پرال بہترین سافٹ ویئر بنانے میں ناکام رہارمضان بھٹی کمیشن

پاکستان میں ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب15 فیصد تک لانے کے لئے اصلاحات کا پروگرام ناکام ہوگیا۔ کمیشن کی رپورٹ


Ehtisham Mufti November 10, 2013
ڈیٹامنتقلی کا نظام بھی غیرمحفوظ ہے،سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشافات فوٹو: فائل

ایف بی آر اور اسکے ماتحت محکموں کے لیے سافٹ ویئرسسٹم متعارف کرنے والے ادارے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) بہترین معیار کا سافٹ ویئر بنانے میں ناکام رہا ہے جبکہ پرال میں تعینات افرادی قوت خودکارنظام کے تحت ریونیو وصولیوں کے طریقہ کار سے بھی نا واقف ہے۔

یہ انکشاف سپریم کورٹ کے قائم کردہ رمضان بھٹی کمیشن کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرال کے پاس آڈٹ کی آن لائن سہولت بھی موجود نہیں جبکہ ڈیٹا کی ایک سسٹم سے دوسرے سسٹم پرمنتقلی کا نظام بھی غیرمحفوظ ہے، یہی وجہ ہے کہ پرال اپنے قیام کے طویل دورانیے میں ریونیو چوری کے کیسز پکڑنے میں ناکام رہا۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ پرال ایک ایسا سسٹم بن گیا ہے جس میں مختلف اوقات کے دوران کسی ایک موضوع پر جوابات، رپورٹس بھی مختلف جاری ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرال کا اگرچہ سسٹم آڈٹ کیا گیا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اسکی آڈٹ رپورٹ کو خفیہ رکھا گیا ہے۔



 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیاکہ عالمی بینک نے سال2004 تا 2010 کے دوران ایف بی آر میں ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارمزپروجیکٹ شروع کیا تھا جس کے ذریعے پاکستان میں ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب15 فیصد تک لانا مقصود تھا لیکن اصلاحات کا یہ پروگرام بھی ناکام ہوگیا۔

اس ضمن میں پاکستان اکانومی فورم کے وائس چیئرمین شرجیل جمال نے بتایا کہ پرال کے سسٹم میں موجود بھٹی کمیشن کی نشاندہی شدہ تمام خامیوں سے متعلق فورم کی جانب سے سال2012 میں ہی وفاقی وزیرخزانہ، چیئرمین ایف بی آر، ممبر کسٹمز ایف بی آر سمیت دیگر متعلقہ ذمے داروں کو متعدد خطوط کے ذریعے آگاہ کردیا گیا تھا لیکن فورم کی ان گزارشات پر ذمے داروں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ پرال اور اسکے متعارف کردہ سافٹ ویئرز میں موجود خامیوں کو اگر ایک سال قبل ہی دور کردیا جاتا تو کسٹمز کی سطح پر رونما ہونے والے بیشتر اسکینڈلز اورریونیو چوری کے واقعات رونما نہیں ہوتے اور نہ ہی حکومت کو ریونیو خسارے سے دوچار ہونا پڑتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت بارہا نشاندہی شدہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ٹھوس حکمت عملی وضح کرے تاکہ معاشی پہیہ بلارکاوٹ ومشکلات کے ترقی کی جانب گامزن ہوسکے۔

مقبول خبریں