ہم دن دہاڑے کیسے لٹ رہے ہیں

ہم اپنے ملک کی اصل دولت کو غیروں کے پاس فروخت کر رہے ہیں بلکہ دنیا کی بڑی طاقت ہم سے یہ کام کرا رہی ہے۔


Abdul Qadir Hassan November 16, 2013
[email protected]

یہ ایک انتہائی واقف کار دردمند سرکاری ملازم کا خط ہے جس کے مندرجات کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ اس سلسلے میں مزید کچھ عرض کرنا بیکار ہے کہ سب کچھ اس خط میں موجود ہے اور بتایا گیا ہے کہ ہم کس طرح اپنے ملک کی اصل دولت کو غیروں کے پاس فروخت کر رہے ہیں بلکہ دنیا کی بڑی طاقت ہم سے یہ کام کرا رہی ہے اور ہم کر رہے ہیں۔ اب یہ خط ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارا فرض کسی خرابی کی اطلاع دینے تک ہے اس سے آگے حکمران جانیں یا عوام۔

آج کل ہر طرف حکومت کی حالیہ نجکاری پالیسی پر بحث جاری ہے۔ حکومت نے اس پالیسی کے تحت فوری طور پر 32 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے جب کہ مجموعی قومی ادارے جو کہ پرائیوٹائز کر لیے جائیں گے وہ سو کے لگ بھگ ہیں مگر یہ 32 ادارے جن کو ترجیحی بنیادوں پر پرائیوٹائز کیا جائے گا ان میں پاکستان اسٹیل مل اور پی آئی اے کا تو خیر سب کو علم ہے مگر جو بات عموماً نظروں سے اوجھل ہے وہ پاکستان کے آئل اینڈ گیس سیکٹر کی نجکاری ہے۔ یہ تمام نجکاری آئی ایم ایف کے قرضے لینے کی شرائط سے وابستہ ہیں۔

گیس اور آئل کوئی کارخانہ یا ادارہ نہیں بلکہ یہ قومی دولت ہیں جن کو آئی ایم ایف کے حکم پر خصوصی طور پر کیپٹل مارکیٹ یعنی گلوبل یا عالمی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے فروخت کیا جائے گا اور اس وقت وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کی سرکردگی میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد امریکا کا دورہ کر رہا ہے اور امریکی آئل کمپنیوں شیل' ہیلی برٹن' ایگوزو موبل وغیرہ سے ملاقات کر رہا ہے تا کہ کسی طرح ان کمپنیوں کو پاکستان کے گیس اور تیل کے ذرائع با آسانی منتقل کیے جا سکیں۔ علاوہ ازیں دو اور کمپنیوں سے ملاقات بھی ایجنڈا کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں کمپنیاں تیل نکالنے کے لیے یعنی Drilling وغیرہ میں اپنی خدمات اور آلات پیش کرتی ہیں جب کہ شیل' ہیلی برٹن' ایگوزو موبل وغیرہ تیل و گیس کی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جنہوں نے عراق میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ امریکا کی تمام جنگیں بشمول افغانستان دراصل انرجی ذرائع یعنی تیل اور گیس پر قبضے کے لیے لڑی جاتی ہیں لیکن اس تفصیل میں جانے سے پہلے ہم پاکستان کی ان دو بڑی قومی کمپنیوں کا ذکر کرتے ہیں جن کی نجکاری عالمی اسٹاک منڈی GDR کے ذریعے کی جائے گی۔

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی پاکستان میں دونوں مذکورہ انرجی کے وسائل کی مالک ہے اور صحیح معنوں میں Blue Chip کمپنی ہے یعنی بے حد منافع بخش جس نے 2012-13ء میں 91 ارب روپے کا منافع کمایا اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ دیا۔ اسی طرح پاکستان پٹرولیم نے مالی سال 2012-13ء میں 42 ارب روپے کا منافع کمایا۔

کیا یہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی فروخت کرنا چاہئے یا اس کے انڈے فروخت کرنے چاہئیں۔ مزیدبرآں دونوں ادارے ہزاروں افراد کے روزگار کے ذرائع ہیں لیکن چونکہ امریکا کی اس خطے میں ساری خونریزی صرف انرجی کے وسائل پر قبضے کے لیے ہے تو پاکستان کو کیسے بخشا جا سکتا ہے۔ دراصل پاکستان کے آئل اور گیس سیکٹر کی نجکاری کا آغاز پرویز مشرف نے ہی کر دیا تھا 2001ء کے بعد اور 5 فیصد حصص دونوں اداروں کے غیر ملکی سرمایہ داروں کو فروخت کر دیے گئے۔ اب موجودہ دور میں مزید 5 فیصد حصص فروخت کیے جا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ چوری آہستہ آہستہ کی جا رہی ہے تا کہ آہستہ آہستہ مکمل طور پر پاکستان کے گیس اور آئل امریکا کی کمپنیوں کی تحویل میں چلے جائیں اور شاید یہ بات عام لوگوں کو نہیں معلوم کہ پاکستان کے پاس گیس اور آئل کے وسیع ذخائر موجو دہیں۔

اور اب بات کی جائے نجکاری کے عمل کی۔ نجکاری کمیشن 1991ء میں بنایا گیا تھا جب سوویت یونین کے انہدام نے عالمی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی تھی مگر اس کمیشن کو اصل عروج پرویز مشرف کے دور میں ہوا جب اس کا باقاعدہ آرڈی ننس بنایا گیا اور مشرف دور میں ہی آئل اور گیس سیکٹر کی نجکاری کا آغاز ہوا۔ واضح رہے کہ نجکاری کے ضمن میں حکومت پاکستان کی پالیسی ہے کہ اس سے حاصل کردہ رقم صرف دو مدوں میں خرچ ہو گی:

1- قرضوں کی واپسی

2- غربت کا خاتمہ

اب تک 167 یونٹس کی نجکاری ہو چکی ہے جس میں PTCL کے علاوہ زیادہ تر بینک' گھی اور سیمنٹ بنانے کے کارخانے وغیرہ شامل ہیں۔

ان تمام نجکاریوں سے حکومت کو اب تک 4.77 ارب روپے حاصل ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم واقعی عالمی اداروں سے لیے گئے قرض کی واپسی میں استعمال ہوئی ہے۔ اگر نہیں تو کیوں نہیں اور کہاں گئی۔ قوم کو پوچھنے کا حق ہے۔

قوم کا حق ہے کہ نجکاری کے معاملے کو مکمل شفاف بنایا جائے۔ نیز بتایا جائے کہ OGDCL جیسے منافع بخش ادارے کو کیوں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں شیئرز کی شکل میں بتدریج فروخت کیا جا رہا ہے کیونکہ OGDCL صرف ادارہ نہیں بلکہ پاکستان کے تیل و گیس کے وسیع ذرائع کی محافظ قومی کمپنی ہے۔ اس طرح پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کمپنی کو بھی بعد ازاں فروخت کرنے کا پروگرام ہے۔

مقبول خبریں