برطانیہ اور ایران میں سفارتی تعلقات بحال دونوں ملکوں نے ناظم الامور مقرر کردیئے

برطانیہ نے اجے شرما اور ایران نے محمد حسن حبیب اللہ زیدی کو ناظم الامور مقررکردیا


News Agencies/AFP November 12, 2013
عالمی ادارے کا عملہ ایرانی جوہری تنصیبات بشمول یورینیم کی ایک کان کا بہتر انداز میں معائنہ کر سکے گا، ایرانی عہدیدار اور آئی اے ای اے کے سربراہ کی ملاقات

برطانیہ اور ایران نے تعلقات کی بحالی کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے ناظم الامور کی سطح پردونوں ملکوں کے دارالحکومتوں میں اپنے نمائندوں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔

اس حوالے سے برطانیہ کا نمائندہ رواں ماہ تہران کا دورہ کرے گا۔2011 میں تہران میں برطانوی سفارتخانے پر حملے کے بعد سے لندن اورایران کے تعلقات کشیدہ تھے، برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ ایران کیلیے نمائندے کے نام کا اعلان جنیوا میں حالیہ تہران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرا خارجہ نے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کیلیے مذاکرات کیے اور آج دونوں حکومتوں نے ناظم الامور کی سطح پردونوں ملکوں کے دارالحکومتوں میں اپنے اپنے نمائندوں کے ناموں کا اعلان کردیا۔ برطانوی وزارت خارجہ نے ایران کیلیے اجے شرما کو اپنا ناظم الامور مقرر کردیا جس کے بعد ایران نے بھی محمد حسن حبیب اللہ زیدی کو برطانیہ کیلیے ناظم الامور مقررکردیا۔ ایرانی نمائندہ بھی جلد ہی برطانیہ کا دورہ کرے گا۔



دوسری طرف اقوام متحدہ اور ایران نے تہران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں معاملات کو حل کرنے کیلیے تعاون پر اتفاق کیا ہے، جوہری توانائی سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ یوکیا آمانو اور جوہری اْمور سے متعلق ایران کے اعلٰی ترین عہدیدار علی اکبر صالحی کے درمیان پیر کو ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ایسی حکمتِ عملی سامنے آئی جس کی مدد سے اقوام متحدہ کا عملہ جوہری تنصیبات بشمول یورینیم کی ایک کان کا بہتر انداز میں معائنہ کر سکے گا۔ آئی اے ای اے نے گزشتہ دو برسوں سے اپنی توجہ ایران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے جس کے تحت دستاویزات، عملے اور جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات تک رسائی حاصل کی جا