آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں کرنے دینگے چیف جسٹس

اڈیالہ جیل سے اٹھائے7قیدیوں سے متعلق سیکریٹری دفاع سے رپورٹ طلب،حراستی مراکزکے قیدیوں کوطبی سہولتیں دینے کاحکم


Numainda Express November 14, 2013
قیدیوںکی لواحقین سے ملاقات کیوں نہیں کرائی گئی،چیف جسٹس،ایف سی آرکے تحت سزائیں آئین سے متصادم ہیں،عاصمہ جہانگیر۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے 11قیدیوں میں سے زندہ بچنے والے 7 قیدیوں کے بارے میں سیکریٹری دفاع سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

عدالت نے ان7قیدیوںکی حالت زار سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور حراستی مراکزمیں قید افرادکوطبی سہولتیں فراہم کرنے کاحکم دیاہے۔چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں خصوصی بینچ نے سماعت کی۔لاپتہ افراد کی جانب سے عاصمہ جہانگیر پیش ہوئیں جبکہ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کی معاونت کی۔ فاٹا سیکریٹریٹ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر نیاز، عبد الباسط ،عبدالماجد اور محمد مظہرالحق بنوں جبکہ شفیق الرحمان،گل روز اور محمد شفیق ہری پور جیل میں قیدہے ۔انھوں نے بتایا لاپتہ افراد کو پولیٹیکل ایجنٹ پشاور نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120 اور 121کے تحت 7 ،7 سال اور14،14سال کی سزائیں سنائی ہیں۔



جسٹس گلزاراحمد نے استفسارکیا کہ لاپتہ افرادکو اس دفعہ کے تحت کیسے سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔اٹارنی جنرل نے اس نکتے پرمعاونت کیلیے7دن کی مہلت طلب کی، انھوں نے کہاکہ وہ اس بارے میں سیکریٹری قانون سے بات کریںگے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو وزارت داخلہ سے بھی بات کی جائے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ ان قیدیوں کو خاندان سے ملنے نہیں دیا جا رہااور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔عدالت نے حراستی مراکز میں موجودلاپتہ افراد سے متعلق19نومبر تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس بات کویقینی بنایا جائے کہ مذکورہ قیدیوںکو خاندان والوں سے ملاقات سمیت دیگربنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، ان قیدیوں سے متعلق سماعت20نومبر تک ملتوی کردی گئی۔آئی این پی کے مطابق سپریم کورٹ نے کہاکہ عدالتیں کسی کو آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے سکتیں، عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ ان قیدیوں پر ٹارچرکیا جا رہا ہے، ہارٹ اٹیک سے لوگ مر رہے ہیں،آئین کے ہوتے ہوئے ایف سی آرکے تحت سزائیں دیناآئین سے متصادم ہے۔