پاکستان کی کامیاب حکمت عملی

پاکستان کے سر پر ایک عرصے سے گرے لسٹ کی تلوار لٹک رہی ہے۔


Editorial January 27, 2020
پاکستان کے سر پر ایک عرصے سے گرے لسٹ کی تلوار لٹک رہی ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی معاون نائب وزیرخارجہ ایلس ویلز نے دورہ جنوبی ایشیاء مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی پر پریس کانفرنس سے خطاب میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس ضمن میں عالمی ذمے داریاں پوری کررہا ہے لہذا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے میں اس کی مدد کرنے کو تیار ہے.

ایف اے ٹی ایف (فیٹف) ایک ٹیکنیکل پراسس ہے،یہ کوئی سیاسی عمل نہیں،پاکستان کو ایک ایکشن پلان دیا تھا،انٹرنیشنل سسٹم کے تحت تمام ممالک کو فیٹف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوتا ہے، پاکستان نے اس ضمن میں اپنی ذمے داریاں پوری کی ہیں۔ ہم پاکستان کی ان کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کی عالمی بینک نے 2019ء کی رپورٹ میں تعریف کی ہے اوراسے اصلاحات کرنے والے 10 بڑے ممالک میں شامل کیا ہے۔اس کے علاوہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کا مکمل ہونا بھی اہم ہے۔

امریکا کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کا اعتراف اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد کرنے کا عندیہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان جلد ہی گرے لسٹ سے نکل جائے گا، ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے اہم ارکان امریکا اور چین پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے آمادہ ہیں' بھارتی ذرایع ابلاغ نے بھی پاکستانی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایسی رپورٹس شایع کی ہیں کہ جس کے مطابق اس امر کا امکان ہے کہ آیندہ اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔

ادھر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے بعد عملدرآمد کے لیے مزید دو ماہ کا وقت دے دیا ہے' فیٹف اور پاکستان کا آیندہ باہمی اجلاس اگست میں ہو گا' خبروں کے مطابق پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی وضع کردہ شرائط پر عملدرآمد سے متعلق سہ ماہی رپورٹ 31مارچ سے پہلے جمع کرانا ہوگی۔

اگر گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکال دیا جاتا ہے تو یہ اس کے لیے یقیناً خوش آیند ہو گا' اس سے پاکستان میں ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کا عمل تیز ہو گا' روز گار کے وسیع مواقعے پیدا ہوں گے' اسٹاک ایکسچینج میں بہتری آئے گی' معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد پیدا ہونے سے خوشحالی اور ترقی کے در وا ہوں گے۔

ایلس ویلز نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے تاکہ اس سے لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہو' امریکی کمپنیاں پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں' 2020ء میں پاکستان کے 10تجارتی وفودکی امریکا آمد اور5 علاقائی تجارتی شوز کی منتظر ہیں۔اس سے دونوںملکوں کی کمپنیوں میں گہرا تعلق قائم ہوگا۔

سی پیک کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں لگایا جانے والا چینی سرمایہ امداد نہیں، بلکہ قرض کی شکل میں پاکستان پر بوجھ ہے۔دوست ہونے کے ناتے ہم چاہیں گے کہ پاکستان میں ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری ہو جن سے وہاںکے عوام کو روزگار مل سکے۔

پاکستان کے سر پر ایک عرصے سے گرے لسٹ کی تلوار لٹک رہی ہے اور اس خدشے کا اظہارکیا جا رہا تھا کہ اگر گرے لسٹ کے بعد پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا گیا تو اس سے یہاں بڑے پیمانے پر ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری رک جائے گی اور ملک میں سنگین معاشی بحران جنم لے سکتا ہے لہٰذا اس پریشان کن صورت حال سے بچنے کے لیے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لایا اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور جنگ لڑ کر انھیں شکست دی اور شمالی وزیرستان سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں امن قائم کیا جس کا اعتراف امریکا سمیت دیگر عالمی فورم پر کیا جا رہا ہے۔

ایلس ویلز نے کہا افغانستان میں امن و استحکام کے لیے بھی پاکستان ایک اہم قوت ہے' امریکی سفیر زلمے خلیل زاد اور ان کی ٹیم دوحہ میں طالبان کو تشدد میں کمی لانے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ افغانوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ پاکستان نے افغانستان میں خانہ جنگی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے جو کوششیں کی ہیں آج اس کا اعتراف امریکا علی الاعلان کر رہاہے۔

افغانستان میں خانہ جنگی اور دہشت گردی کا ذمے دار امریکا بھی ہے جس نے وہاں کے سیٹ اپ کو اپنے مفادات کے برعکس دیکھتے ہوئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کابل پر حملہ کیا اور وہاں طالبان کی حکومت ختم کرکے مسائل پیدا کیے۔ اب امریکا کو طویل جنگ لڑنے کے بعد ادراک ہو گیا ہے کہ افغانستان میں جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا' بہتر ہے کہ متحارب قوتوں سے لڑنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔

ادھر وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کشمیر پر بھارتی آرمی چیف کے بیان کوانتہائی غیر مناسب قرار دیا، انھوں نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن نتائج کیا ہوںگے وہ اس بارے میں نہیں جانتے، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوکشمیر کی حساسیت سے آگاہ کر دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کشمیراتنا آسان مسئلہ نہیں جتنا دنیا اس کوسمجھ رہی ہے، یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، بھارت میں ہندوتوا کے انتہاپسند نظریہ کا قبضہ ہے،آر ایس ایس کے بانی جرمنی کی نازی پارٹی سے متاثر تھے، یہ نسلی اور مذہبی تعصب پر یقین رکھتے ہیں، یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت رکھتے ہیں، بھارت کے آرمی چیف بھی آزاد کشمیرکوبھارت کا حصہ کہہ کر اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں، یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں۔اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ جو دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے صدر ہیں، وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔

امریکا کو مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہو گا، اگر اس مسئلے کے حل کے لیے اس نے کوئی کردار ادا نہ کیا گیا تو ایسی صورت میں جنوبی ایشیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو گا اور پاک بھارت سرحدوں پر جنگی ماحول کی فضا ہمیشہ قائم رہے گی۔بہرحال وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے باعث بھارت کے عزائم دنیا کے سامنے عیاں ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایلس ویلز کو بھی حقیقت کا ادراک ہوا اور انھوں نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی جو پاکستان کی اہم کامیابی ہے۔

 

مقبول خبریں