بندرگاہوں پر30 ہزار کنٹینر جمع تاجروں پر1ارب کے اضافی چارجز عائد

بندرگاہ انتظامیہ اور ٹرمینلزکاوزارت پورٹس اینڈشپنگ کے نوٹیفکیشن کے بغیر ڈیمرج وڈیٹینشن معاف کرنے سے انکار


Ehtisham Mufti November 19, 2013
کراچی: نیٹی جیٹی پل پرکنٹینرز سے لدے ٹرک وٹریلرکی قطاریں لگی ہوئی ہیں، واضح رہے کہ مذاکرات کے بعد گڈزٹرانسپورٹرز کی ہڑتال تو ختم ہوگئی ہے مگر پورٹس پرہزاروں درآمدی کنٹینرزجمع ہونے سے برآمدی کنٹینرز کے لیے جگہ ختم ہوگئی ہے اور تاجروں پر1ارب روپے سے زائد ڈیمرج و ڈیٹنشن چارجز لگ گئے ہیں ۔ فوٹو : راشد اجمیری / ایکسپریس

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے دوران ملک بھر میں 30 ہزار کنٹینرز کی نقل و حمل معطل رہی ۔

جس سے درآمدکنندگان و برآمدکنندگان کو ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کی مد میں 1 ارب 5 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کا سامنا ہے، بندرگاہ اور ٹرمینل آپریٹرز نے وفاقی وزارت پورٹس اینڈ شپنگ کے تحریری نوٹیفکیشن کے بغیر ڈیمرج اور ڈیٹینشن معاف کرنے سے انکار کردیا ہے، ہڑتال کے سبب بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنے والے درآمد و برآمد کنندگان اور مینوفیکچررز نے وفاقی وزارت پورٹس اینڈ شپنگ کے زبانی وعدے پر اعتبار کرنے کے بجائے بھاری مالیت کے ڈیمرج اور ڈیٹینشن ادا کر کے مال کلیئرکرانا شروع کردیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں اور نجی کنٹینرٹرمینلز پرتقریباً 30 ہزار کنٹینرز کی ہینڈلنگ اور منزل مقصود تک ترسیل معطل رہی جس کے سبب درآمدکنندگان وبرآمدکنندگان کی نہ صرف تجارتی، پیداواری اور برآمدی سرگرمیاں معطل رہیں بلکہ وہ بھاری مالیت کے ڈیمریج وڈیٹینشن چارجز کی صورت میں اضافی اخراجات کی زد میں بھی آگئے ہیں، وفاقی وزیربندرگاہ وجہازرانی کے وعدے کے باوجود پیر کی شام تک متعلقہ اتھارٹیز کوٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے ایام کے دوران بندرگاہوں اور نجی کنٹینر ٹرمینلز پر رکے ہوئے ہزاروں کنٹینرز پر ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز معاف کرنے کے احکام جاری نہ ہو سکے، سیکڑوں درآمدوبرآمدکنندگان وزیر بندرگاہ وجہاز رانی کے وعدے پر شکوک وشبہات کا اظہار کررہے ہیں۔



ذرائع نے بتایا کہ صنعتی خام مال ودیگر اشیا کے بعض سرفہرست درآمدکنندگان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اتوار کو ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم ہوتے ہی انہوں نے بندرگاہوں پر رکے ہوئے اپنے کنسائنمنٹس کی ڈلیوری لینا شروع کردی ہے لیکن متعلقہ اتھارٹیز نے معمول کے دیگر ہینڈلنگ اخراجات ساتھ فی 20 فٹ کنٹینر پر 7 یوم کے اوسطا 35 ہزار روپے ڈیٹینشن اور ڈیمریج چارجز بھی وصول کرنا شروع کر دیے ہیں اور ان وصولیوں کے بعد ہی انہیں ڈلیوری چالان جاری کیے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ گورنرہاؤس میں گزشتہ روز وفاقی وزیرخزانہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ٹرانسپورٹرز نمائندوں کے ہمراہ شامل کراچی چیمبر آف کامرس کے بعض اکابرین بھی وزارت خزانہ کے وعدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے شکوک کا شکار ہیں۔

کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ وفاقی وزیرخزانہ نے صرف ہڑتال ختم کرانے کے لیے انکے مطالبات کوزبانی احکام کے ذریعے پورے کرنے کا اگرچہ اعلان تو کردیا ہے لیکن اسکے بعد وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا، نہ ہی وفاقی وزیربندرگاہ جہازراں کامران مائیکل نے ڈیمریج وڈیٹینشن چارجز معاف کرنے کے اعلان کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ان شکوک وشبہات کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ٹرانسپورٹرزکے تسلیم شدہ مطالبات کو بہرصورت پورا کرنے کے لیے پیر کی شام ایک 6 رکنی امپلیمنٹیشن کمیٹی قائم کردی ہے جس میں ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے 3 اورکراچی چیمبر آف کامرس کے 3 نمائندے شامل ہیں، یہ کمیٹی تسلیم شدہ مطالبات کو دستاویزی شکل دینے کی غرض سے متعلقہ وفاقی وزارتوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ براہ راست رابطہ کرے گی۔

مقبول خبریں