شام باغیوں کا حلب کی اہم رسدگاہ پر دوبارہ قبضہ 64 افراد ہلاک

جنیوا امن کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کرنے کیلیے اپوزیشن کا استنبول میں اجلاس


AFP November 10, 2013
فوجی ٹینکوں پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا اور اہم رسد گاہ اسٹرٹیجک بیس 80 پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ فوٹو: فائل

KARACHI: شام میں حکومت کے خلاف سرگرم باغیوں نے شہرحلب کے قریب واقع اہم رصد گاہ پر دوبارہ قبضہ کرلیا جبکہ اس دوران جھڑپ میں کم از کم 64 افراد مارے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے منسلک جہادی تنظیم کے جنگجوئوں نے رات گئے شام کی حکومتی فورسز پر جوابی حملہ کردیا۔ فوجی ٹینکوں پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا اور اہم رصد گاہ اسٹرٹیجک بیس 80 پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ آبزرویٹری ڈائریکٹر رامی عبداللہ رحمن نے بتایا کہ اس دوران کم از کم53 افراد مارے گئے جن میں 33 باغی جنگجو اور 20 حکومت کے وفادار تھے جبکہ بمباری سے بھی11افراد مارے گئے۔ بیس 80 سے حلب کے فوجی ہوائی اڈے اور نیراب ملٹری ایئرفیلڈ کو سپلائی مہیا کی جاتی ہے۔



دوسری طرف شام کی شکستہ اپوزیشن ہفتے کو ترکی کے شہر استنبول میں اکٹھی ہوئی، اپوزیشن کے اس اجلاس میں طے کیا جائے گا کہ آیا جنیوا کے امن مذاکرات میں شرکت کرنی چاہیے یا نہیں جبکہ ''وعد پارٹی'' کے نام سے نیا سیاسی گروپ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے' سیاسی جماعت کا باضابطہ اعلان منگل کو استنبول ہی میں کیا جائے گا۔ ادھر ڈنمارک کی حکومت نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام سے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کیلیے مقررہ جگہ تک لے جانے میں مدد پر تیار ہے۔ کوپن ہیگن میں ڈنمارک کے وزیر دفاع نکولا وامینا نے کہاکہ اقوام متحدہ نے ان کی حکومت سے رجوع کیا ہے اور غیر سرکاری طور پر درخواست دی ہے کہ شام سے کیمیائی ہتھیار لے جانے کیلیے بحری جہاز فراہم کرے۔ دوسری جانب ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ہتھیار تلف کرنے کی خاطر ڈنمارک نہیں لائے جائیں گے۔