حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ طالبان شوریٰ کریگی خالد خراسانی

امریکا بھارت کا تعاون ہوتا تو اینٹی ایئر کرافٹ گن حاصل کرکے پاکستانی طیارے مار گراتے


INP November 12, 2013
تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خالد خراسانی نامعلوم مقام پر صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں ۔ فوٹو : اے ایف پی

کالعدم تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خالد خراسانی نے کہا ہے کہ ہمیشہ سیاسی پارٹیوں اور افواجِ پاکستان نے طالبان کے ساتھ دھوکا کیا ہے اور آخری دھوکا ہمارے امیرحکیم اللہ محسودکی ڈرون حملے میں شہادت کی صورت میں تھا۔

حکیم اللہ محسود کی شہادت کا بدلہ فوج اور سیاسی پارٹیوں سے لیں گے، مذاکرات کے حوالے سے تحریک طالبان کے ترجمان کا بیان رسمی موقف نہیں تھا، رسمی موقف طالبان کے نئے امیر اور شوریٰ کے مشترکہ اجلاس کے بعد آئے گا، تحریک طالبا ن میں انتشار کی خبریں من گھڑت ہیں، تحریک پاکستان کی سطح پر شریعت کا نفاذ کرنے کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کیلیے لائحہ عمل تیار کرے گی۔ نا معلوم مقام پر صحافیوں کے گروپ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہاکہ میڈیا میں تبصرے کیے جارہے ہیں کہ فضل اللہ کے انتخاب سے مذاکرات کا ہونا ناممکن ہے۔

یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ان تمام امور سے متعلق فیصلے شوریٰ کرتی ہے۔ تحریک طالبان کوبیرونی امداد کے سوال پرعمر خالد خراسانی نے کہا کہ امریکا، بھارت اور کفری طاقتیں ہماری دشمن ہیں۔



ہم نے ان پر ابودجانہ خراسانی، فیصل شہزاد کی صورت میں حملے کیے ہیں اور میں نے بذات خود بھی جہادکشمیر میں بھی حصہ لیا ہے ، اگر کسی ملک کا تعاون حاصل ہوتا تو اینٹی ایئر کرافٹ گن حاصل کرکے پاکستانی طیاروں کو مار گراچکے ہوتے۔ جس طرح ہم ملکی افواج اور حکومت کو دشمن سمجھتے ہیں اسی طرح بھارت کو بھی دشمن سمجھتے ہیں ۔

مہمند ایجنسی، باجوڑ،سوات سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں طالبان کی باہمی تعاون سے گوریلا سرگرمیاں جاری ہیں۔ انسدادپولیو ورکرز پر حملے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہم چلانے والے غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اگر پاکستان کے حق پرست علما متفقہ طور پر انسداد پولیو ویکسین کو جائز قرار دیں تو ہم رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ ڈرون حملوں کا ہمیں سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا کہ آئے روز مجاہدین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ عوام کی ہمدردی بھی مل رہی ہے ، ڈرون حملوں سے ہمیں اس لیے خوف نہیں کہ ہمارا مقصد شہادت کا حصول ہے۔