فخرالدین جی ابراہیم جمہوریت کا فخر

ان کی زندگی جدوجہد اور کامیابیوں سے عبارت تھی۔ انھوں نے ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔


Editorial January 09, 2020
ان کی زندگی جدوجہد اور کامیابیوں سے عبارت تھی۔ انھوں نے ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے نامور قانون دان، سابق گورنرسندھ اورسابق چیف الیکشن کمشنر، ریٹائرڈ جسٹس فخر الدین جی ابراہیم 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

مرحوم ایک نامور قانون دان اورآئینی ماہر تھے، جنہوں نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر، وفاقی وزیرقانون اور سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کی حیثیت سے ملک وقوم کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں اور سٹیزن پولیس لائزن کمیٹی جیسا ادارہ قائم کیا، جس کے باعث کراچی اور صوبہ سندھ میں جرائم کی سرکوبی میں مدد ملی۔ ان کی زندگی جدوجہد اور کامیابیوں سے عبارت تھی۔ انھوں نے ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔

ان کی پیدائش 1928 میں انڈین ریاست گجرات میں ہوئی جہاں انھوں نے ابتدائی تعلیم اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے تھے، لہذا ہرآمرکے آمرانہ اقدامات کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ 1981 میں جب سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج تھے، تب جنرل ضیاالحق کا عبوری آئین حکم کے تحت دوبارہ حلف لینے کا حکم نامہ آیا تو جسٹس دراب پٹیل کے ہمراہ انھوں نے بھی انکارکیا۔ جب کہ ایک اور آمرجنرل مشرف نے 2007 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخارچوہدری کو ہٹایا تو انھوں نے بھی نہ صرف حکومت کی پیروی سے انکارکیا بلکہ وکلا تحریک میں انتہائی متحرک نظر آئے۔کراچی میں شہریوں کے ساتھ تعاون کے لیے بنائے گئے ادارے سی پی ایل سی کی تشکیل میں بھی انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔

ان کو 2012 میں چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا گیا اور 2013 کے انتخابات ان کی زیر نگرانی ہوئے۔ انھیں جاننے والے زیادہ تر' فخرو بھائی' کہہ کر مخاطب کرتے،آج وہ ہم میں نہیںلیکن درحقیقت وہ جمہوریت کا فخر ہیں ،قوم ایک جینیس سے محروم ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں