پاکستان کا عزم امن و دوستی

تقاضائے وقت ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے بادل ٹالے جائیں۔


Editorial January 11, 2020
تقاضائے وقت ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے بادل ٹالے جائیں۔ فوٹو: فائل

لاہور: مشرق وسطیٰ میں امریکا ، ایران جنگ کا خطرہ بادی النظر میں ٹل گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان آیندہ کسی کی جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔

پاکستان امن والا ملک بنے گا، انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہم دوسروں کی جنگوں میں شریک ہوتے رہے، اور بہت نقصان اٹھایا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب ہماری سب سے بڑی کوشش ایران اور سعودی عرب میں دوستی کرانا ہے۔ وہ ہنر مند پاکستان پروگرام پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

پاکستان کے دوسروں کی جنگ میں شریک ہونے سے گریز کے اس پیراڈائم شفٹ کا اظہار وہ دھرنے کے دوران اور اپنے ٹی وی انٹرویوز میں کرچکے تھے۔یاد رہے دوسروں کی یہ جنگ نائن الیون کی وہ تباہ کاری تھی جو امریکی سابق صدر جارج بش کے ایک دست راست نے پاکستان کو اس کھلی دھمکی کے بعد جنگ میں شامل کیا تھا جب امریکا کی طرف سے گن بوٹ ڈپلومیسی کے تحت الٹی میٹم دیا کہ ''آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔''

یہ خطے کی نئی صورتحال کا پیش خیمہ ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری سمیت اپنے تمام دوستوں،حلیفوں اور امریکا کو پیغام دیا ہے کہ اب پاکستان امن ، دوستی اور تعاون و مصالحت کی بنیاد پر اپنی خارجہ حکمت عملی تشکیل دے چکا ہے۔

حقیقت میں وزیراعظم نے ایران ، امریکا جنگ کے ہولناک ماحولیاتی تناظر میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے عالمی طاقتوں کو باور کرایا کہ اب پاکستان خطے اور علاقائی صورتحال میں غیرجانبدارانہ حقیقت پسندی پر مبنی تعلقات کو اہمیت دے گا، اور انسانیت کو درپیش انسانی، سیاسی، معاشی اور ترقی وخوشحالی کے بین المملکتی پروگراموں میں دست تعاون بڑھانے میں پہل کرسکتاہے ،جنگجویانہ معاملات میںکسی کا طفیلی سیارہ بننے پر تیار نہ ہوگا۔ سفارتی حلقوں کو اس حقیقت کا علم ہوگا کہ وزیراعظم نے اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی کہا تھا کہ ہم امریکا اور ایران کے درمیان دوستی کرانے کے لیے تیارہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2019 مشکل سال تھا مگر قوم کو وقت کے تقاضوں سے آگاہ کرنا بھی ناگزیر ہے، ملکی سیاسی تاریخ الم ناک اور ناخوشگوار فیصلوں کے دردناک نتائج کے بوجھ سے ابھی نجات نہیں پا سکی ، ملک 80ء کی دہائی سے خطے میں تزویراتی گہرائی (اسٹرٹیجک ڈیپتھ کے الجھاؤ میں رہا ، افغان جنگ میں امریکا کے دباؤ پر پاکستان کو بوجوہ افغان مسئلہ میں فرنٹ لائن کردار ادا کرنا پڑا جو اس نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیا، اور ملکی سیاست میں سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک پیج پر رہتے ہوئے افغانستان میں وہی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی جو بالٓاخر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے باعث ہولناک ایران، امریکا تصادم پر منتج ہوکر دنیا کے امن کو تباہی سے دوچار کر سکتی تھی ، جب کہ پیدا شدہ صورتحال میں پاکستان نے دوراندیشی کا مظاہرہ کیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصبوں سے رابطے ، بڑھائے، دفتر خارجہ نے دنیا کو تحمل اور خطے میں امن کے لیے مسائل پر بات چیت کا پیغام دیا ۔ وزیراعظم عمران خان کا صائب اعلان تھاکہ سال 2020 عوام کو روزگار دینے کاسال ہے، اسی میں ملکی اقتصادی ترقی کے کمٹمنٹ کا اعادہ کیاگیا۔

ادھر اقوام متحدہ میں امریکی سفیرکیلی کرافٹ کی جانب سے لکھے گئے خط میںکہاگیا ہے کہ امریکا امن مذاکرات کے لیے تیار ہے جس کا مقصد ہے بین الاقوامی امن و امان کو نقصان پہنچنے سے بچانا اور ایرانی حکومت کو جارحیت اختیارکرنے سے دور رکھنا ہے، جب کہ ایران نے کہا ہے کہ جنگ چاہتے اور نہ ہی کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق ضرور رکھتے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق اقوام متحدہ کو لکھے خط میں امریکا نے موقف پیش کیاکہ اقوام متحدہ کی شق 51 کے تحت ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔

امریکا نے مزیدکہاکہ اگر ضرورت پڑی تو وہ مشرق وسطی میں اپنے اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے مزید اقدام اٹھائے گا۔ دوسری جانب ایران کے سفیرماجد تخت روانچی نے لکھاکہ ایران نہ کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے نہ جنگ لیکن اپنے دفاع کی خاطرایران نے عراق میں امریکی اڈے کو نشانہ بنا کرایک مناسب اور خاطر خواہ جواب دیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہاکہ امریکی اڈوں پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹرکی شق 51 کے تحت اپنے دفاع میں کیا۔

انھوں نے مزیدکہاکہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق ضرور رکھتے ہیں۔ میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا امریکا اب زیادہ عرصے تک خطے میں قیام نہیںکر سکتا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ سمجھنا ہوگاکہ امریکا کو خطے کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

جواد ظریف نے کہا خوبصورت جنگی ہتھیاروں پر 2ہزار ارب ڈالر خرچ کیے لیکن یہ ہتھیارنہیں بلکہ عوام دنیا پرحکمرانی کرتے ہیں اور خطے کے عوام اب یہاں امریکاکو نہیں دیکھنا چاہتے۔ انھیں حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے عوامی جذبات کو سمجھنا ہوگا، انھیں اپنا طریقہ کار تبدیل کرنا چاہیے کیونکہ یہ صورتحال امریکا کے لیے ہرگزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جا رہی ہے۔

جواد ظریف نے کہا کہ ٹرمپ ایک کے بعد ایک غلطی کرتے جا رہے ہیں اور امریکی آئین کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں ایرانی رہبرعلی خامنہ ای نے عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پرمیزائل حملوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے زوردیا کہ امریکی افواج کو خطے سے چلاجانا چاہیے۔ انھوں نے اعتراف کیاکہ سلیمانی کی ہلاکت پرایران کا جواب ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری بات چیت کا کسی بھی طور دوبارہ آغازامریکاکے غلبے کی راہ ہموارکردے گا۔

ادھر مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق بھارت میں ایرانی سفیر ڈاکٹر علی نے کہا ہے کہ ایران مغربی ایشیا میں کشیدگی کوکم کرنے کے لیے بھارت کے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرے گا۔ ایران جنگ نہیںچاہتا، ہماری خواہش ہے کہ اس خطے میں ہرایک کے لیے امن اور خوش حالی ہو۔ ادھر امریکی نائب صدرمائیک پنس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بہترین تیاریوں اور مکمل طور پرمستعد رہنے کے سبب ایرانی میزائل حملوں میںکوئی امریکی یا عراقی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ دریں اثنا نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نے امریکی صدرسے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ نیٹو اتحادیوںکو مشرق وسطیٰ میں کھل کراپنا کردارادا کرنا چاہیے۔

امریکی صدر نے کہاکہ وہ مشرق وسطیٰ میں زیادہ کرداراداکریں۔ علاوہ ازیں آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہے کہ آسٹریلیاکی فوجیں بدستور عراق میں تعینات رہیںگی کیونکہ صورتحال اچانک مستحکم ہوگئی ہے۔ مزید برآں امریکا اورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکا میں مظاہرین ایران سے ہمدردی کے لیے سڑکوں پرنکل پڑے۔ واشنگٹن، کیرولینا سمیت دیگر شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین ایران پرپابندیاں نہ لگانے، امریکی فورسزکو عراق سے نکالنے اوربمباری روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

تقاضائے وقت ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے بادل ٹالے جائیں، امن عالم کی مشترکہ ضرورت سے کوئی ملک بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ وقت نے جو مفاہمت کی زیتون والی دوطرفہ شاخ سامنے رکھی ہے ، ایران اور ٹرمپ کو اسے جھٹکنے کے بجائے ہاتھ میں تھام لینا چاہیے۔کیونکہ جنگ میں جیت کسی کی نہیں ہوتی امن کی فاختہ زخمی ہوجاتی ہے۔

مقبول خبریں