ٹڈی دل کے حملے‘ ہنگامی اقدامات کی ضرورت

پاکستان کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے، اس جانب توجہ دینی چاہیے۔


Editorial January 26, 2020
پاکستان کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے، اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں ٹڈی دل کے حملے جاری ہیں، گزشتہ روز بھی سندھ کے ضلع بدین میں ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہے، ٹڈی دل کے حملوں کے باعث کھڑی فصلوں اور درختوں کو بہت نقصان پہنچا ہے اور اس کے اثرات آنے والے عرصے میں ظاہر ہوں گے ،گندم اور آٹے کا بحران پہلے ہی موجود ہے جو اگلے برس اس سے بھی شدید ہوسکتا ہے۔ افسوسناک امر یہ کہ مرکزی حکومت سے لے کر صوبائی حکومتوں تک کسی نے اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے ہنگامی اقدامات نہیں کیے اور کسان قدرت کے رحم وکرم پر ہیں۔

ادھر عالمی سطح پر بھی کہا جارہا ہے کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مشرقی افریقہ کے کئی ممالک بھی ٹڈی دل کے حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جن ملکوں پر ٹڈی دل حملہ آور ہیں، وہاں تباہ کن سیلابوں نے پہلے ہی قحط سالی کی کیفیت طاری کر رکھی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان حشرات کے جھنڈ بادلوں کی طرح ایتھوپیا اور صومالیہ سے کینیا کی جانب اڑتے جا رہے ہیں۔ ان ممالک میں قحط کی صورتحال پیدا ہورہی ہے جو کئی عشروں بعد دیکھنے میں آئی ہے۔

اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ایف اے او کے مطابق کینیا میں تقریباً 24 سو کلو میٹر کے علاقے پر ٹڈی دل کا قبضہ ہو چکا ہے۔ وہاں ٹڈی دل کی تعداد 2 سو ارب (بلین) سے زیادہ ہو گی جن میں سے ہر ایک ٹڈی یومیہ کم از کم اپنے وزن کے برابر سبزہ ضرور کھاتی ہیں۔ لیکن جوں جوں یہ زیادہ سبزہ کھاتی ہیں ان کی بھوک بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور ان کے سائز (حجم) میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

ایتھوپیا اور صومالیہ میں ان کا موجودہ حملہ اتنا بڑا ہے کہ گزشتہ ربع صدی یعنی 25 سال میں اتنا بڑا حملہ کبھی نہیں ہوا بلکہ ایف اے او کا کہنا ہے کہ کینیا میں 70 سال سے اتنا بڑا حملہ نہیں ہوا۔

عالمی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر موجودہ ٹڈی دل پر قابو نہ پایا گیا تو ان کی تعداد میں جون تک 500 گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے جو یوگینڈا سے لے کر جنوبی سوڈان تک پھیل جائیں گی اور اپنی راہ میں آنے والی ہر قسم کی ہریالی کو چٹ کر جائیں گی۔

موسمیات کے بارے میں پیش گوئی کرنے والے ماہر ''گلیڈ ارتان'' نے نیروبی میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ٹڈی ڈل کسی علاقے میں سبزے کی غیر فطری کمی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور مشرقی افریقی ممالک میں خلاف معمول سیلابوں نے بڑی تباہی مچا دی جس نے ٹڈی دل میں اضافہ کا جواز پیدا کر دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا اگر ٹڈی دل پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو اس سے طاعون جیسا مرض پیدا ہو جائے گا جو دیکھتے ہی دیکھتے انسانی بستیاں تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ ماضی کی تاریخ میں برطانیہ طاعون کا شکار ہو چکا ہے۔

پاکستان کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے، اس جانب توجہ دینی چاہیے،اگر حکمرانوں نے ہوشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو مستقبل میں اس عدم توجہی کے بھیانک اثرات اس ملک کے باسیوں کو بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

مقبول خبریں