لبنان میں مہنگائی ٹیکسوں کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے

پْرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مزید 370 افراد زخمی ہو گئے۔


Editorial January 21, 2020
پْرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مزید 370 افراد زخمی ہو گئے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں خراب معاشی صورت حال کے خلاف احتجاج پْر تشدد مظاہروں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ہنگاموں نے پھر سر اٹھایا ہے، احتجاج میں مظاہرین نے حکومتی تبدیلی کو ناکافی قرار دینے کے ساتھ مہنگائی اور ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پْرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مزید 370 افراد زخمی ہو گئے جب کہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے باعث صورت حال نے تشویش ناک رخ اختیار کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ لبنان میں معاشی صورت حال اور اضافی ٹیکسوں کے خلاف17اکتوبر 2019 سے مظاہرے جاری ہیں، ان مظاہروں کے باعث لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے 29 اکتوبر کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو پارلیمان کی عمارت کے نزدیک جانے سے روکنے اور منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اورپانی پھینکنے والی توپ کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس کے لاٹھی چارج کے جواب میں نوجوان مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور پولیس اہلکاروں کی جانب گملے بھی پھینکے۔ مظاہرین نے بیروت کے مختلف علاقوں سے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں نکلنا شروع کیا تھا اور پھر وہ ریلیوں کی صورت میں شہر کے مرکزی حصے میں واقع پارلیمان کی جانب بڑھنا شروع ہوگئے تھے۔ صدر مشیل عون نے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ مظاہرے ختم کرانے کی کوشش کریں۔ ساتھ ہی انھوں نے پر امن مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی ہدایات کی ہیں۔

لبنان کے مستعفیٰ وزیر اعظم سعد حریری نے کہاہے کہ بیروت کے وسط میں جاری تنازعات، جلاؤ گھیراؤ اور تخریب کاری کی کارروائیوں کا منظر ایک پاگل، مشکوک اور ناقابل قبول منظر ہے جس سے شہری امن کو خطرہ ہے اور اس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں، ہم بیروت کو ملک کا امن تباہ کرنے کے لیے سیاسی اکھاڑا نہیں بننے دیں گے۔

ادھر اسرائیل نے لبنانی سرحد پر دفاعی نظام کی تنصیب کرنا شروع کردیا ہے،اسرائیلی فوج نے لبنان کی سرحد پر نئے دفاعی کی تنصیب کی تصدیق بھی کردی ہے، فوجی ترجمان کے مطابق شمالی اسرائیل کی سرحدی کارروائیوں کو روکنے اور نگرانی کے لیے حساس آلات نصب کیے جارہے ہیں، ابھی تک اسرائیلی کارروائی پر لبنانی فوج یا حزب اللہ کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے، گزشتہ برس اسرائیل نے اسی سرحدی علاقے میں کئی ایسی سرنگوں کو تباہ کرنے کادعوی کیا تھا جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے جنگجوؤں نے کھود رکھی تھیں۔

نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار راجرکوہن کی ایک رپورٹ کے مطابق ''عرب بہار'' بیروت میں لوٹ آیا ہے، رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ عرب انقلاب اور تبدیلیوں کی لہر کی قندیل لبنان میں روشن ہوچکی جس نے اقتصادی شدید بحران کی شکل اختیار کرلی ہے، اخبار نے لکھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران کے مشرق وسطیٰ میں سیاسی و عسکری کردار کو سخت دھچکا لگا ہے اورلبنانی حکومت بھی ڈگمگا گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پر تشدد واقعات کے باوجود عوام اس بات پر پختہ عزم رکھتے ہیں کہ وہ ظلم وجبر کے سامنے کسی طور سرنڈرنہیں کریں گے،ادھر لبنان کی شیعہ برادری کو داخلی صورتحال اور شامی کی صورتحال پر سخت تشویش ہے۔

مبصرین کے مطابق لبنان کے بحران کو سماجی اور معاشی محرومیوں کے تناظر اور لبنانی حکومت کی ناکامی کے سیاق وسباق میں دیکھنے کی ضرورت ہے، کہا جاتا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ نصراللہ نے مظاہرین کے مطالبات سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ریت میں لکیر کھینچ دی ہے جو لبنانی حکومت کے مستقبل کے بارے میں ہے اور عرب دنیا کے لیے لبنان کی صورتحال پر ایک بڑا فیصلہ کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ جب کہ اسرائیل اس پر کریک ڈاؤن کے لیے پر تول رہا ہے۔

مقبول خبریں