پسماندہ طبقات کو اوپر لانے کا عزم

ملکی معیشت کے سدھار اور مربوط استحکام کے لیے بہت سے کام حکومت کے منتظرہیں۔


Editorial February 02, 2020
ملکی معیشت کے سدھار اور مربوط استحکام کے لیے بہت سے کام حکومت کے منتظرہیں۔ (فوٹو: فائل)

وفاقی حکومت نے200 ارب روپے کی لاگت سے ایک بڑے فلاحی احساس کفالت پروگرام کا اجراء کر دیا جس کا باضابطہ افتتاح جمعے کو وزیر اعظم عمران خان نے کیا۔ اس پروگرام کے تحت ملک بھر کی انتہائی غریب خواتین کو 2 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا، ملک کی تقریباً 70 لاکھ مستحق خواتین اس پروگرام سے مستفید ہو نگی۔

بینظیر انکم سپورٹ میں شامل تمام مستحقین اس پروگرام کا حصہ ہونگے ۔ پہلے مرحلے میں ملک کے 70 اضلاع میں فروری تا مارچ 2020دس لاکھ مستحق خواتین کا اندراج کیا جائے گا۔ دوسرے میں 2020 کے اختتام تک ملک کے باقی تمام اضلاع سے اہل مستحقین کفالت پروگرام میں شامل کر لی جائینگی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت مشکل حالات کے باوجود پسے ہوئے طبقات کو ریلیف دینے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اپنے اس ہدف پر سختی کے ساتھ قائم ہیں کہ انھیں غربت ختم کرنا ، نچلے اور پسے ہوئے طبقات کو اوپر لانا اور ان کی زندگی میں ایک انقلاب برپاکرنا ہے۔ اپنے مقصد اور نیک نیتی کے اعتبار سے اس سے بڑھ کر صائب خواہش ایک ایسے ملک میں اور کیا ہو سکتی ہے جو چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف ہو اور جسے ایک چومکھی لڑائی لڑنے پر تاریخ کے سب سے بڑے اقتصادی اور سیاسی جبر کا سامنا بھی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ معیشت کو درپیش جبر کا ماحول بھی پی ٹی آئی حکومت کے اقتصادی مسیحاؤں، مسلسل ٹی وی ٹاکس اور بحثوں میں مصروف مشیروں اور فوج ظفر موج ترجمانوںکا اپنا پیدا کردہ ہے، حکومت غریبی ختم کرنے پر سنجیدہ ہے تو اس کی معاشی پالیسیوں میں سنجیدگی کا منعکس ہونا شرط ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا درست ہے کہ ماضی میں پسماندہ طبقات کو نظرانداز کیا گیا۔ اس جرم میں تقریبا تمام حکمرانوں، با اثر طبقات اور ان ادوار کی بیوروکریسی کو شریک کیا جانا چاہیے ۔

وزیر اعظم نے کہا غریب اور پسماندہ خواتین کے لیے دو ہفتوں میں ایک اور پروگرام شروع کیا جائے گا جس کے تحت انھیں گائیں، بھینسیں اور مرغیاں فراہم کی جائیں گی جس سے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اسی طرح غریب گھرانوں کے بچوں کو تعلیمی وظائف دیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا حکومت یوتھ قرضہ اسکیم کے تحت نوجوانوں کو میرٹ پر قرضے فراہم کر رہی ہے، ان قرضوں سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت دیانتداری سے مستحق خواتین کے لیے ایک مضبوط سسٹم بنایا گیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے قرضہ پروگرام ان کی فلاح و بہبود کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔ کفالت کارڈ ہولڈر کو مستقبل میں اسی کارڈ کے ذریعے یوٹیلیٹی اسٹورز سے راشن اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

وزیر اعظم نے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو محروم اور غریب طبقات کو ترقی دینے کا ٹاسک سونپا ہے جو نوکر شاہی اور منتخب ارکان اسمبلی اور دیگر کی مداخلت سے پاک سیناریو میں خدمات انجام دینا چاہتی ہیں، یہ تجربہ منفرد ہے مگر دیکھنا ہے کہ ان کے پروگراموں کی شفافیت اور اہداف تک رسائی کس قدر نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، ایسے بے لوث ارکان حکومت کی گڈ بک میں ہونے چاہئیں۔

میڈیا کے مطابق جمعے کو ٹڈی دل کے حملے سے نمٹنے کے لیے بھی وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وفاق ٹڈی دل کے انسداد کے لیے بھرپور مہم چلائی جائے، بتایا گیا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے فوکل پرسن تعینات کر دیا گیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ٹڈی دل کے باعث فصلوں کو ہونے والے نقصانات کے پیش نظر تمام ضروری اقدامات ہنگامی طور پر کیے جائیں۔ زراعت اور کسانوں کا تحفظ حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ بلاشبہ زرعی شعبے کو سخت توجہ کی ضرورت ہے، آٹے اور چینی کے معاملات کی سنگینی کے پیش نظر فوڈ سیکیورٹی کا دائرہ کار ممکنہ بحرانوں کے سدباب کے لیے ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہو تا کہ مافیاز کا صرف ذکر نہ ہو بلکہ ان کے خاتمہ کے لیے حکومت آہنی ہاتھ کو استعمال کرے۔

ملکی معیشت کے سدھار اور مربوط استحکام کے لیے بہت سے کام حکومت کے منتظرہیں، معاصر تجزیہ کار اور مبصرین نے کے تلخ تبصرے مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، جرائم اور ترقی و استحکام کی موہوم اطلاعات کے گرد گھومتے ہیں ، جن میں حکومت کو باور کرایا جاتا ہے کہ معیشت میں سب ٹھیک نہیں، اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی ہے، آئی ایم ایف کا وفد آیندہ ماہ فروری میں پاکستان پہنچ رہا ہے، اس کے پاکستانی معاشی ماہرین ، وزارت خزانہ کے سینئر حکام اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ سے اہم مذاکرات ہوںگے۔

گیلپ سروے کی گونج ابھی تک سنائی دیتی ہے جس میں کہا گیا کہ تاجر اور کاروباری برادری کے مطابق ملک درست سمت میں نہیں جا رہا۔ حکومت مخالف مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمراں روز معاشیات کے خوبصورت تصوراتی بت تراشتے ہیں اور دوسرے دن توڑ دیتے ہیں،ایک انگریزی معاصر اخبار کے مطابق پاکستان میں چینی کا کاروبار اپنے منافع اور بظاہر شیریں دہنی میں بے مثال ہے مگراس کی گراں فروشی صارفین کے منہ کو کرواہٹ سے دوچار کررہی ہے، اسی طرح مہنگائی کا عفریت حکومت کے فلاحی اسکیموں کی مقصدیت کے لیے چیلنج بن سکتا ہے، کسان ابھی تک ریلیف کے ان مروجہ ثمرات سے محروم ہیں۔

میڈیا کے مطابق حکومت نے صرف 15ماہ کے دوران قرضوں میں11 ہزار610 ارب روپے کا اضافیہ کیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ 30 ستمبر2019 تک مجموعی قرضوں کا بوجھ41 ہزار489 ارب روپے ہو گیا ہے اور قرضے جی ڈی پی کے لحاظ سے94.3 فیصد ہو گیا جو گزشتہ برس27 ہزار87.9 ارب روپے تھے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 104 ارب کے شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے، ادھرچیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے طویل رخصت پر جانے پر مالیاتی اور کاروباری حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں۔ گردشی قرضے بھی 1660 ارب روپے کے ہو گئے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس شبلی فراز کی زیر صدارت ہوا جس میں انھوںنے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات اور وصولیوں کے اعداد و شمار گمراہ کن ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ عوام فیول پرائس کی قیمت کیوں بھگت رہے ہیں اور اور جس شرح سے ایک سال میں نقصانات کم ہوئے تو گردشی قرضہ آخر کب ختم ہو گا؟

ایسے کئی سوالات ملکی معیشت کے لیے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں جن کے تسلی بخش جواب ملنے تک عوام اور معیشت کے درمیاں بے یقینی کی تپش جاری رہے گی جب کہ عوام کی نظریں آسودگی کے کاؤنٹ ڈاؤن پر لگھی ہوئی ہیں۔

 

مقبول خبریں