا ملک یرغمال بنا ہوا ہے۔ منفی اور عوام دشمن طاقتیں ملک پر اپنا عوام دشمن ایجنڈا مسلط کرنے کی انتہائی منظم اور ماہرانہ منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور حکومت انتہائی غیر منظم، غیر منصوبہ بند اور انتہائی ناقص حکمت عملی کے ساتھ اس عفریت کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر سیاست دان، ہر مذہبی رہنما مختلف سمتوں میں رخ کیے کھڑا ہے، اس انتہائی خطرناک موت و زیست جیسے مسئلے پر اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ چونکہ منفی قوتوں کی نظریں کراچی پر لگی ہوئی ہیں لہٰذا اس صوبے کی حکومت کی ذمے داری اور فرض ہے کہ وہ تمام سیاسی اور اعتدال پسند مذہبی جماعتوں کو ساتھ لے کر سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کراچی کو وحشی طاقتوں سے مختلف قسم کے جرائم پیشہ لوگوں اور گروہوں سے بچانے کی سنجیدگی سے کوشش کرے۔