پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات

ہم نے بحیثیت قوم موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے کسی بھی قسم کی پلاننگ تاحال نہیں کی ہے۔


Editorial January 14, 2020
ہم نے بحیثیت قوم موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے کسی بھی قسم کی پلاننگ تاحال نہیں کی ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں۔ ملک بھر میں بارش جب کہ پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ جاری رہنے سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہوچکی ہیں جب کہ لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے۔

پروازوں کی آمد ورفت متاثر ہوئی ہے، لوگ گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے۔ ہر سال فضائی آلودگی کے باعث پنجاب کے کئی شہرا سموگ کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ کیا یہ صورتحال ایک دن میں پیدا ہوئی ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔

ہم نے بحیثیت قوم موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے کسی بھی قسم کی پلاننگ تاحال نہیں کی ہے ۔ ایڈیشنل سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر سال ایک لاکھ اٹھائیس ہزار افراد کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ارکان کو بتایا گیا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اوسط عمر دوسے پانچ برس تک کمی آسکتی ہے۔

جب ان تمام واقعات کی رپورٹس منظر عام آتی ہیں تو ان رپورٹس کو داخل دفترکر دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ ایک بہت بڑا مسئلہ مانا جاتا ہے۔ پاکستان کا ایک ہزار میل سے زائد کوسٹل ایریا ہے، اگر سطح سمندر بلند ہوتی جائے گی ، تو صورتحال مزید پریشان کن ہوجائے گی ،گرمی کی شدت سے گلیشیئرز پگھلیں گے تو پھر سیلاب آنے سے کون روک سکتا ہے اور پینے کے پانی کی قلت مزید بڑھ جائے گی۔ سندھ میں اس وقت گھریلو صارفین کے لیے گیس کی دستیابی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

جس کی وجہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ مسلسل سی این جی اسٹیشنز بند رہنے سے کراچی جیسے شہر میں نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ شدید سردی کے موسم میں عوام کی حالت زار پر حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ صنعتی انقلاب کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جنگلات کا خاتمہ بھی ہمیں خودکشی کی طرف لے جارہا ہے۔ کلائمنٹ چینج کے حوالے سے ہمیں شعور اور بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں ہم پر انحصارکرتی ہیں ، ہمیں اپنی نسلوں کی بقا کے لیے کلائمٹ چینج کے حوالے سے قومی پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔

مقبول خبریں