لیاری اور ریاست بے بسی کی داستان

سابقہ وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی زیرِ سرپرستی لیاری امن کمیٹی کے قیام کے بعد صورتحال مسلسل خونریزی میں بدل گئی


Dr Tauseef Ahmed Khan November 19, 2013
[email protected]

CHISHTIAN: 6 سالہ یاسین لیاری کی قدیم بستی ہزارہ کالونی کے محلہ عابد آباد کا مکین ہے۔ والدین نے یاسین کو ایک پرائیوٹ اسکول میں داخل کرایا تھااور وہ اپنی گلی میں کھیل رہا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔ ایک گولی یاسین اور کاشف کو بھی لگی۔ والدین اور محلے والے فائرنگ ختم ہونے پرکاشف کی مدد کو پہنچے مگر یاسین زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگیا۔ 70 سالہ مفتی علی زمان ہزارہ مسجد کے ٹرسٹی تھے۔ لیاری میں متحارب دو گروہوں کے کارندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ایک گولی مفتی صاحب کو لگی۔ وہ اس عارضی دنیا سے ابدی دنیا کا سفر طے کرگئے۔ یوں ہزارہ کالونی جس کی آبادی 15ہزار کے قریب ہے کی گلیاں موت کی گلیوں میں تبدیل ہوچکی ہیں ۔ بڑے اپنے کاموں پر جانے سے معذور ہیں، بچوں کی اسکول کی ویگنیں علاقے میں داخل نہیں ہو سکتیں اور والدین نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں سے خوفزدہ ہیں۔یوں ایک مہینہ گزرنے کو ہے مگر فائرنگ کی آوازوں کے علاوہ کچھ اور سنائی نہیں دیتا۔

یہ معاملہ صرف ہزارہ کالونی کا نہیں ہے بلکہ بد نصیب اور مظلوم بستی لیاری کے ہرمحلے ہر گلی کا یہی حال ہے۔ اس لڑائی میں صرف ایک ماہ کے دوران 50 سے زائد لوگ مارے جاچکے ہیں جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔ اس لڑائی میں کلاشنکوف اور رائفلوں کے علاوہ مارٹر توپیں اور دستی بموں کا بھی بے دریغ استعمال ہورہا ہے۔ مسلح افراد ایسے چشمے استعمال کررہے ہیں جن سے اندھیرے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیاری میں ہونے والی قدیم گینگ وار ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ رمضان المبارک میں رات گئے منعقد ہونے والے فٹبال ٹورنامنٹ کے اختتام پر بم کا دھماکا ہوا تھا۔ اس دھماکے میں 6 کے قریب کمسن فٹبالر سمیت درجن کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے کچی آبادی کے صوبائی وزیر جاوید ناگوری اس حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ بم حملہ انھیں قتل کرنے کا منصوبہ تھا۔بعض کا کہنا ہے کہ بابا لاڈلا ٹارگٹ تھے، کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کا دائرہ کار لیاری تک وسیع ہونے کی خبریں آئیں۔ رینجرز کے دستوں نے چھوٹی چھوٹی گلیوں میں داخل ہو کر بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا اور بھاری اسلحہ برآمد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ پھر اسی آپریشن کے دوران لیاری کے معروف علاقے چاکیواڑہ کے بزنجو چوک کے قریب کالعدم امن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل ظفر بلوچ کو نامعلوم افراد موٹر سائیکل سواروں نے قتل کردیا۔ لیاری میں گینگ وار کے دو اہم کرداروں عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کے درمیان نئی لڑائی شروع ہوگئی ہے ۔ یہ لڑائی لیاری پر قبضے کی جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ مسلسل فائرنگ سے کاروبارِ زندگی معطل ہوگیا، اسکول اور کالج بند ہوگئے، اسپتال سے ڈاکٹر اور عملہ لاپتہ ہوا۔

اس صورتحال سے خوفزدہ ہو کر بہت سے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ یوں اس سال کے وسط میں لیاری میں کچھی خاندانوں کی ہجرت کے بعد بہت سے لوگ پھر سے ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان میں سے جو لوگ گھروں کو تالہ لگا گئے مسلح کارندوں نے ان کے گھروں پر قبضہ کرلیا۔ جن مکانوں میں ایک دو افراد رہ گئے فی الحال قبضے سے بچ گئے۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ دبئی، مسقط، عمان، کویت اور سعودی عرب میں کام کرنے والے لیاری کے باسیوں نے خوبصورت مکانات تعمیر کیے تھے، ان مکانات پر ایک طے شدہ منصوبے کے تحت قبضہ کیا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ لیاری کے علاقے آگرہ تاج، بہار کالونی اور سیفی لین بغدادی وغیرہ پر ایک گروہ کا قبضہ ہے اور دوسرا گروہ چاکیواڑہ، میرا ن ناکہ ، غریب شاہ اور سنگولین پر قابض ہے۔

اس طرح دبئی چوک ایک گروہ کے قبضے میں ہے اور لیاری کے لیے لیاری جنرل اسپتال کے سامنے کے علاوہ دوسرے گروہ کے مسلح کارکنوں کے قبضے میں ہے۔ جب ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقے میں جاتے ہیں تو مسلح افراد ان کے شناختی کارڈ کی جانچ پڑتال کرتے ہیں، یوں کئی لوگ اس بناء پر ہلاک کیے گئے کہ شناختی کارڈ ہونے کے باوجود ان پر دوسرے گروہ سے ہمدردی کا شبہ تھا۔ لیاری کے سینئر صحافی نادرشاہ عادل لیاری بدر کیے گئے اور وہ علاقہ چھوڑ کر گذری میں ایک کمرے کے مکان میں بطور کرایہ دار مقیم ہیں،ن م دانش کئی سال قبل امریکا سدھار گئے، لیاری سے تعلق رکھنے والے رحمن ڈکیت 2010 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوا۔ اس وقت سے لیاری میں پولیس کا عمل دخل ختم ہوگیا ہے۔

پولیس والے پہلے بڑی سڑکوں پر نظر آجاتے تھے اور گلیوں میں جانے سے گریز کرتے تھے مگر اب لیاری سے پولیس مکمل طور پر غائب ہے۔ لیاری کے رہنے والے کہتے ہیں کہ جب پولیس اور رینجرز کا عملہ کسی مخصوص علاقے میں آپریشن کرتا ہے تو پولیس والے ٹی وی چینلز کے کیمروں کی لائٹوں میں ہی نظر آتے ہیں۔ اسی طرح رینجرز وہاں نظر نہیں آتی۔ لیاری کے علاوہ بہار کالونی سے متصل پی اے ایف بیس مسرور ہے جو پاک فضائیہ کے سدرن کمانڈکا سب سے بڑا اڈہ ہے اور لیاری سے متصل کیماڑی کی بندرگاہ ہے جس کے ساتھ تیل کے وسیع ذخائر کو محفوظ کرنے کے لیے آئل ڈپو تعمیر کیے گئے ہیں۔ پھر بلوچستان کو ملانے والی آر سی ڈی ہائی وے لیاری کے قریب سے گزرتی ہے۔ بہار کالونی کے مکین کہتے ہیں کہ ان کے گھر سے 5 کلومیٹر دور پیپلز اسٹیڈیم ہے۔ اس اسٹیڈیم میں رینجرز کا ہیڈ کوارٹر ہے مگر رینجرز حکام کے لیے لیاری کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں ''فرینڈلی آپریشن'' جاری ہے۔

کچھ سال پہلے نامعلوم افراد نے بلوچ اتحاد کے انور بھائی جان کو قتل کیا تھا۔ پولیس قاتلوں کو گرفتار نہ کرسکی مگر مختلف گروہوں کے درمیان لڑائی تیز ہوگئی۔ اس لڑائی سے لیاری کا پرامن سیاسی کلچر متاثر ہوا۔ اس دوران بلوچستان میں قوم پرستوں کی سرگرمیاں تیز ہوئیں۔ بلوچستان کی آزادی کے خواب دیکھنے والے نوجوانوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ عسکری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مخصوص طریقہ کار پر عمل کرنا شروع کیا۔ تاریخ میں پہلی دفعہ بلوچستان میں چلنے والی تحریک کا لیاری مرکز نہیں بن سکا ۔ علیحدگی پسندوں کو گینگ وار والوں نے خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کیا۔ پیپلز پارٹی کی رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو جب اکتوبر 2007 میں اپنی جلاوطنی ختم کر کے واپس وطن آئیں۔ ان کا کراچی ایئرپورٹ پر تاریخی خیر مقدم ہوا۔

کہا جاتا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے حفاظتی دستے میں لیاری گینگ وار میں شامل ایک گروہ کے اہلکار شامل ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے بعض مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کی مکمل حمایت سے 2008 میں انتخابات میں حصہ لیا۔ پھر ایک گروہ کے سربراہ رحمن بلوچ کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد حالات تبدیل ہوگئے۔ اس قتل کا الزام پیپلز پارٹی پر عائد ہوا۔ یوں لیاری میں ایک نیا تضاد ابھر کر سامنے آیا۔ پیپلز پارٹی کے سابقہ وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی زیرِ سرپرستی لیاری امن کمیٹی کے قیام کے بعد صورتحال مسلسل خونریزی میں بدل گئی۔ اب کراچی میں ایک اور لسانی تضاد شدت اختیار کرگیا۔ اس تضاد نے بلوچ اور اردو بولنے والی برادریوں میں خلیج بڑھا دی۔ پھر بھتہ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں پرانے شہر کے کاروباری علاقے سے ہوتی ہوئیں پورے شہر میں پھیل گئیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اس نئے تضاد کے خاتمے کے لیے کوشش کی۔ امن کمیٹی پر پابندی لگادی گئی۔

در اصل لیاری میں ایک ناقص حکمت عملی کے تحت آپریشن ہوا۔ گینگ وار کی بنیاد پر بلوچ اور کچھی برادری ایک دوسرے کے مقابلے میں آگئیں ۔ پیپلز پارٹی کے مرنجان مرنج سابق رکن قومی اسمبلی واجہ کریم داد کے سفاکانہ قتل سے صورتحال زیادہ خراب ہوئی۔ اس کے ساتھ لیاری سے ان سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی وارداتیں بڑھ گئیں جو بلوچستان کی علیحدگی کا نعرہ لگانے والے گروہوں سے ہمدردی رکھتے تھے مگر لیاری مکمل تباہی کی طرف سرکنے لگا۔ پیپلز پارٹی جب 1967 میں قائم ہوئی تھی تو اس کی سب سے زیادہ مضبوط تنظیم لیاری میں قائم ہوئی تھی۔ لیاری کے مکینوں نے 1970سے 2013 تک ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ہی کامیاب کرایا۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں مگر جب اسٹیبلشمنٹ نے لیاری کو غیر سیاسی بنانے اور جمہوری تحریک سے اس کا راستہ منقطع کرنے کے لیے گینگ وار کی سرپرستی کی تو پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس صورتحال سے سمجھوتہ کرلیا۔ یوں لیاری کے عوام گینگ وار کے پسِ پشت حکمت عملی کا اندازہ نہیں لگاسکے۔

اب گزشتہ 3 ماہ سے کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹارگیٹڈ آپریشن کی بناء پر صورتحال بہتر ہے مگر لیاری میں صرف ایک ماہ کے دوران فائرنگ کے متعدد واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 50 سے زائد ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کا مشترکہ ٹارگیٹڈ آپریشن لیاری میں نظر نہیں آتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لیاری کو آپریشن سے مستثنیٰ قرار دے کر مسلح گروہوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ان گروہوں کی سرپرستی مقتدر خفیہ ہاتھ کررہے ہیں اس لیے ان کی سرگرمیوں کے سدباب کے لیے کچھ نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر کوئٹہ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے اختتام تک لیاری میںلڑائی جاری رہے گی جس کا نقصان عوام اور کراچی کو ہوگا۔ لیاری کے عوام ریاست کے منتظر ہیں مگر ریاست کی ترجیح لیاری نہیں ہے۔ یہ سب کچھ پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہورہا ہے مگر لیاری والوں کے پاس ماتم کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔