سیاسی ہلچل

زمینی حقیقت سے گریز اور چشم پوشی کی بھاری قیمت پی ٹی آئی حکومت کو ادا کرنی پڑی۔


Editorial January 15, 2020
زمینی حقیقت سے گریز اور چشم پوشی کی بھاری قیمت پی ٹی آئی حکومت کو ادا کرنی پڑی۔ فوٹو: فائل

پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات پیر کو بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ متحدہ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بات چیت نہیں نتیجہ چاہیے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا اور تمام جائز مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی، وزیراعظم نے خالد مقبول کو اسلام آباد بلایا تاہم ذرایع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم لچک دکھانے سے گریزاں ہے۔پی ٹی آئی ذرایع کے مطابق وزیراعظم آیندہ ماہ کراچی آکر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اپنی تشکیل کے دن سے مشکلات کا شکار رہی، اسے ایک طرف اتحادیوں ، الیکٹیبلز اور پارٹی کے داخلی پریشر کا سامنا رہا اوردوسری طرف گزشتہ ڈیڑھ سال سے شدید انتظامی، سیاسی اور معاشی چیلنجز کے باعث اسے ہر قسم کے پریشر،دباؤ، مطالبات، اپوزیشن جماعتوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور کرپشن سے پاک سسٹم کے لیے اعصاب شکن محاذ آرائیوں نے سمت کی درستی کی مہلت نہیں دی۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اتحادیوں کو مختلف النوع شکایات ہیں ، ایم کیو ایم سمیت جی ڈے اے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل حکومت سے سخت ناراض ہیں، پیر کو وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں حکومتی وفد بہادرآباد کراچی میں متحدہ کے عارضی مرکز پہنچا۔

وفد میں حلیم عادل شیخ، خرم شیرزمان اور فردوس شمیم نقوی شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران اسد عمر نے خالد مقبول سے ناراضی ختم کرنے کی استدعا کی، ایم کیو ایم کے مطالبات درست ہیں انھیں ہمیشہ تسلیم کیا ہے، معاملات الگ ہونے سے نہیں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے۔ کراچی کے لیے162ارب سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبے ہونگے، عمران خان نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس منگل کو طلب کر لیا جس میں ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔ مشاورت کے بعد حکومتی کمیٹی دوبارہ ایم کیو ایم سے ملاقات کریگی۔

جی ڈی اے کے ترجمان سردار رحیم نے کہا کہ جی ڈے اے کے وفاقی حکومت سے بعض معاملات پر تحفظات ہیں، پیر پگارا کی ہدایت پر بہت جلد مشاورتی اجلاس بلایاجائے گا، ادھر مئیر کراچی وسیم اختر بھی کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیح کراچی نہیں، معاہدے کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوئے، بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے مطالبات میں بھی وعدوں کے ایفا نہ ہونے کا شکوہ ہے، پنجاب میں حکومتی کمیٹی کاق لیگ سے رابطہ ہے ،اسی ہفتے مشترکہ اجلاس ہوگا، ق لیگ نے ترقیاتی پیکیج کا مطالبہ کررکھا ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے مابین حکومت میں شمولیت اور بطور اتحادی د ومعاہدے ہوئے، پہلا معاہدہ اسلام آباد میں 3 اگست 2018 میں طے پایا جس میں بطور گواہ ڈاکٹر عارف علوی اور فیصل سبزواری کے دستخط تھے، نو نکاتی معاہدے کی کسی شق پر عمل نہیں ہوا، دوسرا معاہدہ 10دن بعد 13 اگست2018 کو طے پایا ۔ اس میں بطور گواہ عمران اسماعیل اور ایم کیو ایم کے عامر خان نے دستخط کیے۔ گزشتہ روز فیصل سبزواری نے ایک ٹی وی گفتگو میں گزشتہ عام انتخابات میں کراچی میں ایم کیو ایم کی انتخابی نشستوں میں کمی پر یہ استدلال پیش کیا کہ اصل نتائج پچاس فی صد سے قطعی مختلف برآمد کیے گئے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں مسائل بے شمار ہیں، برس ہا برس سے شہر قائد کو ایک لاوارث میگا سٹی کے طور پر چلایا گیا، مقامی حکومت کی بنیاد کمزور پڑ گئی،اس کے لیے ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی اور انتظامی معاملات افراط وتفریط کا شکار ہوگئے، سندھ حکومت اوروفاق کے مابین سر دجنگ اور رسہ کشی نے شہریوں کو اعصابی مریض بنادیا، ہمہ اقسام کے بنیادی ایشوز اور صحت،تعلیم،ٹرانسپورٹ، رہائش، اور ماحولیاتی چیلنجز نے صورتحال کو پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے مابین شٹل کاک ڈپلومیسی کا کھیل بنا ۔گڈگورننس پر صوبائی حکومت کی ترجیحات ڈھیلی پڑ گئیں۔

وفاق و سندھ حکومت میں تناؤ کے خاتمہ کی کوئی تدبیر کارگر اس لیے ثابت نہ ہوسکی کہ اشتراک عمل کا سارا وقت ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے بجائے الزام تراشی اور کشیدگی میں ضایع ہوا جب کہ ضرورت پی ٹی آئی ، سندھ حکومت اور دیگر اتحادیوں سے مفاہمت اور اتفاق رائے کی تھی۔

تاہم زمینی حقیقت سے گریز اور چشم پوشی کی بھاری قیمت پی ٹی آئی حکومت کو ادا کرنی پڑی ، آج وزیراعظم اتحادیوں کو منانے میں مصروف ہیں جب کہ سیاسی رواداری، جرائم کی روک تھام، مہنگائی کے خاتمہ ، بجلی ،گیس کی فراہمی اور گندگی وغلاظت سے پاک شہر قائد اسٹیک ہولڈرز میں مثالی خیر سگالی اورباہمی تعاون کا منتظر ہے۔

مقبول خبریں