66 برس بعد بھی

عورتوں سے متعلق جب دلدوز خبریں آتی ہیں تو مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب ہندوستان پر برطانوی راج تھا اور ان کے ...


Zahida Hina November 09, 2013
[email protected]

عورتوں سے متعلق جب دلدوز خبریں آتی ہیں تو مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب ہندوستان پر برطانوی راج تھا اور ان کے خلاف جدوجہد آزادی میں لاکھوں ہندوستانی عورتیں شریک تھیں۔ پھر جب پاکستان بنانے کی تحریک چلی تو ہندوستان کی ہزاروں مسلمان عورتوں نے بھی حصہ ڈالا۔ ان میں بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں رہنے والی عورتیں بھی شامل تھیں، ان کا خیال تھا کہ بٹوارے کے بعد پاکستان میں انھیں وہی حقوق ملیں گے جو ان کی ہندوستانی بہنوں کے حصے میں آئیں گے۔ اس مقصد کی خاطر ابتدائی دنوں سے ہی انھوں نے نئے ملک میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ اس میں مس فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور شائستہ سہروردی اکرام اﷲ جیسی پڑھی لکھی، باشعور اور سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والی عورتیں شامل تھیں۔ ان میں سے بیگم شائستہ سہروردی اکرام اﷲ کا نام خاص طور سے ذکر کے قابل ہے۔ وہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کی ممبر تھیں اور جانتی تھیں کہ جب تک نئے ملک کا جمہوری آئین نہیں بنے گا اس وقت تک لوگوں کے حقوق انھیں نہیں مل سکیں گے اور نہ ملک جمہوریت کے راستے پر چل سکے گا۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ عورتوں کے حقوق کا تعلق بھی آئین سے ہے۔ اس کام کو جس قدر غیر اہم سمجھا جارہا تھا اس بارے میں ملک کے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ان کا اختلاف ہوا اور یہ اس حد تک بڑھا کہ انھوں نے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا۔

اس وقت یہ باتیں اس لیے میرے ذہن میں آ رہی ہیں کہ قیام پاکستان کے ابتدائی چند برسوں کے بعد سے ہمارے یہاں عورتوں کے آئینی اور انسانی حقوق چھینے جاتے رہے، ایک طرف یہ صورتحال رہی اور دوسری طرف خواتین اور سول سوسائٹی کا ایک حصہ اس رجحان کے خلاف لڑائی لڑ تا رہا اور یہ لڑائی آج تک جاری ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس لڑائی کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ بظاہر ہم حالت جنگ میں نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شمالی علاقے اور ملک بھر میں دہشت گردی پھیلانے والوں نے ہمیں ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کے انتہائی سنگین نتائج یوں تو سب پر مرتب ہو رہے ہیں لیکن عورتیں اس کا سب سے بڑا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماحولیات سے متعلق پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ قیام امن کے پس منظر میں قدرتی وسائل استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہوتی ہے لیکن سیاسی اور اقتصادی سطح پر ان کا کردار اس سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس صورتحال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق امن اور سماجی بہتری جیسے مقاصد اس وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب قدرتی وسائل تک مردوں اور عورتوں کی رسائی مساوی اور مستقل بنیادوں پر ہو۔ جنگ اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں گھریلو سطح پر اگرچہ پانی، خوراک اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں خواتین کا اہم کردار ہے لیکن زمین کی ملکیت اور قدرتی وسائل کے فوائد سے انھیں اکثر محروم رکھا جاتا ہے۔ اس محرومی کا دائرہ کار اکثر امن معاہدوں تک پھیل جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قیام امن کی کوششوں میں خواتین کی ضرورتوں کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

تعمیر نو کی سرگرمیوں میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ یہ حقیقت اس امر کے باوجود ہے کہ جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بھی خواتین کا ہے۔ بعض اوقات وہی پورے خاندان کی دیکھ بھال اور پرورش کرتی ہیں۔ قدرتی وسائل کی مینجمنٹ سے خواتین کو دور رکھنے اور صنفی عدم مساوات کے نتیجہ میں جنگ سے متاثر علاقوں کی تعمیر نو کا عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں خواتین کو زراعت اور تعمیرات جیسے شعبوں کے مواقع تک مساوی رسائی دے کر ان شعبوں کی کارکردگی میں20 سے 30 فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قدرتی وسائل کی مینجمنٹ میں خواتین کی مساوی بنیادوں پر شرکت کو یقینی بنائیں تا کہ ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ میں پاکستان کی حکومت سے یہ کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں پھیلی ہوئی دہشت گردی نے بطور خاص لاکھوں عورتوں اور لڑکیوں کو جس طرح در بدر کیا ہے، ان کے مسائل پر توجہ دی جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومت اس بارے میں ٹھوس اقدامات نہیں کر سکی ہے۔ اگر اس بارے میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر زور ڈالا جائے تو وہ مالی مسائل اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی کا رونا روتی ہیں اور سرحدوں سے پرے غیر ملکی امدادی اداروں کی طرف دست سوال دراز کرتی ہیں۔ صوبائی اور وفاقی اداروں کی بعض مجبوریاں سمجھ میں آتی ہیں، اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھیں ان در بدر عورتوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے تھا وہ انھوں نے نہیں کیا۔ اس موقع پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ پاکستانی عورتوں اور لڑکیوں کی جان، مال اور عزت کی نگہ داری کے حوالے سے ہماری حکومت اور اس کے اہلکار ناکام کیوں رہے ہیں؟ اس وقت چیچا وطنی سے آنے والی خبریں صرف دل دہلا دینے والی ہی نہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ اپنے قیام کے 65 برس بعد بھی حکومت اپنی شہری خواتین کی جان اور عزت کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

ساہیوال (منٹگمری) میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ کی آبادی والا ایک چھوٹا سا شہر چیچا وطنی ہے۔ شیر شاہ سوری کی بنائی ہوئی جرنیلی سڑک جس کے قریب سے گزرتی ہے۔ ایک ایسا نام جس نے ہمیشہ تجسس میں گرفتار کیا۔ اس نام کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا نام سندھ کے راجا داہر نے اپنے باپ مہاراجا چچ کے نام پر رکھا اور اسے ''چچ کا شہر'' کے نام سے آباد کیا۔ دوسری روایت کہیں زیادہ قدیم ہے۔ اس روایت کے مطابق اسے ایک مال دار اور مشہور ہندو خاندان کے بیٹے نے اپنے ماں باپ کے نام پر آباد کیا۔ باپ کا نام چیچا اور ماں وطنی کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ بیٹے کی محبت نے اسے ''چیچا وطنی'' کا نام دیا اور آج تک یہی نام چلا آتا ہے۔

یہ شہر مویشیوں کی منڈی، کپاس، گیہوں اور بھٹے کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ اس علاقے کے بہت سے لوگوں نے انیسویں صدی میں اپنی غربت اور پسماندگی سے نجات پانے کے لیے مذہب بدلا۔ اس وقت یہ حاکموں کا مذہب تھا۔ وہ حاکموں کے ہم سر تو نہ ہوئے لیکن مشنری لوگوں نے ان کی بدحالی کو کم کرنے کے لیے جی جان سے کام کیا۔ ان کو تعلیم دلائی اور ان کی صحت کے مسائل حل کرنے میں بھی دلچسپی لی۔

ضلع ساہیوال کے شہر چیچا وطنی سے عورتوں کے حوالے سے نہایت پریشان کن خبریں آ رہی ہیں۔ خبر یہ ہے کہ ایک مہینے کے اندر چیچا وطنی میں دو درجن سے زیادہ لڑکیوں اور عورتوں پر خنجر سے حملے کیے گئے ہیں۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ شام کے وقت اپنے گھروں سے نکل کر بازار گئی تھیں تا کہ خریداری کر سکیں۔ منہ پر ڈھاٹے باندھے ہوئے لوگوں نے ان کے شانوں، گردن، پیٹھ اور بعض لڑکیوں کے چہروں پر خنجر سے وار کر کے انھیں اس بری طرح زخمی کیا کہ انھیں اسپتال پہنچانے کی نوبت آ گئی۔

زخمی ہونے والی لڑکیوں اور عورتوں نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والوں نے ان سے کہا کہ کسی بھی لڑکی یا عورت کا شام کے وقت بازار جانا اور خریداری کرنا اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔ یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ ضلع کے پولیس افسر نے حملہ کرنے والوں کا کھوج دینے والے کو 2 لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا اور چیچا وطنی کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا کیونکہ وہ علاقے کی عورتوں کی حفاظت میں ناکام رہا تھا۔ عورتوں پر ان حملوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سارے علاقے میں دہشت پھیل گئی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں لڑکیوں کی حاضری کم ہوگئی ہے۔ ماں باپ اور تعلیمی اداروں کے پرنسپل اور ٹیچر پریشان ہیں کہ مذہب کا نام لے کر لڑکیوں اور عورتوں کو زخمی کرنا اور انھیں ہراساں کرنا کس مذہب میں آیا ہے۔

اخباروں نے ان واقعات کے خلاف ایڈیٹوریل بھی لکھے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو گرفتار کر کے ان پر کرمنل کورٹس میں مقدمے چلائے جائیں اور انھیں سزائیں دی جائیں۔ سول سوسائٹی کے لوگوں کا خیال ہے کہ ان چھرے بازوں کو مذہب کے نام پر برین واش کیا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کی سائیکوتھراپی کی جائے۔

میں سوچتی ہوں کہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والی عورتوں کے اگر وہم و گمان میں بھی ہوتا کہ 66 برس بعد بھی ان کی نسلوں کا یہ حشر ہو گا تو وہ کیا سوچتیں اور کیا کرتیں؟

مقبول خبریں