49 سستی دوائوں کی بھارت سے درآمد پر پابندی

تھیلیسیمیا ، کینسر اور ایڈز کی مقامی ادویات بھارتی ادویات سے کئی گنا مہنگی ہیں


INP November 10, 2013
ادویات تیا رشدہ مصنوعات ہیں جبکہ فہرست میں بعض نمکیات اور خام مال بھی شامل ہے جو ان ادویات کی مقامی پیداوار میں بھی مفید ہوسکتا ہے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

وزارت تجارت نے مقامی ادویہ ساز کمپنیوں سے ملی بھگت کے ذریعے انہیں غریب پاکستانی عوام کو لوٹنے اور اربوں کے فوائد پہنچانے کیلیے تھیلیسیمیا ، کینسر اور ایڈز سمیت 49 ضروری اور بھارت میں سستی تیار ہونے والی ادویات پاک بھارت تجارت کی منفی فہرست میں شامل کردیں۔

مذکورہ ادویات پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیاں یہ ادویات کئی سو گنا مہنگی قیمت پر بیچ رہی ہیں' بھارت سے درآمد کی صورت میں پاکستان میں یہ زندگی بچانے والی ضروری ادویات کئی گنا کم قیمت پر کینسر اور دیگر مہلک امراض کا شکار غریب شہریوں کو دستیاب ہوسکتی ہیں۔ وزارت تجارت کی ایک رپورٹ کے مطابق ان ادویات کو مقامی تیار کنندگان کے تحفظ کیلیے منفی فہرست میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ یہ تمام ادویات مقامی طور پر تیار کی جارہی ہیں اور انکی بھارت سے درآمد کی صورت میں مقامی صنعت تباہ ہونے کا خدشہ ہے تاہم ادویہ سازی کے ماہرین کے مطابق ان میں سے صرف چند ایک ادویات پاکستان میں تیار کی جاتی ہیں جبکہ اکثر ادویات ملٹی نیشنل کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔



دلچسپ امر یہ ہے کہ وزارت نے موقف اختیار کیا ہے کہ منفی فہرست میں شامل کی گئی۔ ادویات تیا رشدہ مصنوعات ہیں جبکہ فہرست میں بعض نمکیات اور خام مال بھی شامل ہے جو ان ادویات کی مقامی پیداوار میں بھی مفید ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان ادویات کی بھارت سے درآمد کی صورت میں پاکستان میں زندگی بچانے والی ادویات کی آسمان کو چھوتی قیمتوں میں توازن لایا جاسکتا ہے لیکن وزارت کے بعض حکام اور پاکستان میں قائم ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور مقامی ادویہ سازی کی صنعت کے کرتا دھرتائوں نے ملی بھگت کے ذریعے ان ادویات کو پاک بھارت تجارت کی منفی فہرست میں شامل کرا کر اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا ہے اور پاکستان کی غریب اور عام لوگوں کو زندگی بچانے کی سستی ادویات کے حصول سے محروم کر دیا ہے۔