لیبیا میں خانہ جنگی ختم ہونے کی امید بدستور قائم

خانہ جنگی میں تین سو کے لگ بھگ سویلین اور دو ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔


Editorial January 15, 2020
خانہ جنگی میں تین سو کے لگ بھگ سویلین اور دو ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فوٹو : فائل)

لیبیا کے مشرقی علاقے کے مرد آہن جنرل خلیفہ حفتر نے ماسکو میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات پر دستخط کرنے کے معاملے کو ملتوی کر دیا ہے لیکن روسی حکومت نے کہا ہے کہ انھیں نو ماہ سے جاری خانہ جنگی کے ختم ہونے کی اب بھی پوری امید ہے۔ حفتر حکومت اور قیاض السراج کی حکومت جسے کہ اقوام متحدہ نے تسلیم کر رکھا ہے، ان دونوں کے درمیان سات گھنٹے تک مذاکرات ہوئے لیکن وہ بغیر نتیجہ کے ختم ہوئے تاہم روس نے اس حوالے سے کسی امن معاہدہ پر پہنچنے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

طرابلس میں السراج حکومت قومی معاہدے کے تحت تکمیل پذیرائی ہوئی، اسے گزشتہ اپریل کے مہینے سے حفتر کی وفادار فورسز کی طرف سے حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کی بنیاد ملک کے مشرقی علاقے میں رکھی گئی ہے، اس حکومت میں ان کے وفادار سیاستدان بھی شریک ہیں۔ دونوں فریقوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کو قبول کر لیں گے جو اس اختتام ہفتہ کو تسلیم کر لی گئی تھیں اور امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔

اس طرح تیل کی دولت سے مالا مال شمالی افریقی ملک میں جنگ اختتام کو پہنچ جائے گی جو 2011 سے جاری ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے صدر سراج اور طرابلس کی اعلیٰ کونسل نے جنگ بندی کی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں لیکن حفتر اور اس کے اتحادی اگویلا صالح نے مزید مہلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دستاویز کا باریک بینی سے مطالعہ کر لیا جائے۔

ان مذاکرات میں ترکی اور روس کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع نے سہولت کار کا کردارادا کیا ۔ جنگ بندی کا اعلان روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی طرف سے کیا گیا ہے جب کہ ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان نے بھی گزشتہ ہفتے استنبول میں صلح نامے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ساری سرگرمیوں کے نتیجے میں کچھ وقت تک جنگ بندی جاری رہی جب کہ صدر اردوان نے امید ظاہر کی کہ اس جنگ بندی کی مدت میں یقیناً اضافہ ہو جائے گا۔ ترک صدر اردوان نے اعادہ کیا ہے کہ اطالوی وزیراعظم جیوسیپی کونتی کے ساتھ ملاقات کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آ جائے گا۔ دریں اثناء جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے گزشتہ روز روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ماسکو میں ملاقات کی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ پائیدار صلح کی کوشش کی جانی چاہیے جس کی بعدازاں تصدیق بھی کی جا سکے۔ مغربی طاقتیں چاہتی ہیں کہ لیبیا کے استحکام کی ضمانت دی جانی چاہیے جو افریقہ میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے لیکن اس کو مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے خطرہ ہے جو بحران سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

خانہ جنگی میں تین سو کے لگ بھگ سویلین اور دو ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ لیبیائی باشندے بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔ روس اورترکی کی طرف سے شروع کیے جانے والے امن پراسس کی حمایت کی توقع کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں