غیر ممالک میں قید پاکستانیوں کی رہائی و واپسی کی ضرورت

سعودی حکومت کی جانب سے باقی پاکستانی قیدیوں کے کیسز کا جائزہ لینے کا بھی عندیہ دیا گیا تھا.


Editorial January 15, 2020
سعودی حکومت کی جانب سے باقی پاکستانی قیدیوں کے کیسز کا جائزہ لینے کا بھی عندیہ دیا گیا تھا۔ فوٹو: فائل

اخباری اطلاع کے مطابق28 ممالک میں دس ہزار 896 پاکستانی جیلیں کاٹ رہے ہیں۔ قانونی معاونت نہ ملنے پر چھ ہزار دو سوگیارہ کو مجرم قرار دیا جاچکا ہے۔

یہ رپورٹ انتہائی تشویش ناک ہے،سنگین جرائم میں ملوث افراد کی بات الگ ہے لیکن ایسے پاکستانی جو قانونی طور پر بیرون ملک گئے اورکسی نہ کسی دانستہ یا نادانستہ جرم اور غلطی کی وجہ سے پابند سلاسل ہوئے، ان کی مدد کرنا پاکستان کی حکومت کا آئینی فرض ہے، لیکن قیدیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ غیر قانونی طریقوں سے بارڈرکراس کرنے والوں کے کوائف کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

گزشتہ برس فروری میں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تب وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں قید پاکستانی قیدیوں کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی تھی، جس کے بعد سعودی ولی عہد نے سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔

مذکورہ قیدی سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں قید تھے، سعودی حکومت کی جانب سے باقی پاکستانی قیدیوں کے کیسز کا جائزہ لینے کا بھی عندیہ دیا گیا تھا، مئی میں متحدہ عرب امارات سے بھی 572 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

بیرون ممالک جانے والے اکثر افراد کم تعلیم یافتہ اور مزدور ہوتے ہیں جو ملک میں روزگارکے ناکافی مواقعوں کی بنا پر اپنے خاندان کے معاشی استحکام کے لیے بیرون ملک کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، ایسے افراد جو ناگہانی حالات اور قوانین سے ناواقفیت کی بنا پر بھی قانون کے دائرے میں آ جاتے ہیں،تاہم ایسے افراد کی مدد کرنا حکومت کی ذمے داریوں میں شامل ہے جو معمولی جرائم پر قید ہونے والے پاکستانیوں کی سزا میں تخفیف کے ساتھ ان کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے حکومت کو اقدامات اٹھانے چاہیئیں۔

مقبول خبریں