مسئلہ کشمیر اقوام عالم کی چشم پوشی

اپنا حق مانگنا اچھی بات ہے اور کشمیریوں میں اپنا حق حاصل کرنے کا ولولہ ہے۔


Editorial January 18, 2020
اپنا حق مانگنا اچھی بات ہے اور کشمیریوں میں اپنا حق حاصل کرنے کا ولولہ ہے۔ (فوٹو: فائل)

وز یر اعظم عمران خان نے جرمن میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ کشمیر پانچ ماہ سے مسلسل محاصرے کی حالت میں ہے، پاکستان کشمیر پرکسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کے لیے تیار ہے،تمام امور پر دنیا کے خاموش رہنے کی وجہ زیادہ تر تجارتی مفادات ہیں۔ درحقیقت وزیراعظم نے پاکستان کا موقف انتہائی بلند آہنگ کے ساتھ بیان کیا ہے۔

ساری دنیا جانتی ہے کہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے مطابق بھی یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ تاریخ کے سیاق وسباق میں تقسیم ہند کے بعد ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیرکی اکثریتی آبادی یعنی مسلمانوں کی مرضی کے خلاف 26 اکتوبر 1947کو بھارت کے ساتھ کشمیرکے الحاق کا اعلان کر دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ ہوئی۔

جب مجاہدین نے اپنی کارروائیاں شروع کیں اورکشمیر میں آزادی کو ممکن بنادیا تب بھارت روتا ہوا اقوام متحدہ کے پاس جا پہنچا اور اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے زیرنگرانی استصواب رائے کا انتظام کیا جائے گا اور جنگ بندی کی لائن کھینچ دی گئی۔ تب تک 37 فیصد کشمیرکو پاکستان واپس حاصل کر چکا تھا، جسے ''آزاد کشمیر'' کا نام دیا گیا۔

1950 سے 1953 تک اقوام متحدہ نے کوششیں جاری رکھیں مگر بھارت کی مکاری اور چالاکیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ استصواب رائے نہ کروا سکا۔ بھارت نے متعدد بار نام نہاد الیکشن کروا کر نام نہاد حکومتیں بنائیں مگرکشمیری عوام نے کبھی انھیں تسلیم نہیں کیا۔ تب سے لے کر اب تک بھارت ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو شاندار خطاب کیا تھا اس کا اثر تھا کہ کشمیرکو بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں کو ہی یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، پاکستان کسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کے لیے تیار ہے، یہ فیصلہ کشمیریوں کو خود کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افسوس بین الاقوامی برادری کشمیر کے تنازعے پر بہت کم توجہ دے رہی ہے سوچنے کا مقام ہے کہاس کے مقابل ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہروں کو میڈیا کتنی توجہ دے رہا ہے۔

بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے ان کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں،بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور یہی وجہ ہے کہ 80 لاکھ کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ بھارت میں مجموعی طور پر اقلیتوں کے ساتھ بھی، اس پر بین الاقوامی برادری کے رویے میں قدرے سرد مہری پائی جاتی ہے۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا سچ ہے کہ کشمیری عوام نے ہمیشہ سے ہندوؤں اور انگریزوں کی مخالفت کی اور ان کے خلاف سرعام بغاوت کرتے رہے ہیں۔

اپنا حق مانگنا اچھی بات ہے اور کشمیریوں میں اپنا حق حاصل کرنے کا ولولہ ہے۔ بھارت چاہے اپنی ساری فوجیں بھی کشمیر میں اتار دے تو بھی وہ کشمیریوں کی آواز کو کچل نہیں سکتا۔ چند برس قبل برطانیہ میں شامل اسکاٹ لینڈ ، اسپینی علاقے کاتالونیا اور عراق کے ایک حصے،کردستان میں عوامی ریفرنڈم منعقد ہوئے۔ان تینوں علاقوں کے باشندگان معاشی ، معاشرتی ، ثقافتی، لسانی یا مذہبی بنیاد پر اپنے خطوں کو آزاد وخودمختار دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل ریفرنڈموں کی وساطت ہی سے انڈونیشیا کا علاقہ مشرقی تیمور اور سوڈان کا حصہ،جنوبی سوڈان آزاد ریاستوں کے روپ میں ڈھل چکے۔ اسی طرح عالمی قوتوں نے حکومت سوڈان پر مسلسل دباؤ ڈالے رکھا کہ وہ جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم کرائے۔ اب بھی ان کی بنیادی دلیل یہی تھی کہ علاقے میں عیسائیوں کی اکثریت ہے جو اپنی تہذیب وتمدن اور اقدار وروایات کے مطابق زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔

سوڈانی حکومت نے بھی جنوری 2011 میں جنوبی سوڈان میں ریفرنڈم کرا دیا۔ علاقے کے لوگوں نے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ، سوجنوبی سوڈان آزاد مملکت بن گیا۔ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو اقوام عالم کوکشمیریوں کو خود ارادیت سب سے پہلے دینا چاہیے، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ریفرنڈم کرانے کے سلسلے میں مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کا کیس سب سے زیادہ مضبوط ہے۔اس خطے میں مسلم اکثریت ہے اور وہ ہندو حکومت کے ماتحت زندگیاں نہیں گذارنا چاہتے، لیکن عالمی قوتیں ان کے مطالبہ آزادی سے نہ صرف مسلسل چشم پوشی کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں کی مسلسل جدوجہد ضرور رنگ لائے گی، اورکشمیری جلد آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے۔

مقبول خبریں