معیشت کو تازہ خون کی ضرورت

ملکی معیشت بلاشبہ مکمل بحالی کے اعصاب شکن ایکسر سائزکی انتہا پر ہے۔


Editorial February 05, 2020
ملکی معیشت بلاشبہ مکمل بحالی کے اعصاب شکن ایکسر سائزکی انتہا پر ہے۔ (فوٹو: فائل)

ملکی معیشت نے ہینڈز اپ کر دیے، اور زمینی معاشی حقائق کے مطابق حکومت کے معاشی مسیحاؤں نے آئی ایم ایف کے سامنے اپنی استدعا رکھی ہے کہ موجودہ اقتصادی وسیاسی صورتحال کے پیش نظر 4.7 ٹریلین سے زاید ٹیکس وصولیاں اس کے بس کی بات نہیں۔

میڈیا کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف سے ٹیکس ریونیو اہداف میں مزید کمی کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم رواں مالی سال 5ٹریلین روپے کا ہدف پورا کرنے کے لیے حکومت کے لیے 200 بلین روپے کا منی بجٹ پیش کرنا ناگزیر ہوگا، جب کہ دوسرے جائزہ مشن کے پہلے اجلاس میں حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ 4.7 ٹریلین سے زائد کے ہدف پر نظر ثانی ہو۔

ذرایع کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم بضد تھی کہ ایف بی آر 5.238 ٹریلین روپے کا ہدف رکھے، وزارت خزانہ کے ذرایع کے مطابق دوسرے جائزہ مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کی قیادت مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کی، یہ مذاکرات دو ہفتے جاری رہیں گے، جس میں تکنیکی اور پالیسی سطح کی بات ہوگی ، مذاکرات مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے، دورے کے اختتام پر آئی ایم ایف وفد اپنی رپورٹ جاری کرے گا۔

جائزہ مشن کی رپورٹ کے بعد آئی ایم ایف قرض کی اگلی قسط سے متعلق فیصلہ کرے گا، اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے اور حکومت نے آئی ایم ایف کے اگلے بورڈ اجلاس سے قبل منی بجٹ پیش کر دیا تو پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط مل جائے گی۔

ملکی معیشت بلاشبہ مکمل بحالی کے اعصاب شکن ایکسر سائزکی انتہا پر ہے، حکومت بظاہر معاشی مسائل کے حل کے لیے سر توڑکوششیں کررہی ہے مگر مبصرین جس خدشہ کا اظہار کرتے ہیں اس کا حکمرانوں کی اقتصادی سمت سازی کے فقدان سے گہرا تعلق ہے۔ ملک کے ممتاز ماہراقتصیات سید اکبر زیدی کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کا اصل ہدف کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی تھا اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے مگر دیگر معاشی مسائل ، اقتصادی تبدیلیوں اور اصلاحات سے انھیں کوئی سروکار نہیں تھا اوربہت ساری باریکیوں اور نزاکتوں کا ارباب اختیار کوئی ادراک ہی نہیں رکھتے۔

لہٰذا حکومت کی ڈیڑھ سال کی ڈھلمل کارکردگی کی روشنی میں آج بھی بنیادی سوال وہی ہے کہ اکنامی عوام دوست اقتصادی پالیسیوں کے گرد کب گھومے گی اور ملک ایک مستحکم ، منصفانہ اور آسودگی پر مبنی عوامی معاشی نظام کی خوشخبری عام آدمی کو کب دے گا؟

وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابوپانے کے لیے صوبوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جب کہ صوبوں کی صورتحال داخلی خلفشار کے باعث ابتر ہے، حکومت کو ان کے اتحادیوں نے سیاسی مشکل میں ڈال دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عوام توقعات کے پہاڑ تلے دبے ہوئے ہیں، انھیں غربت اور بیروزگاری نے نیم جاں کردیا ہے، ان کے لیے بجلی،گیس، ایل پی جی ، ٹرانسپورٹ کے کرایوں، تعلیمی اخراجات اور آٹے دال کی دستیابی کے لیے قوت خرید سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

نامساعد اقتصادی حالت سے تنگ آکر لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہیں، افلاس اور بیروزگاری سے تنگ آکر معاشرے میں جرائم کے نت نئے طریقے ڈھونڈے جانے لگے ہیں، احساس مروت کو کچلنے کی وارداتوں نے سماجی انتشار کو بڑھاوا دیا ہے، تعلیم ، کلچر، تہذیب اور روشن خیالی کو شہر قائد میں جعلی سکہ سمجھ کر حقارت سے ٹھوکر ماری گئی ہے تو دورافتادہ علاقوں، قصبوں، دیہات اور کچی آبادیوںمیں کون سا نظام اقدار جنم لے گا؟

حکومت کو مسائل کی کشش ثقل سے دور جانا پڑے گا جہاں بیوروکریسی، مشیر خزانہ، معاونین خصوصی اور معاشی ماہرین سرجوڑکر بیٹھیں کہ مہنگائی کاخاتمہ کیسے ممکن ہوگا۔ لوگ اس بات سے مطمئن نہیں ہونگے کہ مہنگائی کی وجوہ پر سوچنے کے لیے وزرا، مشیر اور اہم عہدوں پر فائز حکام مہنگائی کا احساس کم کرنا چاہیے یا عثمان ڈار کہتے ہیں کہ مہنگائی کی وجوہ پر بحث ہونی چاہیے، مسئلہ یہ نہیں، ان ذہین، تجربہ کار اور سنجیدہ اقدامات کا ہے جس سے عوام کو ریلیف ملے۔

لیکن ریلیف ملنا تو درکنار عوام کو ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے صدمات ملتے ہیں، مثلاً یہ واقعہ کس قدر درد انگیز ہے کہ ایک طرف آئی ایم ایف کا جائزہ مشن ملک میں موجود ہے اور دوسری جانب اخبار کی ایک خبر ہے کہ آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث گیس 15 فیصد مہنگی ہونے کا امکان ! سپریم کورٹ نے سرکلر ریلوے کو دو ہفتوں میں چلنے کے قابل بنانے کی ہدایت کی ہے ، وفاقی وزیر ریلوے نے کراچی کا دورہ بھی کیا ہے، انھوں نے سرکلر ریلوے کے مسائل ، تجاوزات کے خاتمے ، متاثرہ خاندانوں کی دوسرے مقامات پر منتقلی اور آبادکاری سمیت فنکشنل معاملات کا جائزہ بھی لیا، تاہم عوام کو اس بات کی ضمانت ریلوے کی وزارت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ پہلے کیماڑی، سائٹ اور ریلوے ٹریکس کو وزیر دیکھ کر تو آئیں، اس لیے ایک معجزہ ہوگا کہ سرکلر ریلوے ایک دو ہفتے میں کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ مافیا سے نجات دلانے میں کامیاب ہوجائے حالانکہ سرکلر ریلوے کو بلٹ ٹرین، یا اورنج ٹرین جیسی لگژری سواری نہیں ہوگی ، اس کے پھٹیچر انفرااسٹرکچر ہی کو کسی قابل بنالیا جائے تو شہریوں کے دل سے دعا ہی نکلے گی۔کوئی شہری اپنی گلی، گھر کی دہیلز پر محفوظ نہیں۔

بہر حال اس ملٹی ملین ڈالر سوال کا جواب ابھی تک موجودہ حکومت کے معاشی مسیحا قوم کو نہیں دے سکے ہیں اور میڈیا سے ملنے والی اطلاعات اور جملہ حقائق سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ہمارے معاشی امراض کا علاج صرف آئی ایم ایف یا ملنے والے بے ہنگم قرضوں سے ہوگا جس عالمی مالیاتی ادارہ سے رجوع کرنے کے لیے ابتدا سے وزیراعظم عمران خان ، پی ٹی آئی حکومت کے ماسٹر مائنڈز ، تھنک ٹینکس اور مشیران و معاونین خصوصی تیار نہ تھے۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ احساس تفاخر سے اکثر کہا کرتے تھے کہ '' قرض کی مئے'' پینے سے تو بہتر ہے کہ خود کشی کی جائے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ 72سالی سیاسی مسافرت میں حکمرانوں نے اپنی بے منزل فاقہ مستی کے رنگ لانے کا بڑا انتظار کیا ہے اور قوم اس ''قرض پسندی'' کو آج تک بھگت رہی ہے۔ ذرایع کے مطابق حکومت نے ایف بی آر کو نئے ٹیکس وصولی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی ہے ، مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران حکومت عوامی بہبود کے لیے مختص بجٹ کو پھر خرچ کرنے میں ناکام رہی، ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے اور گردشی قرضے میں کمی کے اہداف حاصل کرنے کے بجائے معاشی استحکام سے متعلقہ اعداد وشمار پورے کرنے کا ہدف حاصل کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کی مالیاتی سیکٹرکی کارکردگی بہتر بنانے کی تمام چھ شرائط جب کہ قرض سے متعلقہ دو شرائط کو پورا کر دیا ہے،لیکن حکومت نے پانچ اشاراتی اہداف میں سے چار کو پورا نہیں کیا،حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلقہ اخراجاتی اہداف پورے نہیں کیے،صحت،تعلیم ، ٹیکس ریونیو اور گردشی قرضے میں کمی کے اہداف پورے نہیں کیے گئے،نیپرا میں ڈھانچہ جاتی تبدیلی بھی تاحال نہیں کی جاسکی۔

ایک اقتصادی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک کی تقریباً آٹھ سال کی غیر تبدیل شدہ شرح سود جو 13.25 فیصد تھی اسے آخری مانیٹری پالیسی میں برقرار رکھاگیا، رپورٹ کہا گیا کہ ٹیکس وصولیابی، فوڈ پرائسز کو کنٹرول کرنے اور برآمدات میں اضافہ کے نتائج نہ ملنے پر جو ناکامیاں حکومت کے کھاتے میں آئیں ، وہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے لیے مشکل ترین فیصلہ تھا کہ ان ناکامیوں سے صرف نظر کیا جائے، رپورٹ میں کہا گیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت ''خون کی کمی'' کے جس دائمی مرض میںمبتلا ہے اس کی صحت یابی کی کوئی صائب تدبیر کی جائے۔

مقبول خبریں