مہنگائی اس دنیا میں بھی سکون فراہم کریں

بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کاروباری اداروں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں


Editorial February 02, 2020
بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کاروباری اداروں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 14.6 فیصد ہو گئی جو 9 سال کی بلند ترین سطح ہے جس کا بڑا سبب کھانے پینے کی اشیا اور بجلی گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے اور اس نے سخت مانیٹری پالیسی کو بھی غیرموثر بنا دیا ۔ دسمبر 2019 میں مہنگائی کی شرح 15.5فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2020میں مہنگائی میں2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ ایک سال میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 78فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ جنوری کا مہینہ ریکارڈ توڑ مہنگا ثابت ہوا اور اس ماہ مہنگائی کی سالانہ شرح 2 فیصد اضافے کے ساتھ 14.6فیصد تک کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹس ملکی معاشی صورت حال اور اس کے ایک عام آدمی پر مرتب ہونے والے اثرات کا پریشان کن منظر پیش کر رہی ہیں۔ حکمران ملکی اقتصادی ترقی اور رواں سال معاشی استحکام کا مژدہ جاں فزا سنا رہے ہیں لیکن سرکاری اداروں کی ملکی معاشی ترقی اور مہنگائی کے بارے میں جاری ہونے والی رپورٹس حکومتی دعوؤں کے برعکس صورت حال کی عکاسی کر رہی ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ رواں سال ملکی معاشی استحکام اور خوشحالی لے کر آئے مگر مہنگائی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے گراف کے سبب عوام حکومتی طفل تسلیوں سے بہلنے سے انکاری ہیں۔ مہنگائی میں اضافے نے عام آدمی تو کیا متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو بھی اتھل پتھل کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک شہری دیکھ رہا ہے کہ چند ماہ ہی میں اس کے گھریلو بجٹ میں 5ہزار سے 10ہزار روپے تک اضافہ ہو گیا جب کہ اس کی آمدن وہیں کی وہیں ہے۔ ان بڑھتے ہوئے گھریلو بجٹ کو پورا کرنے میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہوئے عوام میں اضطرابی اور ہیجانی کیفیت کا جنم لینا قدرتی امر ہے۔

پٹرول' گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے پریشان کن صورت حال تو پیدا کی ہی تھی اس پر مستزاد روز مرہ کی اشیا میں نہ رکنے والے اضافے نے شہریوں کے مسائل کو مہمیز لگا دی ہے۔ منظرنامہ یہ ہے کہ مہنگائی کا دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران جن 14اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں دال مونگ اور دیگر دالوں کے علاوہ لہسن' چینی' گھی' بکرے کا گوشت ' کوکنگ آئل اور خشک دودھ شامل ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ایک ماہ میں دال مونگ 20 فیصد، چکن17.53فیصد، انڈے 14.28فیصد، گندم 12.63فیصد جب کہ گندم کا آٹا ساڑھے سات فیصد تک مہنگا ہوا۔ جنوری میں بیسن کے نرخ12فیصد، سبزیوں کے11فیصد اور دال ماش کے10.29فیصد بڑھ گئے۔ گڑ 9.50 فیصد، لوبیا 8 فیصد، دال مسور7.33فیصد، مصالحہ جات 7فیصد، دال چنا 6.68 فیصد، چینی5 فیصد، پھل4 فیصد تک مہنگے ہوئے۔

ایک ماہ میں شادی ہال کے چارجز بھی5.58 فیصد بڑھ گئے۔ جنوری2019 کے مقابلے میں جنوری2020 میں ٹماٹر 157فیصد اور پیاز 125فیصد مہنگا ہوا، ایک سال میں سبزیاں94 فیصد مہنگی ہوئیں۔ جلد خراب ہوجانے والی اشیا کی قیمتوں میں78.47 فیصد تک اضافہ ہوا۔ فیول 26 فیصد، تعمیراتی سامان 18فیصد مہنگا ہوا۔ اس دوران گاڑیاں 17.35فیصد، بجلی 14فیصد، کپڑے پونے چودہ فیصد، صحت کی سہولیات 11.80فیصد جب کہ ڈاکٹر کی فیس12.67فیصد بڑھ گئی۔ تعلیم ساڑھے سات فیصد تک مہنگی ہوئی جب کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں 18.58فیصد اضافہ ہوگیا۔ حالیہ برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مہنگائی کی شرح اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ شرح سود 13.25 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ہفتے کو مقامی تھوک مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں بھی 6روپے اضافہ ہوا' شوگر ڈیلرز کا کہنا ہے کہ چینی ایکسپورٹ کرنے کے باعث مہنگی ہوئی اور اس کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

حکومت نے بحران کے پیش نظر 3لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس تیزی سے روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس تناظر میں مہنگائی کا طوفان فی الحال تھمتا ہوا نظر نہیں آ رہا اور چیزوں میں مزید اضافے خارج ازامکان نہیں۔ اطلاعات کے مطابق گاڑیوں' الیکٹرانکس اشیا' خوراک' کیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی ملکی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ مہنگائی میں نہ رکنے والا اضافہ اور معاشی سست روی اب تک کی نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے اور متواتر ایسے حالات چل رہے ہیں کہ معاشی سست روی کا دورانیہ بڑھتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کاروباری اداروں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں جس سے بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے' مینوفیکچرنگ کی شرح پیداوار میں کمی سے روز گار کے مواقعے بڑھنے کی امید بھی دم توڑتی جا رہی ہے' اگر حکومت بے روز گاری کے مسئلے پر قابو پانے میں سنجیدہ ہے تو اسے مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کرنا پڑے گا۔ موجودہ معاشی منظر ملک کو کم پیداوار' کم شرح ترقی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کی طرف لے جا رہا ہے' حکومت مہنگائی کا نوٹس تو لے رہی ہے مگر اسے قابو کرنے میں وہ بے بس نظر آ رہی ہے۔

رواں ہفتے ہونے والی مہنگائی کے پس منظر میں کون مافیا سرگرم ہے اسے اپنا کھیل کھیلنے سے روکنا حکومتی بزرجمہروں کا کام ہے مگر اس سارے عمل کے پیچھے کارفرما ہاتھ انتہائی موثر اور طاقتور معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے اس مافیا کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہیں۔ سکون قبر میں ملتا ہے یا نہیں یہ تو بعد کا معاملہ ہے مگر موجودہ زندگی میں سکون فراہم کرنا حکمرانوں کا کام ہے کیونکہ اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہے۔

مقبول خبریں