بلدیاتی ادارے ضروری ہیں 19 نومبر کو صوبائی نمائندے بلدیاتی الیکشن کا پلان لیکر آئیں سیکریٹری الیکشن کم?

بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ہی ذمے داری ہے، سپریم کورٹ نے جو مہلت دی ہے اس میں تمام تیاریاں کرلیں گے


INP November 15, 2013
صوبائی حکومتوں کیلیے کوئی اورآپشن نہیں، الیکشن کیلیے 6 ارب 60 کروڑ روپے مانگے ہیں، وزارت خزانہ نے فراہم کرنیکی یقین دہانی کرادی، سیکریٹری الیکشن کمیشن فوٹو: فائل

سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کراناالیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔

یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی بھی صوبائی حکومت کیلیے کوئی اورآپشن نہیں،عوام کے مسائل کے حل کیلیے بلدیاتی ادارے ضروری ہیں، سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کیلیے جومہلت دی ہے اس میں الیکشن کمیشن اپنی تیاریاں مکمل کر لے گا۔اپنے انٹر ویومیں انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 19 نومبر کو اجلاس طلب کیا ہے جس کی صدارت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کرینگے، اجلاس میں تمام اداروں اور صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے ٹائم لائن مقرر کریں گے،توقع ہے کہ مقررہ تاریخوں تک سب کام ہوجائینگے۔



الیکشن کمیشن نے وزارت خزانہ سے 6 ارب 60 کروڑ روپے مانگے ہیں،سیکریٹری خزانہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، 19 نومبر کے اجلاس میں تمام ادارے شریک ہونگے جن میں پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان،پی سی آئی ایس بھی شامل ہیں، وہ اپنے تمام تخمینہ جات لے کر آئیں گے، وہ 75 فیصدایڈوانس مانگتے ہیں بقایا رقم کا بھی اس اجلاس میں فیصلہ ہوجائیگا، وزارت خزانہ پیسوں کی وجہ سے الیکشن کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں بننے دیگی۔