ایک فروعی بحث
لفظ ’شہید‘ نے ان دنوں ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں ایک تلاطم برپا کر دیا ہے۔
لفظ 'شہید' نے ان دنوں ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں ایک تلاطم برپا کر دیا ہے۔ یہ لفظ جو اپنی بنیاد میں 'گواہ' کے معنی رکھتا ہے۔ اپنے وسیع مفہوم میں 'راہ حق میں جان دینے والے' کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لسان العرب میں تحریر ہے کہ اﷲ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام 'شہید' ہے۔ یہ لفظ جو 'مقتول فی سبیل اﷲ' کے ہم معنی ہے، اس کے درجات اتنے بلند ہیں کہ قبر میں نکیرین اس سے سوال و جواب کرنے نہیں آئیں گے۔ 'گناہوں سے پاک کرنے والی آگ' سے وہ نہیں گزرے گا اور نہ اسے برزخ میں وقت گزارنا ہو گا۔ یہ لفظ قرآن میں کئی مرتبہ آیا ہے اور 'شہید' کے درجات اور شہادت کی اقسام کے بارے میں ہماری سیکڑوں مذہبی کتابوں اور بطور خاص عربی لغات میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔
تاہم وقت کسی لفظ کے معنی کو وسعت دیتا چلا جاتا ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں جب ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی عملداری ہوئی تو استعمار و استبداد کا سامنا کرنے اور جان دینے والے شہید کہے گئے۔ اس سے پہلے کا زمانہ یاد کیجیے تو سرمد جو یہودی النسل تھا، ایک مجذوب کی زندگی گزارتا تھا، حضرت میاں میر سے قلبی تعلق رکھتا تھا، وہ جب داراشکوہ کا حامی ہونے کے سبب اورنگزیب کی نظر میں واجب القتل ٹھہرا، اور علمائے سو کے فتوئوں کے سبب قتل کیا گیا، تو عوام اور خواص نے اسے 'شہید' مانا اور جانا اور شہید اس کے نام کا جزو بن گیا۔ حالانکہ سب ہی جانتے ہیں کہ اس نے کسی کافر کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی تھی۔ نہ وہ کفر و اسلام کی جنگ میں مارا گیا تھا۔ اس نے اپنے ضمیر کے مطابق داراشکوہ کا ساتھ دیا تھا جو اورنگزیب کے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ تھا۔
یہ وہ تاریخی واقعات ہیں جنھوں نے لفظ 'شہید' کے مفہوم و معنی کو اتنی وسعت دی کہ اس کے دامن میں وہ لوگ بھی سمیٹ لیے گئے جو مسلمان نہیں تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے ہندوستان میں برطانوی استعمار کے خلاف ہتھیار اٹھائے، اپنی جان سے گزرے اور لوگوں نے ان کے سر پر 'شہید' کا تاج رکھا۔ یہ سلسلہ 1857ء میں جھانسی کی رانی سے شروع ہو کر بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد اور متعدد دوسرے ناموں تک پہنچا۔ پاکستان قائم ہوا، آمریت نے اپنا رنگ دکھایا تو نواب نوروز خان، حسن ناصر، نذیر عباسی، ایاز سموں، ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد کرنے والے متعدد دوسرے جان سے گزرے اور شہید کہے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کو عوام نے شہادت کہا۔ بے نظیر بھٹو کو 'شہید جمہوریت' کے نام سے یاد کیا گیا۔ اسی طرح سردار اکبر بگٹی بھی شہید کہلائے۔
اس تناظر میں دیکھیے تو چند دنوں پہلے سیاسی عزائم رکھنے والی ہماری بعض دینی جماعتوں نے 'شہادت کا رتبہ' پانے والوں کے بارے میں ایسا موقف اختیار کیا جس نے قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجدوں، امام باڑوں، بزرگوں کے مزاروں، اسپتالوں، درس گاہوں کو بارود سے اڑانے والے، بے گناہ مسلمان شہریوں کو خاک و خون میں سلانے والے اور عساکر پاکستان کے سپاہیوں اور افسروں کو ذبح کر کے ان کے سروں کی بصد افتخار نمائش کرنے والے اگر جان سے جائیں تو وہ ''شہادت'' کے مقدس درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ اسی سانس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں سے لڑنے والے اور جاں بحق ہونے والے عساکر کو شہید قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ خطے میں پاکستان کی نہیں دراصل امریکا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جس میں ہلاک ہونے والوں کو شہید نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے اس بیان پر عوامی احتجاج اور فوجی ترجمان کی طرف سے آنے والی غیر مشروط معافی کے مطالبہ کے بعد بھی انھوں نے یہ بات بہ اصرار کہی کہ امریکی مقاصد کے لیے طالبان سے لڑائی میں مارے جانے والے پاکستانی فوجیوں کے شہید نہ ہونے کے اپنے موقف پر وہ اب بھی قائم ہیں۔ ایک دوسری نیم مذہبی، نیم سیاسی جماعت کے سربراہ نہلے پہ دہلا مارتے ہوئے یہ کہہ گزرے کہ امریکی گولی سے مارا جانے والا کتا بھی ان کے نزدیک شہید ہے۔
یہ موقف اور اس پر اصرار دل دہلا دیتا ہے۔ ان بیانات اور ان پر ہونے والی میڈیا میں بحث نے لوگوں کو ذہنی خلفشار اور انتشار میں مبتلا کر دیا ہے، پاکستان اس وقت جن سنگین مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ اس میں یہ خوفناک صورتحال ہے۔ اندرون ملک مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر ایک ایسی کشاکش ہے جس کے نتائج اندوہناک ہیں اور آگے چل کر بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اب کسی کو بھی یہ شبہ نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کی سرزمین پر عالمی اور علاقائی قوتوں کے علاوہ دو 'برادر اسلامی ملکوں' کی نیابتی جنگ جاری ہے۔ دوسری طرف ہماری سرحدیں اتنی 'نرم' ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے نئے سربراہ افغانستان میں مقیم ہیں اور وہاں سے ہمارے مفادات کے خلاف احکامات جاری کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے بعض اہم ترین افراد افغان حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے والے تھے۔ یہ بھی وقت کا مذاق ہے کہ ''کافر، مشرک اور دشمن دین'' امریکا کے کرم سے یہ لوگ پاکستان کے حوالے ہوئے اور ملک کئی بڑے نقصانات سے محفوظ رہا۔
جوش خطابت میں ہمارے یہ اکابرین کچھ بھی کہیں لیکن ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کے وہ پیارے جو اس ملک کے عام شہری تھے اور جنھیں 'مجاہدین' کے بھیجے ہوئے خودکش بمباروں نے اڑا دیا، جن کی مذہبی عبادت گاہیں زمین بوس کی گئیں، جن کے بچے تعلیم سے اور پولیو کے قطروں سے اسلام کے نام پر محروم رکھے گئے۔ کیا وہ اس قابل بھی نہیں کہ یہ اکابرین ان کے لیے نرم گوشہ رکھیں۔ یہ سوال بار بار اٹھا ہے کہ اس نوعیت کے سفاکانہ حملوں کا شرعی جواز کیا ہے اور کئی دینی جماعتوں کی طرف سے اس نوعیت کے المناک واقعات کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی۔
اس موقع پر پاکستانی فوج کے اس مؤقف کی تائید کیسے نہ کی جائے جس میں ایک دینی جماعت کے سربراہ کے بیان کو غیر ذمے دارانہ، افسوسناک اور درد ناک ٹھہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس بیان کے حوالے سے فوج میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دہشت گردوں کو شہید قرار دینا، ہزاروں بے گناہ عوام اور فوجیوں کی شہادت کی توہین ہے۔ یہ بیان گمراہ کن اور ذاتی فائدے کے لیے ہے۔ عساکر کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان میں جماعت کے سربراہ سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ جماعت کی مجلس شوریٰ نے اپنے سربراہ کے مؤقف کی صرف حمایت ہی نہیں کی بلکہ جواباً فوج سے کئی معافیاں اور وضاحتیں طلب کر لیں۔ غرض عوام جو پہلے ہی ذہنی خلفشار کا شکار تھے، ان کے اس انتشار میں اضافہ کیا گیا اور رائے عامہ کو تقسیم کرنے کا فریضہ بھی انجام دیا گیا۔
یہاں یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ ہمارے کئی رہنما پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو ''صلیبی جنگ'' کے نام سے یاد کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ''صلیبی جنگ'' اقوام متحدہ کی اجازت سے شروع کی گئی اور اس کی اجازت دینے والوں میں پاکستان سمیت کئی اسلامی ملک شریک تھے۔
ادھر نیٹو سپلائی کے حوالے سے پیالی میں طوفان اٹھایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما کی ہم نوائی اب طاہر القادری اور شیخ رشید بھی کر رہے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل کا کہنا ہے کہ امریکا سے بات منوانے کا بہترین ہتھیار نیٹو سپلائی کی بندش ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہم نیٹو سپلائی کو روک کر امریکا کو بے بس کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے جب 7 مہینے سپلائی بند رکھی گئی تو ہم پر کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑا تھا۔ جنرل موصوف بالکل درست کہتے ہیں کہ ہم پر کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑا تھا لیکن معذرت کے ساتھ یہ آدھا سچ ہے ۔ پورا سچ یہ ہے کہ اس بندش سے امریکا پر بھی کوئی آفت نہیں آئی تھی۔ ہاں یہ ضرور ہوا تھا کہ اس نے اپنے مسئلے کے حل کے لیے متبادل راستے ڈھونڈ لیے تھے اور اس مرتبہ اگر خیبرپختونخوا کی حکومت یہ راستہ بند کرتی ہے تو نیٹو کنٹینر پاکستان اور دوسرے ملکوں کے متبادل راستوں سے آئیں اور جائیں گے۔
ایک ایسے نازک مرحلے میں وزیر اعظم نے کسی نوعیت کی بیان بازی کے بجائے دانش مندی سے کام لیا۔ وہ جی ایچ کیو گئے، انھوں نے وہاں شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے اور ان کے پسماندگان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ یوں انھوں نے اپنے عمل سے عوام کو یہ پیغام دیا کہ اس نوعیت کی فروعی باتوں سے جان کا نذرانہ دینے والوں کی قربانیوں کا مرتبہ کم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لوگ جو پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں وزیر اعظم نے انھیں بھی یہ بتایا کہ قوم ان کے ساتھ ہے اور اگر وہ اس جنگ میں جام شہادت نوش کرتے ہیں تو ان کے پیارے قوم کو ہمیشہ عزیز رہیں گے۔
وہ فروعی بحث جو دانستہ یا شاید نادانستہ طور پر قوم کو دو دل کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی ، وہ یکجائی کا سبب بن گئی اور شر میں سے خیر کا یہ پہلو اجاگر ہو گیا کہ یہ بات بہ اصرار کہی گئی کہ ہماری اپنی جنگ ہے جس میں ہمارے شہری اور فوجی اپنی جان کے نذرانے دے کر دشمن کی راہ روک رہے ہیں۔ یہ ہمارے محسن ہیں اور ہمارے دل ان کے لیے شکر گزاری کے جذبات سے بوجھل ہیں۔