بھارت تقسیم کے خطرے سے دوچار

بھارتی حکومت وہاں مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتی ہے، جیسے نازی پارٹی نے یہودیوں کو ختم کیا تھا۔


Editorial January 26, 2020
بھارتی حکومت وہاں مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتی ہے، جیسے نازی پارٹی نے یہودیوں کو ختم کیا تھا۔ فوٹو:فائل

وزیراعظم عمران خان سوئیٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔ جمعہ کو اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر پر پوری قوم سے گھروں سے نکلنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ فاشسٹ مودی حکومت کے 9 لاکھ فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ عوام کو 6 ماہ سے سخت محاصرے میں جکڑا ہوا ہے۔

ڈیووس میں جہاں وزیراعظم نے پاکستان کو درپیش داخلی مسائل اور خطے کے حوالے سے ورلڈ اکنامک فورم سے اہم خطاب کیا وہاں انھوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ دنیا میں کسی اور جگہ ایسے جنگ کے خطرات نہیں جیسے کشمیر میں ہیں،کشمیر پر دو ایٹمی طاقتوں میں جنگ ہو سکتی ہے، عمران خان کا کا کہنا تھا کہ بھارت غلط راستے پر چل رہا ہے ، اگر یورپی یونین، اقوام متحدہ یا امریکا مداخلت نہیں کرتا تو چیزیں برے طریقے سے مزید گمبھیر ہو جائیں گی، اگر برصغیر میں کچھ غلط ہوتا ہے تواس کے اثرات کہیں دور تک ہوں گے۔

اپنے انٹرویو میں انھوں نے کہا میرا فرض ہے کہ ایک ایسے فورم کو اس بارے میں آگاہ کروں جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا تاکہ کہیں بھی جنگ کو ہونے سے روکا جائے۔

اس معاملے کے ممکنہ حل اور صدر ٹرمپ کی پیشکشوں کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ انڈیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ بات چیت نہیں ہوتی تو اس مسئلے کا حل کس طرح نکلے گا، سوائے اس صورت میں کہ اقوام متحدہ یا امریکا جیسی طاقت مداخلت کرے ، صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بھارتی حکومت سے بات کرنے کی کوشش کریں گے، پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد بھارتی حکومت کا نازیوں سے موازنہ کرنے کے اپنے بیان کو درست قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے بھارتی تاریخ ، سیاست اور من مانیوں پر کہا کہ اس وقت انڈیا میں آر ایس ایس کا انتہا پسند نظریہ رکھنے والی حکومت ہے۔

بھارتی حکومت وہاں مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتی ہے، جیسے نازی پارٹی نے یہودیوں کو ختم کیا تھا۔ مہاتما گاندھی کو آر ایس ایس نے قتل کیا۔ جس تنظیم پر بھارت میں تین بار پابندی لگائی گئی، افسوس اس نے ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تفریق کے معاملے میں پاکستان کا موازنہ بھارت سے نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی تفریق پاکستانی حکومت کی پالیسی ہے اور نہ یہ ہمارے آئین میں شامل ہے لیکن بھارت میں لوگ خوفزدہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا پاکستان میں ایسے لوگ رہے ہوں گے جنھوں نے اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ نہیں رکھا ہو گا۔ ابھی پنجاب میں ایک واقعہ ہوا لیکن ہم نے کارروائی کی اور وہ شخص اب جیل میں ہے لیکن بھارت میں ایسا نہیں۔ وہاں قانون ہاتھ میں لینے والے گروہ موجود ہیں۔ گائے کا گوشت کھانے پر سب کے سامنے قتل کیا جاتا ہے۔ اب بھارتی حکومت نے ایسا قانون منظور کیا ہے جو مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس سے مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں۔

اس حقیقت سے شاید کسی کو انکار ہو کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی ایک تباہ کن راستے پر چل رہے ہیں، عمران خان بطور وزیر اعظم پاکستان مودی کو خودکشی کے اس راستے کے خطرات سے آگاہ کرنے کا تاریخی کردار ادا کرنے کی بات کرتے ہیں اور اس میں وہ اکیلے نہیں ہیں، برطانیہ کے معروف جریدے ''دی اکنامسٹ'' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے بھارت کو تقسیم کر دیا ہے، ان کی پالیسیاں خونریزی کا سبب بن سکتی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم ملک کو متعصب ہندو ریاست بنا نے اور اور خود کو80 فیصد ہندوؤں کا نجات دہندہ ثابت کرنا چاہتے ہیں، جریدہ کے مطابق مودی پالیسیوں نے الیکشن تو جتوا دیا تاہم یہی پالیسیاں بھارت کے لیے سیاسی زہر ثابت ہوں گی جس کے اثرات عشروں تک رہیں گے۔

اکنامسٹ نے نریندر مودی کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انھیں بھارتی آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے جب کہ متنازع شہریت کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس قانون کے ذریع مسلمانوں کو دوسرے مذہبی گروپوں سے الگ کر دیا گیا ہے،20 کروڑ مسلمانوں کو نیشنل رجسٹریشن (این آر سی) میں اپنی شناخت ثابت کرنا پڑے گی، یوں مودی نے مذہبی اور قومی شناخت پر تقسیم پیدا کر دی ہے۔

ملک کو 20 کروڑ مسلمانوں کے پاس ہندوستانی ہونے کا ثبوت دینے کے لیے کاغذات موجود نہیں، لہذا انھیں بے ریاست ہونے کا خطرہ ہے، جریدے نے مزید لکھا ہے کہ مودی بھارت کو ایک کثیر المذہب اور برداشت رکھنے والے ملک سے بدل کر ایک متعصب ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں، ان کا ایجنڈا یہی لگتا ہے ۔

مودی کے اسی متعصبانہ اور ہندوتوا کے غلامانہ انداز فکر کی طرف مراجعت پر شدید تنقید امریکا کے ارب پتی بزنس مین اور سماجی رہنما جارج سوروس نے بھی کی ہے، ''ہندوستان ٹائمز'' کی ایک رپورٹ کے مطابق جارج سوروس نے کہا کہ بھارت میں قوم پرستی اور آمریت کے دوہرے خطے نے ایک تہذیبی خطرے کی صورت اختیار کر لی ہے، انھوں نے کہا کہ بھارت کو ایک ''سیٹ بیک'' ہوا ہے ۔

جارج سوروس نے کہاکہ وہ اس دوہرے خطرے کی روک تھام کے لیے ایک ارب ڈالر لاگت سے ایک عالمی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں تا کہ آمریت اور قوم پرستی کے عفریت سے نمٹنے کی کوشش کی جائے، انھوں نے مودی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ وہ اوپن سوسائٹیز کے راستے بند کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ مودی منتخب جمہوری وزیر اعظم ہو کر بھی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے میں مصروف ہیں اور آمرانہ اقدامات کر رہے ہیں، ان کا یہ عمل ایک چیلنج ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو بھی ظلم و ستم کی آماجگاہ بنایا ہے، وہاں کے عوام محصور ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکا کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھارتی حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیری رہنماؤں کو رہا کریں جنھیں بلا جواز اور بغیر جرم کے قید وبند میں رکھا گیا ہے۔

امریکا کے ایوان نمایندگان کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایلیٹ اینگل نے مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر آیندہ چند ماہ میں کانگریس قرارداد لانے کا وعدہ کیا ہے، ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایلیٹ اینگل نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر اب پردہ نہیں ڈالا جا سکتا، ابھی کانگریس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذہ اور دیگر امور میں مصروف ہیں مگر اس بات کا عمومی احساس موجود ہے کہ قرار داد کا مسودہ آیندہ چند ماہ میں تیارکر لیا جائے، انھوں نے بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے کشمیری بچوں کے لیے حراستی کیمپوں کے بیان پر شدید تذبذب کا اظہار کیا، انھوں نے تسلیم کیا مقبوضہ کشمیر میں ایسی چیزیں ہو رہی ہیں جو اراکین کانگریس ہی نہیں دیگر افراد کے لیے بھی بہت پریشان کن ہیں۔

تاہم بھارتی میڈیا نے پہلی بار ایف اے ٹی ایفFATF گرے لسٹ سے پاکستان کے نکل جانے کا خوش آیند عندیہ بھی دیا ہے، بھارتی میڈیا نے 75 فیصد امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا، اسے چینی لابنگ اور نجی کنسلٹینٹ کی مدد سے نام نکالے جانے کی امید ہے جب کہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں آنے کے لیے 39 ووٹوں میں سے12ووٹ درکار ہیں جب کہ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھی پاکستان کو گردے لسٹ سے نکالنے کے واضح اشارے دیے ہیں۔

 

مقبول خبریں