طالبان غصے میں ہیں تو کیا قوم دہشتگردی میں جلتی رہے امین فہیم

حکومت وسیکیورٹی فورسزکی ذمے داری ہے کہ وہ موجودہ صورتحال پر پالیسی طے کریں، امین فہیم


INP November 15, 2013
ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی جنرل ضیاالحق کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے،انٹر ویو۔ فوٹو: فائل

پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ طالبان غصے میں ہیں اور مذاکرات نہیں ہونے تو کیا پھر قوم خود کش دھماکوں اوردہشتگردی میں جلتی رہے؟

حکومت اورسیکیورٹی فورسز کی ذمے داری ہے کہ وہ طالبان کے انکار کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر حکمت عملی طے کریں، ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی جنرل ضیاالحق کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے، موجودہ حالات میں پاک فوج کو کمزور نہیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور پیپلز پارٹی طالبان سے مذاکرات کی حامی ہے۔



اپنے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اے پی سی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا حتمی فیصلہ ہوا اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو مکمل سپورٹ کیا لیکن ڈرون حملے کے بعد کیا صورتحال ہے اس حوالے سے حکومت کیا کر رہی ہے ہمیں کچھ معلوم نہیں، کون سے لوگ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے جا رہے تھے ہمیں اس کے بارے میں حکومت نے کبھی کچھ نہیں بتایا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر طالبان ناراض ہیں تواس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلیے واضح اور دوٹوک حکمت عملی اختیار کرے۔