اسپین کے علیحدگی پسند اراکین پارلیمنٹ کی بادشاہت پر تنقید

اسپین کے بادشاہ فلپ ششم نے پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی جس پر اپوزیشن اراکین کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔


Editorial February 05, 2020
اسپین کے بادشاہ فلپ ششم نے پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی جس پر اپوزیشن اراکین کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اسپین میں قیطالونیاکے تقریباً پچاس علیحدگی پسند اراکین اسمبلی نے ملک کی شہنشاہت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ علیحدگی چاہتے ہیں۔

گزشتہ روز ان تمام اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس میں اسپین کے شاہی خاندان کے افراد کی شرکت پر احتجاج کرتے ہوئے افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کر دیا۔ ملک کے شمالی علاقے سے تعلق رکھنے والے پانچ سیاسی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ نے جن میں قیطالونیہ اور باسک پارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں کا کہنا ہے کہ ملک کے بادشاہ کو اسپین کی سیاست میں کسی دخل اندازی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، انھیں ملکی سیاست سے یکسر باہر نکال دینا چاہیے۔

اسپین کے بادشاہ فلپ ششم نے پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی جس پر اپوزیشن اراکین کی طرف سے احتجاج کیا گیا اور بادشاہ کی پارلیمنٹ اجلاس میں شمولیت کی مخالفت کی گئی۔ اسپین کی مخلوط حکومت میں بوڈیموس پارٹی نے جو حکومت تشکیل دی ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے موقع پر انھیں علیحدگی پسند پارٹیوں سے ووٹوں کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

2020کے بجٹ اجلاس میں اخراجات کے لیے زیادہ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہو گی۔ واضح رہے اسپینش سوشلسٹ پارٹی کی مکمل حمایت شاہ اسپین کو حاصل ہے۔ اسپین میں بائیں بازو کی نئی حکومت نے گزشتہ ماہ حلف اٹھایا ۔ وزیر اعظم پیڈرو شانچیز نے کہا ہے کہ آیندہ آنے والے چند مہینے ان کے لیے بہت مشکل ہیں۔

پیر کو پارلیمنٹ کی افتتاحی تقریب میں قیطالونیا کی ای آر سی پارٹی کے نمایاں رکن اسمبلی گیبریل روہان نے آزادی پسند پارٹیوں کی طرف سے مشترکہ مینی فیسٹو باآواز بلند پڑھ کر سنایا جسے علیحدگی پسند پانچ پارٹیوں نے بھی تسلیم کیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسپین کی سیاست میں یہ پہلا موقع نہیں کہ اراکین پارلیمنٹ نے بادشاہ کے خلاف مخالفانہ جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اسپین کے بادشاہ کو خاصے طویل عرصہ سے علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہدف تنقید بنایا جاتا ہے البتہ اسپین کے بادشاہ فلپ ششم نے اپنے خطاب میں علیحدگی پسندوں کے بارے میں کوئی حوالہ دینے سے اجتناب کیا۔

مقبول خبریں