میلی آنکھ ڈرون اور پروفیسر ’’چوم نومسکی‘‘
اگر کسی نے ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو ان کی آنکھوں کو نوچ کر کتے بلیوں کی خوراک بنا دیں گے
کچھ لوگ صحیح بات کو بھی غلط جگہ سے پکڑ کر غلط اینگل سے موڑ دے کر غلطستان میں لے آتے ہیں اور خواہ مخواہ کی غلطی ہائے مضامین کا ایک طومار باندھ لیتے ہیں۔
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومار ناز ایسا
کہ پشت چشم سے جس کے نہ ہووے مہر عنواں پر
ابھی کل ہی ایک ایسا ہی غلط فہم، غلط بول اور غلط گو قسم کا ''منفی تنقیدیا'' ملا اور ڈرون حملوں کے سیدھے سادے موضوع کو جلیبی بناتے ہوئے ایک نازک مقام پر لے آیا ۔
اس غلط فہم ''منفی تنقیدیے'' کا خیال تھا کہ اس نے ہمیں اس طعنے سے لاجواب کر دیا ہے کہ اب ذرا ڈرون حملوں کے بارے میں تو بتا کہ تمہارا وہ آنکھیں نکالنے کا دعویٰ کیا ہوا، جانتا نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے چنانچہ ہم نے بھی قلم کے پائنچے اونچے کیے اور کالم کی آستین چڑھا کر ہلہ بول دیا، پھر جو ہماری طرف سے تابڑ تو ڈرون ترون اور ٹرون شروع ہوئی تو بیچارا ''چیں'' بول گیا، ہاتھ جوڑ کر کھگھیانے لگا کہ شما کیجیے، غلطی سے ''مسٹیک'' ہو گئی... لیکن ہم بھی اسے چھوڑیں گے نہیں۔ ان منفی تنقیدیوں اور غلط فہم لوگوں کا اعتراض یہی ہے نا کہ ہم نے ملی نغموں اور قومی ترانوں میں یہ کہا ہے کہ اگر کسی نے ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو ان کی آنکھوں کو نوچ کر کتے بلیوں کی خوراک بنا دیں گے تو ٹھیک ہی کہا ہے اور اب بھی یہی اعلان ببانگ دہل کرتے ہیں کہ اگر کسی نے ''میلی آنکھ'' ۔۔۔۔ باقی تو آپ جانتے ہیں ۔۔۔ اب اس بات کو ڈرون حملوں اور دوسرے کچھ معاملات سے جوڑنا پرلے درجے کی ہٹ دھرمی ہے آخر یہ اتنی سی بات ان منفی تنقیدیوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی ہے کہ ہم نے ''میلی آنکھ'' سے دیکھنے کو کہا ہے اور ڈرون حملوں میں میلی تو کیا گدلی اور کوئی دوسری آنکھ بھی نہیں ہوتی ۔میلی آنکھ ایک الگ چیز ہے اور ڈرون یا تھرون یا کرون ٹرون حملے قطعی ایک دوسرا معاملہ ہے کہاں آنکھ وہ بھی میلی اور کہاں ڈرون تھرون پرون اور وہ بھی قطعی اندھے بہرے گونگے۔
چلیے مان لیتے ہیں کہ ان ڈرون تھرون چرون حملوں کے پیچھے کہیں نہ کہیں امریکی آنکھ تو ہوتی ہی ہے مگر ایک تو امریکی آنکھیں بڑی شفاف ہوتی ہیں میلی تو کیا مکمل طور پر نیلی ہوتی ہیں ہری بھی ہوں یا پیلی بھی ہوں بلکہ اگر بلونڈ بھی ہوں تو کیا ہوا میلی تو نہیں ہوتیں۔ایسی آنکھیں کہ جن کے بارے میں خوشحال خان خٹک نے کہا ہے کہ
پہ زان اوپہ جہاں کے ما دوہ سیزہ دی ویستلی
پہ زان کے دواڑہ سترگے پہ جہان کے واڑہ خکلی
یعنی میں نے اپنے آپ میں اور اس جہان میں دو چیزیں سب سے بہترین سمجھی ہوئی ہیں اپنے آپ میں یہ ''دو آنکھیں'' اور سارے جہاں میں تمام حسین اور خوب صورت چہرے، اور ہم نے تو یہ دونوں ہی چیزیں صرف اور صرف امریکا میں ''پائی'' ہیں ۔۔۔ خوب صورت آنکھیں بھی ان کی اور چہرے بھی ان کے ۔۔۔
نظارہ کو تو جنبش مژگاں بھی عار ہے
نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی
اب آپ ہی بتایئے بلکہ دشمنوں سے بھی پوچھیے تو وہ امریکی آنکھوں کو کم از کم ''میلی'' نہیں کہہ سکتا اور امریکا کے ساتھ تو ہمارا معاملہ صرف آنکھوں ہی کا نہیں ہے بلکہ کچھ دوسرے معاملات کا بھی ہے چنانچہ اگر یہ آنکھیں کچھ میلی یا نیلی پیلی بھی ہو جائیں تو ہم ان کو نظر انداز کر کے دوسرے معاملات پر نظر رکھیں گے بلکہ کبھی کبھی تو ہم اس سے کہہ بھی دیتے ہیں
آنکھیں دکھلاتے ہو ''ڈالر'' بھی دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
دراصل یہ جو منفی تنقیدیے ہوتے ہیں ان کے لیے کسی وجہ یا سبب یا مماثلت و مشابہت کی ضرورت ہوتی ہی نہیں ان کو تو الزام تراشی کرنا ہوتی ہے اور وہ کر لیتے ہیں ورنہ ڈرون حملوں سے کسی بھی میلی آنکھ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی آنکھوں میں ہم نے دیکھا ہے ذرا سا بھی میل نہیں ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ
میرے امریکی کی یہی ہے نشانی
اکھیاں بلور کی شیشے کی جوانی
یہ درست ہے کہ ہمارے موجودہ دوست اوباما ۔۔ جس کے نام کے ساتھ ہم پاکستانی بڑے فخر کے ساتھ ''باراک حسین'' بھی لگاتے ہیں اس کا رنگ اپنے پیش رو بش جتنا صاف نہیں ہے اور اسے تھوڑا سا گدلایا میلا کہا جا سکتا ہے لیکن آنکھیں بالکل بھی میلی نہیں ہیں، اس کے ڈرون کو میلی آنکھ سے ملانا بالکل بھی درست نہیں ہے، ہم جب کام کرتے ہیں تو پکا پکا کرتے ہیں اور پاکستان کی ادبیات کی تمام اکیڈیمیوں سے ہم نے تحقیق کا علم پورے کا پورا سیکھا ہے، اس لیے جب ''ڈرون حملوں'' پر منفی تنقیدیوں کی منفی تنقید کچھ زیادہ بڑھ گئی اور اپنی تنقید کو طعنوں تشنوں سے دو آتشہ بنا کر بولنے لگے کہ کہاں ہے وہ ''میلی آنکھ'' کو نوچ کر ہتھیلی پر رکھنے والا
کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے
ستارہ سحری بے قرار کب سے ہے
تو ہم نے تحقیق کا پورا بیڑا اٹھاتے ہوئے ٹھان لیا کہ ان ''ڈرون'' کے بارے میں پوری پوری تحقیق کریں گے اور یہ جان کر رہیں گے کہ ''میلی'' آنکھ سے ان کا کوئی رشتہ بنتا ہے یا منفی تنقیدیے یونہی بے پر کی اڑا رہے ہیں، اس غرض کے لیے جب ہم نے یہاں وہاں نظر گھمائی تو خیال اپنے یار پروفیسر ڈاکٹر علامہ '' چوم نومسکی'' پر جا کر ٹھہر گیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ باقی تمام علوم کو تو انھوں نے گھول ڈکارا ہوا ہے لیکن لسانیات اور علم الاشقاق پر اسے سب سے زیادہ یدطولیٰ حاصل ہے، لسانیات اور علم الاشقاق کے وہ اتنے بڑے عالم ہیں کہ اگر ابھی ٹھان لیں تو دنیا کی تمام زبانوں کو قطار میں کھڑا کر کے پریڈ کروا سکتے ہیں اور جس لفظ کو چاہیں اپنے مطلب کے معنی دے سکتے ہیں، پروفیسر علامہ ڈاکٹر ''چوم نومسکی'' دراصل خاندانی زبان دان ہیں ان کے والد علامہ ''ڈوم ڈومیسکی'' ہفت زبان تھے اور کسی بھی لفظ کوپکڑ کر اس کا شجرہ اس کے منہ پر مار سکتے تھے اور اب ان کے فرزند ارجمند چوم نومسکی ان سے بھی اتنے ہی آگے ہیں جتنا کفن کش کا بیٹا اپنے والد کے فن میں اپنے باپ سے پروفیسر ڈاکٹر علامہ چوم نومسکی سے جب ہم نے ''ڈرون'' کے بارے میں پوچھا تو پہلے چب رہے پھر مسکرا دیے اور پھر ہنس دیے اور پھر ڈرون کا پردہ نامنظور کرتے ہوئے بولے... دراصل یہ محفف ہے... ''ڈالر تھرون'' کا... لیکن ''کثرت استعمال'' اور کثرت ڈالر اور تھرون سے اس کا حلیہ بگڑ گیا جس طرح ڈالر ڈکارے اور تھرون مارے لوگوں کا حلیہ بگڑ جاتا ہے اور ان دونوں کا عطر مجموعہ ''ڈرون'' کا یہ مقبول عام لفظ تولد ہوا
حراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغ جگر ہدیہ
مبارک باد اسد غم خوارِ جانِ درد مند آیا
اس کی پیدائش پر ساری دنیا میں ڈنکے بجائے گئے کہ لعنت ہو، ابلیس آج صاحب اولاد ہو گیا ۔۔۔ چونکہ پاکستان اور امریکا ڈالر کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، اس لیے اب آپ خود ہی بتایئے کہ پروفیسر ڈاکٹر چوم نومسکی کی اس بے بہا تحقیق کے بعد ڈرون کا کسی میلی آنکھ یا نیلی پیلی آنکھ سے کوئی رشتہ بنتا ہے، ہر گز نہیں۔ میلی آنکھ ایک بالکل ہی الگ چیز ہے اور ہم اب بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی نے ہماری سرحدوں یا آزادی اور خود مختاری کو ''میلی آنکھ'' سے دیکھا تو تو تو ۔۔۔ باقی آپ جانتے ہیں۔